آج کی کتاب:کافکا بر لبِ ساحل مصنف: ہاروکی موراکامی مترجم: نجم الدین احمد انتخاب …
آج کی کتاب:کافکا بر لبِ ساحل
مصنف: ہاروکی موراکامی
مترجم: نجم الدین احمد
انتخاب اور ٹاٸپنگ:فرمان اللّٰہ
عالمی شہرت یافتہ اور نوبیل انعام کے لیے کٸی مرتبہ نامزد ہونے والے جاپانی ناول وافسانہ نویس ہاروکی موراکامی کا یہ ناول ”کافکا بر لبِ ساحل“ دنيا بھر میں نہ صرف بے حد پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا بل کہ اس نے مقبوليت کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ اس کے انگریزی ترجمے کے اب تک متعدد ایڈیشن شاٸع ہوچکے ہیں اور اسے بہت سی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔اس ناول کو ٢٠٠٦ میں ناولوں کے ورلڈ فنتاسی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
کافکا بر لب ساحل میں ایک پندرہ سالہ لڑکا جو اپنے خاندانی نام تامورا سے قبل اپنے اصل نام کے بجاۓ فرضی نام کافکا اپنا لیتا ہے ۔اپنے باپ کی ایک خوف ناک بددعانما پیش گوٸی سے بچنے کے لیے گھر سے بھاگ نکلتا ہے۔جو یہ تھی کہ وہ اپنی ماں اور اپنی بڑی بہن کے ساتھ جنسی روابط قاٸم کرے گا یعنی ادبی زبان میں ایڈپساٸی بددعا۔جب کہ اس کی ماں اس کی بہن کو اپنے ہمراہ لے کر اُس وقت گھر چھوڑ کر جاچکی ہوتی ہے جب وہ محض ایک چار سالہ بچہ تھا اور اب اس کا کوٸی اتا پتہ نہیں۔
کہانی صرف کافکا تامورا کے بد دعا سے بچ نکلنے کی تگ ودَو کے پیچھے ہی نہیں گھومتی ۔ناول کا دوسرا مرکزی کردار ”ناکاتا“ کا ہے جو زمانہ جنگ میں ،جب وہ محض ایک بچہ ہوتا ہے کسی عسیرالفیہم شے کے زیر اثر طویل بے ہوشی کے بعد ہوش میں آنے پر تہ چلتا ہے وہ اپنی یاداشت اور بول چال کی صلاحیتیں اور اپنے وجود کا نصف سایہ کھو بیٹھا ہے، ذہنی ودماغی استعدادِ کار کے حوالے سے کم ترسطح پر رہ گیا ہے۔گو وہ دھیرے دھیرے بات چیت کرنے کا اہل ہو جاتا ہے لیکن اس کی پوری یادداشت کبھی نہیں لوٹتی ۔البتہ اس میں ایک ایسی صلاحیت جنم لے لیتی ہے جو انسان کے احاطہ ادراک وفہم سے بالاتر چیز ہے وہ بلیوں کے ساتھ گفتگو کرنے کی صلاحیت ۔اس طرح ناول میں اس کاایک نادرِ روزگار قسم کا کردار ابھر کر سامنے آتا ہے ۔ان سب کا سبب ناکاتا ک بچپن میں داخلے کا پتھر کھول لینا ہوتا ہے جو بعد میں از خود بند ہوکر دنیا کے معتدبہ معاملات کو ان کی معمول کی نہج سے ہٹانے کاباعث بنتا ہے۔
کواچی تامورا ۔۔۔کافکا تامورا کا باپ ایک معروف مجسمہ ساز یقیناً ناول کا سب سے پُر اسرار کردار جس کی شخصیت کی گھتیاں کھولنے کے لیے ناول اپنا عمیق اور ذہنی چستی سے مطالعے کی دعوت دیتا ہے۔۔ایک ایسا کردار جو جونی واکر کے رُوپ میں زندہ بلیوں کی رُوحیں جمع کرکے ایک ایسی بہت بڑی بانسری بنانا چاہتا ہے جس سے کاٸنات کا نظام اپنے ہاتھ میں لے سکے اور جو معصوم بوڑھے ناکاتا کو اپنے قتل پرمجبور کرتا ہے۔
آنسہ ساٸیکی ۔پچاس برس سے اوپر کی عمر کی لیکن ٹھہری ہوٸی جوانی والی، ناکاتا ہی کے مانند داخلے کی پتھر کھولنے والی ایک اور شخصیت اسی کی طرح اپنے وجود کے آدھے ساۓ کی حامل۔ لیکن اس کی طرح اُس کی یادداشت کم نہیں ہوتی بل کہ اُسے سب یاد ہے اور یادیں ہی اُس کا سرمایہ ہیں۔ایک چھوٹے سے شہر میں ایک کتب خانے کی سربراہ ۔وہ کتب خانہ جہاں کافکا تامورا گھر سے بھاگنے کے بعد پہنچتا ہے۔آنسہ ساٸیکی جو اپنی جوانی میں کچھ عرصہ اس علاقے میں گزار چکی ہے۔جہاں کافکا پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔شواہد کے اعتبار سے اغلب طور پر اس کی ماں۔۔۔
گھر سے بھاگنا کافکا کو عالمِ برزخ تک لے جاتا ہے جہاں اُسے اور قاری کو بھی بہت سے چیستانی سوالات کے جواب چیستانی استعاروں میں ملتے ہیں۔
ناول میں جہاں بلیوں کے کردار ایک اہم معاون کے طور پر موجود ہے وہیں خود کلامی بھی ایک اہم جزو ہے۔جس کا ایک منفرد اور انوکھا رُوپ کافکا تامورا کا ”کوّا نامی لڑکا“ بھی ہے۔کم وبیش تمام کردار ہی اپنی بھڑاس نکالنے ،اپنے خدشات اور اندیشوں کے اظہار کی خاطر اپنی آٸندہ کی راہ متعین کرنے کے لیے فیصلے لینے کے لیے، سوچوں میں اپنے آپ سے مخاطب ہوتے ہیں۔اس طرح ہر کردار کی شخصیت کا دوسرا رُخ اپنی چھب دکھاتا ہے۔
کتاب سے چند اقتباس احباب کی نظر :
ہر روز ،ہر لمحہ جب بھی میں اُس کا چہرہ دیکھتا ہوں،اُسے دیکھتا ہوں تو وه دن ،وہ لمحہ بے حد قیمتی ہوتا ہے..
جب کوٸی شخص کسی شے کی تلاش میں ہو اور وہ اُسے نہ ملے تو وہ اچھی طرح سو نہیں پاتا۔
مسرت کی صرف ایک قسم ہے جب کہ بد قسمتی ہر طرح سے اور ہر حجم میں آتی ہے.بالکل ویسے ہی جیسے ٹالسٹاٸی نے کہا تھا۔مسرت ایک تمثیل ہے اور المیہ ایک کہانی..
جب تک تم میں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ ہو معاملات درست ہوتے رہتے ہیں۔لیکن بے تخیل عدم برداشت کے حامل اور تنگ ذہن والے لوگ طفیلیوں کے مانند ہوتے ہیں جو ہٸیت بدل کر میزبان بن جاتے ہیں،شکل بدل لیتے ہیں اور پھلتے پھولتے ہیں۔
ہم زندگی میں اکثر انتخاب غیر اخلاقی کرتے ہیں۔
جن چیزوں کی ضرورت نہ ہو اُن کو بھلانا آسان ہوتا ہے۔
اچانک سے دکھاۓ دینے والے بُھدّے قسم کے چہرے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن پھر ایسی چیزیں ہوتی ہے جنھیں ہم نہیں بُھلا سکتے کچھ یادیں، کچھ لمحے اپنے ذہن سے نہیں کھرچ سکتے خواہ کتنا ہی وقت کیوں نہ بیت جاۓ۔اُن کی جگہ کوٸی اور ہی کیوں نہ لے لے ۔وہ ہمیشہ جزو لانیفک کی طرح ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔
اگر میں لوٹ جاٶں تو تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟”
صرف ایک کام۔“وہ اپنا سر اٹھا کر میری آنکھوں میں راست دیکھتے ہوۓ کہتی ہے۔”میں چاہتی ہوں کہ تم مجھے یاد رکھو۔اگر تم مجھے یاد رکھو گے تو مجھےپرواہ نہیں خواہ سب لوگ مجھےبھول جاٸیں۔“
”کافکا ،تمہیں باہر کیا نظر آرہا ہے؟“
میں اُن کی عقب والی کھڑکی سے باہر دیکھتا ہوں۔”مجھے درخت،آسمان اور کچھ ابَر دکھاٸ دے رہے ہیں۔کچھ پرندے شاخوں پر بیٹھے ہیں۔“
”کوٸ بھی شے معمول سے ہٹ کر نہیں ہے ، درست؟“
”درست ہے۔“
”لیکن اگر تمہیں پتا چلے کہ تم کل انھیں دوبارہ دیکھنے کے قابل نہیں رہو گے تو اچانک ہر چیز قیمتی ہو جاۓ گی ،کیا ایسا نہیں ہوگا؟“
میرا بھی یہی خیال ہے
کیا تم نے کبھی اس بارے سوچا ہے؟
”میں نے سوچا ہے۔“
اُن کے چہرے پر تحیّر پھیل جاتا ہے۔”کب؟“
”جب میں محبت کرتا ہوں۔“ میں انھیں بتاتا ہوں۔
”ہم میں سے ہر کوئی اپنی کسی قیمتی چیز کو کھو ہی دیتا ہے ، کھو چکے مواقع ، کھوچکے امکانات ، احساسات دوبارہ کبھی حاصل نہیں ہوتے ، یہ سب زندگی کا حصہ ہیں اور ہمارے زندہ ہونے کا ثبوت۔” اور “ ہر شخص اپنے انداز میں اپنا دکھ محسوس کرتا ہے ، ہر ایک کے اپنے زخم ہوتے ہیں۔“
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3873868939510277