حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی دہلوی کی وفات March 15, …
حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی دہلوی کی وفات
March 15, 2015
سیّد خواجہ حسن ثانی نظامی 15 مئی 9131 کو پیدا ہوئے ۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بی. اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اپنے والد خواجہ حسن نظامی کا جاری کردہ رسالہ ماہنامہ ’منادی‘ کو 1955 سے وہ بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کیا کرتے تھے۔ وہ انتہائی نیک، شریف اور ملنسار انسان تھے۔ وہ انجمن ترقی اردو (ہند) کے بہی خواہوں میں تھے۔خواجہ حسن ثانی نظامی کا نام علم تصوف کے تعلق سے پوری دنیا میں عزت و احترام سے ہمیشہ لیا جاتا رہا ہے۔ ہندستانی ادب اور تہذیب و ثقافت کے وہ ہمیشہ امین رہے۔
حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی دہلوی دہلی میں انتقال فرما گئے، حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی کی عمر 89 سال تھی، انکے دل کے 5 بائی پاس آپریشن ہوچکے تھے۔ انہیں درگاہ حضرت نظام الدین اولیاؒ کے قبرستان میں انکے والد محترم خواجہ حسن نظامی کے قدموں میں سپردخاک کردیا گیا ہے۔
یوں تو انہوں نے تصوف پر کئی بے مثال کتب تحریک کیں مگر انہیں سب سے زیادہ عالمگیر شہرت حضرت نظام الدین اولیاؒ کے ملفوظات ’’فوائد الفواد‘‘ کے سات صدیوں بعد فارسی سے اُردو میں ترجمے سے حاصل ہوئی۔ وہ دہلی کی گمشدہ تہذیب کی آخری نشانی اور علم کی شمع کی علامت تھے۔ انکی موت سے علم و ادب کا زریں باب تہہ خاک ہوگیا