دو اقتباسات کرشنا سوبتی کے ہندی ناولٹ یا طویل م…
دو اقتباسات کرشنا سوبتی کے ہندی ناولٹ یا
طویل مختصر کہانی " مرتیو مرجانی" کے ترجمے
(مترجم: مخمور سعیدی) سے- پہ اقتباسات
افسانے کے پیش لفظ وشوناتھ ترپاٹھی (ہندی کے
مشہور مصنف،بیس تصنیفات جن میں ایک
یادداشت اور کئی ادبی تنقیدوں اور نظموں کے
مجموعے شامل ہیں) کے زورِ قلم کا ثمر ، باذوق
قارئین کی خدمت میں پیش ہیں –
١) کسی تخلیق میں ظاہری کردار تو بہت سے ہوتے
ہیں لیکن ایک پوشیدہ کردار بھی ہوتا ہے جو ہر
جگہ پوری تخلیق میں جاری و ساری رہتا ہے اور
شاید سب سے زیادہ سرگرم کردار وہی ہوتا ہے –
وقت جو غیر جانبدارانہ انداز میں صورتِ حالات
کو بدلتا رہتا ہے – وقت کی کارفرمائیاں جو کسک،
جو چبھن ،جو تڑپ پیدا کرتی ہیں ، وہ چبھن اور
وہ تڑپ کوئی دوسری چیز انسان میں پیدا نہیں
کرسکتی – وقت ہمارے نظامِ اجتماعی میں اپنے
آپ شامل رہتا ہے –
*
٢) " ہائے! ابھی اُس دن تو دودھ کے دانت نکلے
تھے اور آج ایک جھٹکے سے اُکھڑ بھی گئے – اتنا
لمبا سفر اتنی جلدی کٹ گیا " —– " ابھی اُس
دن" جیسے وہ دن اتنا نزدیک ہو کہ گورداس
[افسانے کا اہم کردار : ا – ر] ہاتھ بڑھائیں گے اور
اسے چھو لیں گے لیکن اس دن کی علامت "دانت
تو جھٹکے سے اکھڑ گئے" – ماضی دور ہے ، اسے
نزدیک لے آئی ہیں یادیں – یادیں جو شیشے کی
دیوار کی طرح ہیں ، دیوار کے اس طرف جو
کچھ ہے دیکھ لیجیے چھو نہیں سکتے – بقول
شاعر :
دیکھ لو ، چھونا تو اس پیکر کا مشکل ہے میاں
بیچ میں شیشے کی اِک. دیوار ہے حائل. میاں
یادوں کی اس شیش محل میں امّاں کی ہلدی
لگی ادھ میلی اوڑھنی کے چھوٹے سے گھونگھٹ
سے جھانکتا ان کا چہرہ ،وقت کی یہ پرچھائیں
اور اس کی پیدا کی ہوئی بے چینی – "ارے،کہاں
چلے گئے وہ سُہانے دن اور کہاں گئے اپنے امّاں
باوا " –
*****
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2847883665442148