توبچابچاکہ نہ رکھ اسے،تیرا آئینہ ہےوہ آئینہ جوشکست…


توبچابچاکہ نہ رکھ اسے،تیرا آئینہ ہےوہ آئینہ
جوشکستہ ہوتو عزیزترہے نگاہِ آئینہ ساز میں
علامہ محمد اقبالؒ
………………….
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سر آئینہ میرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
سلیم کوثر
…………….
عکسِ جمالِ یار بھی کیا تھا کہ دیر تک
آئینے قمریوں کی طرح بولتے رہے
سراج الدن ظفر
…………
آئینہ اپنے سامنے سے ہٹا
یہ نہ ہو خود سے پیار ہو جائے
– فنا بلند شہری –
………
انداز اپنے دیکھتے ہیں آئینہ میں وہ
اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کوئ دیکھتا نہ ہو
– نظام شام پوری –
………
یہ آئینہ مجھے کس رخ پڑا نظر آیا
میں اپنی عمر سے کتنا بڑا نظر آیا
– رؤف امیر –
………..
آئینہ جب نہ انکے ہاتھـ آیا
مسکرا کے میری غزل مانگی
– گمنام –
……..
تو نے کہا نہ تھا کہ مرا آئینہ ہے تو
میں منتظر رہا ترے عکس جمیل کا
محسن نقوی
……….
آنکھ آئینہ رو چھپاتے ہیں
دل کو لے کر مکر گئے شاید
میر تقی میر
………
جب کسی سے کو‏ئ گلہ رکھتا
سامنے اپنے آئینہ رکھتا
– ندا فاضلی
……..
تمام آئینے دیوار سے اترتے رہے
ترے جمال کی حیرت میں رقص کرتے ہوئے
عارف امام
……..
اپنی آگ کو زندہ رکھنا کتنا مشکل ہے
پتھر بیچ آئینہ رکھنا کتنا مشکل ہے
– عشرت آفرین –
…….
سامنے دنیا بھر کے غم ہیں اور ادھراک تنہا ہم ہیں
سیکڑوں پتھر اور اک آئینہ کب تک آخر کب تک آخر
– کاشف اندوری –
…….
جوش تکلیف تماشا محشرستان نگاہ
فتنۂ خوابیدہ کو آئینہ مشت آب تھا
مرزا غالب
………
تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع
میں آئینہ ہوں‌ مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے
– گمنام –
……..
یہ آئینہ ہے یہ تو سچ ہی کہے گا
کیوں اپنی حقیقت سے کترا رہے ہو
– سید راہی –
……
اپنی صورت لگی پرائی سی
جب کبھی ہم نے آئینہ دیکھا
– سدرشن فاکر –
……..
غزل میری وہ آئینہ ہے جس میں جلوہ گر ہو کر
حقیقت کا بھی چہرہ سوزِ پنہاں سے دمکتا ہے
– فراق گورکھپوری
……….
جڑ دو چاندی چاہے سونے میں
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں
– کرشن بہاری نور –
………
دل کے آئینہ میں اس طرح اترتی ہے نگاہ
جیسے پانی میں لچک جائے کرن کیا کہنا
– فراق گورکھپوری –
………
یہ آئینے سر دیوار جاں سنورتے ہیں
ترے جمال کو حیرت میں ڈالنے کے لیے
شاہدکمال
……
وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے
کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے
– گمنام
….
پیشکش عمر جاوید خان



Comments

24 responses to “توبچابچاکہ نہ رکھ اسے،تیرا آئینہ ہےوہ آئینہ جوشکست…”

  1. روبرو عرضِ حال کرتے ہیں
    آئینے بھی کمال کرتے ہیں

  2. جناب اقبال ر. ح کے اشعار کو سمجھنے کے لیے آپ کو دل چاہیئے کیونکہ اس شعر میں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ٹوٹے ھوے دل کوپسند کرتا یے

  3. اپنا چہرہ نہ بدلا گیا
    آئینے سے خفا ھو گئے

  4. جاؤ ان کمروں کے آئینے اٹها کر پهنک دو
    بے ادب یہ کہہ رہے ہیں ہم پرانے ہو گئے

    بشیر بدر

  5. یہ آئینے نہ دیں گے تجھے تیرے حسن کی خبر
    کبھی میرے دل سے پوچھ کہ کتنا حسین ہے تو

  6. آئینہ دیکھ کر تسلی ہوئی
    ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی
    گلزار

  7. حسن پر نکھار آگیا ۔
    آئینے سیاہ ہو گئے ۔

  8. یہ آئینہ تجھے تیری خبر دے نہ سکے گی,,!
    آ دیکھ! میری آنکھ سے تو کتنی حسین ہے,,!

  9. انداز اپنے دیکھتے ہیں آئینے میں وہ،
    اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو!

  10. ظرف آئینہ کہاں اور تیرا حسن کہاں
    ہم تیرے چہرے سے آئینہ سنوارا کرتے

    عبید اللہ علیم

  11. تو اپنی شیشہ گری کا ہنر سنبھال کے رکھ
    میں آئنہ ہوں مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے
    محترم فراز صاحب کا شعر ہے

  12. اللہ رے حفیظ انکا ذوق خود آرائی
    جب زلف سنواری ہے اک آیئنہ ٹوٹا ہے

  13. آئینہ دیکهہ کے بولے وه سنورنے والے
    آج بے موت مریں گے میرے مرنے والے

  14. تجھے اب بھی مرے خلوص کا نہ یقین آئے تو کیا کروں
    ترے گیسوں کو سنوار کر تجھے آیئنہ بھی دکھا دیا

  15. میں نے تو بعد میں تهوڑا تها اسے
    آئینہ مجهہ پہ ہنسا تها پہلے

  16. باقیوں کا تو پتہ نہیں جناب لیکن علامہ اقبال کا شعر کسی اور دنیا کا ہے۔

  17. وہ آئنے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے۔
    خدا کسی کسی کو یہ کمال دیتا ہے ۔

  18. دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
    جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

  19. Dil k aaeene main hai tasveer e yar
    Jab zara gardan jhukai dekh li

  20. جب کوئی کسی سے گلہ رکھنا۔
    سامنے ائینہ رکھنا

جواب دیں