دَر کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر یہ شور سا کی…
دَر کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر
یہ شور سا کیسا ہے؟ مری خاک سے باہر
رُوداد ِ گزشتہ تو سُنی کوزہ گری کی
فردا کا بھی کر ذکر کہ ہے چاک سے باہر
خوش آیا بہُت عشق کو یہ جامہء زیبا
نکلا نہیں پھر ہجر کی پوشاک سے باہر
چاہا تھا مفَر دل نے مگر زلف ِ گرہ گیر
پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر
سُنتا ہوں کہیں دُور سے نقّارہ صبا کا
اتری ہے بہار اب کے بھی خاشاک سے باہر
کچھ دیر ٹھہَر ‘ دیکھ لے آدم کا تماشا
نا پید ہیں یہ رونقیں اِس خاک سے باہر
موجود خلا میں ہیں اگر اور زمینیں
افلاک بھی ہوں گے کہیں افلاک سے باہر
( اعجاز گُل )