پیر • 5 اکتوبر 2026ء
📚 کتب خانہ ۱۴۸٬۸۹۴

*اپنی زبان – مولانا ابوالکلام آزادؒ* وائسرائے ہند…

*اپنی زبان – مولانا ابوالکلام آزادؒ*

وائسرائے ہند مولانا ابوالکلام آزاد سے ملاقات کرنے ان کے گھر آتا ہے، اور اس کے ساتھ ترجمان بھی آتا ہے۔

گفتگو کے دوران ترجمان انگریزی کا ترجمہ کچھ درست نہ کر سکا، جس پر مولانا آزاد نے اس سے کہا:
*”یہ اس طرح نہیں، اِس طرح ہے۔”*

گفتگو کے اختتام پر وائسرائے ہند نے مولانا سے فرمایا:
*”آپ کو انگریزی آتی ہے تو انگریزی میں گفتگو کیوں نہیں کی؟”*

مولانا آزاد نے بڑا عجیب جواب دیا، فرمایا:

> *”آپ پانچ سو میل دور سے آ کر اپنی زبان نہیں چھوڑتے، میں اپنے گھر میں کیسے اپنی زبان چھوڑ دوں۔”*

یہ اقتباس ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو انگریزی کے دو لفظ سیکھ کر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔

مولانا آزاد کو انگریزی، عربی، فارسی، اردو پر عبور تھا، لیکن انہوں نے غلام ہندوستان کے وائسرائے کے سامنے بھی اپنی زبان پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

*اپنی زبان زندہ ہے تو قوم زندہ ہے۔*

انتخاب :-: ابوالحسن علی الندوی