ایک سحر سا دل میں موجزن ہو جیسے
کرونا کی پابندیوں اور معاشی مسائل کے پیشِ نظر سیرو سیاحت کا سلسلہ کافی عرصے سے منقطع چلا آ رہا تھا، خاص طور پر فیملی کے ساتھ کوئی بھی پروگرام بنانا مشکل نظر آ رہا تھا۔ ان ساری مشکلات کے باوجود دل میں ارادہ کیا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں فیملی کے ساتھ سیر پہ ضرور جانا ہے۔ بالآخر ستمبر بالکل قریب آ گیا اور تنگی داماں کے باوجود راہ سیاحت پر چل نکلنا طے پا گیا۔ بہت سارے سیاحتی مقامات زیر غور آئے۔ آخر کار قرعہ سدھن گلی کشمیر کے نام ہی نکلا۔ گھر میں کھانا تیار کیا اور کینز میں محفوظ کر لیا گیا۔ گاڑی کی ڈگی کیمپنگ سے متعلقہ سامان سے بھری اور منگل اور بدھ کی درمیانی رات بارہ بجے بطرف اسلام آباد سفر کا آغاز کیا اور صبح بھائ کے گھر پہنچ کر فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد چند گھنٹے نیند کی آغوش میں گزارے۔ گیارہ بجے کوٹلی ستیاں کی طرف روانہ ہو گئے۔ ایک بجے دھنوئ ہل ٹاپ پر پہنچ گئے۔ دھنوئ کا جنگل ابھی انسانوں کے ظلم سے بچا ہونے کی وجہ سے سر سبز ہے اور پہاڑ پائن کے درختوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ یہاں کی صاف ستھری فضا اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے اس ساری خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا دئیے۔ بچے تو جیسے اس خوبصورت جگہہ کے جادو میں کھو گئے اور خوب تصویریں کھینچیں۔ دل چاہتا تھا کہ بس سارا وقت یہیں گزار دیا جائے۔ لیکن وقت کی تنگی کے پیش نظر دھنوئ ہل ٹاپ سے کوٹلی ستیاں شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ رستے میں کوہاٹی بازار میں بنی خوبصورت مسجد میں نماز ادا کی جہاں سے کوٹلی ستیاں صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ کوٹلی ستیاں بازار سے ہوتے ہوئے چیوڑہ ہل ٹاپ کی طرف گامزن ہو گئے۔ کوٹلی ستیاں بازار سے لیکر اوپر ٹاپ تک رستہ خوبصورت جنگل سے گزرتا ہے جو سیر کا مزہ دوبالا کر دیتا ہے۔ ٹاپ سے کچھ پہلے جہاں پر سڑک تنگ ہونا شروع ہو جاتی ہے، وہاں گاڑی پارک کی اور اگلے دس منٹ پیدل چل کر چیوڑہ ہل ٹاپ پہنچ گئے۔ یہاں ہل ٹاپ پر نا صرف ٹھنڈی ہوا نے ہمارا استقبال کیا بلکہ تا حد نگاہ پھیلے قدرتی حسن اور نیچے نظر آنے والی خوبصورت وادیوں نے ایک مسحور کن تاثر قائم کر دیا۔ اس اونچائ پہ بنے ہٹ میں بیٹھ کر گھر کا بنا پراٹھا رول کھایا اور چائے والے سے چائے لے کر پی۔ اس حسین اور سر سبز سیاحتی مقام پر چائے پینے کا لطف دوبالا ہو گیا۔ بچوں نے اردگرد گھوم پھر کر خوب مزہ کیا۔ جوں جوں شام قریب آتی گئ، ہوا مزید یخ بستہ ہو گئ۔ نہ چاہتے ہوئے چیوڑہ ہل ٹاپ کو خیر باد کہا اور گاڑی میں بیٹھ کر واپس اسلام آباد آ گئے۔ اگلی صبح ناشتے کے بعد سدھن گلی کے لئے روانہ ہوئے۔ اسلام آباد ایکسپریس وے سے کہوٹہ روڈ پر داخل ہوئے اور کہوٹہ پہنچ کر گاڑی کا ٹینک فل کروانے کے بعد براستہ آزاد پٹن روڈ راولاکوٹ پہنچے۔ راولا کوٹ میں مختصر قیام کے بعد باغ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے راستے کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا گیا۔ باغ سے بالائی جانب سدھن گلی روڈ پر داخل ہوئے۔ جوں جوں اونچائی بڑھتی گئی موسم میں واضح تبدیلی محسوس ہوئ۔ ہوا میں خنکی اور ٹھنڈک کا احساس بڑھ گیا۔ سدھن گلی پہنچ کر اسکے خوبصورت بازار کو عبور کیا تو پتہ چلا کہ گاڑی گنگا چوٹی کے بیس کیمپ تک جا سکتی ہے۔ بغیر رکے سفر کو جاری رکھا اور ہر قدم کے ساتھ مناظر حسین سے حسین تر ہوتے چلے گئے۔ گنگا چوٹی بیس کیمپ پر پہنچے تو یوں گماں ہوا جیسے کسی علیحدہ ہی خطے میں آ گئے ہیں۔ اردگرد پہاڑوں کی سر سبز چوٹیاں، تا حد نگاہ نیچے آباد شہروں کا نظارہ اور جھٹ سے چھا جانے والے بادلوں کے جمگھٹے میں لگا کہ شاید ہی کوئ خطہ اس سے زیادہ حسین ہو۔ اس بیس کیمپ میں ٹینٹ ہوٹلز موجود ہیں جہاں رہنے اور کھانے پینے کا مناسب انتظام ہے۔ ہم لوگوں نے اپنا کیمپ لگانے کے لیے ایک ایسی جگہہ کا انتخاب کیا جہاں نیچے سر سبز میدان اور مزید آگے سدھن گلی اور باغ شہر کا نظارہ بہت ہی خوبصورت لگتا ہے۔ بڑے بیٹے کے علاوہ باقی فیملی کے لئے یہ کیمپنگ کا پہلا تجربہ تھا اسلئے بچے بڑے پرجوش تھے۔ سب نے ملکر کیمپ آراستہ کیا اور گاڑی سے سارا سامان نکال کر اس میں رکھا۔ کیمپ میں سلنڈر جلا کر سالن گرم کیا اور روٹیاں خرید کر سب نے خوب مزے سے کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد بچوں نے گھڑ سواری کی اور اردگرد کی چھوٹی چوٹیوں پر گھومنا پھرنا شروع کر دیا۔ جیسے جیسے شام قریب آتی گئی سردی کی شدت بہت بڑھ گئ۔ سب نے جیکٹس پہن لیں اور خوب خوب مزہ کیا۔ پھر ایک دور چائے کا چلا اور کچھ گھومنے پھرنے اور گپ شپ کے بعد سونے کے لئے سب سلیپنگ بیگز میں گھس گئے۔ صبح فجر کی نماز پڑھنے کے بعد کیمپ میں ناشتہ تیار کیا گیا اور مزے مزے سے نوش کیا گیا۔ بعد ازاں ایک بیک پیک میں پانی اور کھانے کی چیزیں رکھ کر گنگا چوٹی کی طرف ہائیکنگ کا آغاز ہوا۔ مقامی افراد سے پتہ چلا کہ سامنے نظر آنے والی چوٹی گنگا چوٹی نہیں بلکہ اس کے بعد ایک اور چوٹی عبور کرنے کے بعد جو چوٹی سب سے اونچی نظر آئے گی وہ گنگا چوٹی ہے۔ بہرحال اللہ کا نام لیکر ہائیک کا آغاز کر دیا۔ ہم لوگوں نے اوپر جانے کے دو ٹریکس میں سے ایک ٹریک کا انتخاب کیا جو نسبتاً چھوٹا لیکن زیادہ ڈھلوان والا ہے۔ یہاں سے جب ہم اوپر چڑھنے لگے تو ناصرف وہاں سے نیچے بیس کیمپ بہت بھلا دکھائ دیا بلکہ بائیں طرف نیچے گہرا جنگل بھی نظر آیا۔ پہلی اونچائی پر پہنچنے کے بعد سامنے دیکھا تو مزید لمبا ٹریک نظر آیا جو آہستہ آہستہ اوپر کو اٹھتا ہے۔ اونچائی بڑھتی چلی جا رہی تھی اور منظر بھی خوب تر ہوتے چلے جا رہے تھے۔ دائیں طرف ایک چوٹی ساتھ ساتھ چل رہی تھی تو بائیں طرف گہرائی میں خوبصورت وادی ساتھ چل رہی تھی۔ مزید آگے نظر دوڑائیں تو سر سبز پہاڑوں کی چوٹیاں دور تک پھیلی نظر آتی ہیں۔ قدرتی حسن میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس چوٹی کو عبور کیا تو سامنے نسبتاً مشکل اور ذیادہ اونچائی پر گنگا چوٹی نظر آنے لگی۔ بچے بار بار اردگرد کی تصویریں اتار رہے تھے۔ سامنے ایک بڑا میدان نظر آ رہا تھا. اس میدان میں بھی کیمپنگ کی جا سکتی ہے۔ میدان کے دائیں طرف نیچے مختلف گاؤں اور باغ شہر کی آبادی گھنے درختوں کے سائے میں بہت بھلی محسوس ہو رہی تھی۔ اب ہم لوگ گنگا چوٹی کے سب سے اونچے مقام کہ طرف اوپر چڑھنے لگے۔ اردگرد کے مناظر مزید واضح ہو گئے اور تا حد نظر بیمثال قدرتی حسن آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔ چوٹی کا آخری حصہ عبور کرنا خاصا مشکل تھا۔ حفاظتی نکتہ نظر کے تحت ہم لوگ چوٹی سے کچھ پہلے ایک جگہہ پر بیٹھ گئے۔ وہاں نا صرف ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بلکہ آہستہ آہستہ بادلوں نے ہر طرف ڈھیرے ڈال لیے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے جنت کا کوئ ٹکڑا آسمان پر اتر آیا ہو۔ وہاں بیٹھ کر تو جیسے سب اس منظر میں کھو گئے۔ دل چاہتا تھا کہ بس یہیں بیٹھے رہیں۔ لیکن واپسی کا سفر تو بہر حال کرنا ہی پڑتا ہے۔ واپسی پر نیچے اترتے ہوئے ایک بچے سے خالص دودھ خریدا جو وہ اسی وقت بھاگ کر نیچے وادی میں موجود اپنے گھر سے لے آیا۔ واپس اپنے کیمپ پہنچ کر بریانی پکائ اور خوب مزے سے کھائ۔ دیکھتے دیکھتے نا صرف ہوا بہت تیز چلنے لگی بلکہ ہر طرف گہرے بادل بھی چھا گئے۔ سب نے ملکر کیمپ اکھاڑا اور اسے نیچے کی طرف منتقل کر دیا کیو نکہ مقامی افراد نے بتایا کہ وہاں طوفانی بارش ہوتی ہے جسمیں چلنے والی ہوائیں ہمارے کیمپ کو اس اونچائی پر اڑا لے جا سکتی ہیں۔ رات کو گھپ اندھیرے میں وہاں ایک مقامی منشاد بھائ,جن سے خوب دوستی ہو گئی، کے ساتھ سامنے ایک چھوٹی پہاڑی پر چڑھ گئے اور وہاں سے دور بھارتی چوکیوں پر جلتی روشنی دیکھی۔ اسکے علاوہ بائیں طرف دور رات کو بجلی کی روشنیوں سے ٹمٹماتے گھروں کا نظارہ کیا۔ بعد ازاں کیمپ میں آ کر سو گئے۔ صبح اٹھکر ناشتہ کیا اور کیمپ اکھاڑ کر سارا سامان اٹھا کر گاڑی کی ڈگی میں رکھا۔یہاں ایک بات قابلِ ذکر ہے کہ جب بھی کشمیر جانا ہوا، وہاں کے مقامی لوگوں کو بہت ہی مہمان نواز اور محبت کرنے والا پایا۔ مقامی افراد کو خیر باد کہا اور واپسی کا رستہ اختیار کیا۔ لیکن واپسی جانے کے لیے ہم نے باغ سے دوسرے رستے کا انتخاب کیا۔ باغ شہر سے باہر نکل کر دھیر کوٹ کے رستے میں غازی آباد کے مقام پر ایک ہوٹل پر بیٹھ گئے اور وہاں سے روٹیاں خرید کر اپنے کین میں سے سالن نکال کر کھایا۔ ہوٹل کے باہر سڑک کے کنارے بیٹھ کر اس کھانے سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ سڑک دونوں اطراف سے نہایت سر سبز درختوں سے بھری ہوئ تھی اور مزید اطراف میں پہاڑی سلسلہ خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا تھا۔ کھانے کے بعد کچھ دیر تک وہیں بیٹھے رہے اور پھر سفر کا سلسلہ دوبارہ سے شروع ہو گیا۔ دھیر کوٹ سے ہوتے ہوئے کوہالا اترے اور پھر وہاں سے مری کی طرف رخ موڑ دیا۔ بذریعہ مری ایکسپریس وے اسلام آباد پہنچ گئے جہاں ایک دن قیام کے بعد لاہور واپس آ گئے۔ گھر تو واپس پہنچ گئے لیکن دل اور دماغ گنگا چوٹی کے سحر سے آزاد نہیں ہو سکے۔