اپنے سے پندرہ سال بڑی عورت سے شادی کی تو ہر طرف ب…
محلے میں جب پہلی بار یہ خبر پھیلی کہ ساجد نے اپنے سے پندرہ سال بڑی عورت سے شادی کر لی ہے، تو کئی دن تک لوگوں کے گھروں میں صرف ایک ہی موضوع چلتا رہا۔
“لڑکے پہ جادو ہوا ہے۔”
“دو بچوں والی عورت؟”
“کل کو پچھتائے گا۔”
“اپنی عمر کی لڑکی نہیں ملی تھی؟”
مگر عجیب بات یہ تھی کہ سب سے زیادہ حیران خود عارفہ تھی۔
اُسے یقین ہی نہیں آتا تھا کہ تئیس سال کا ایک نوجوان اُس سے محبت کر سکتا ہے۔
وہ اُس وقت اڑتیس برس کی تھی۔
زندگی پہلے ہی اُس کے چہرے پر تھکن لکھ چکی تھی۔
ایک ناکام شادی۔
دو بچے۔
ذمہ داریاں۔
اور وہ خاموش خوف… جو ہر اُس عورت کے اندر پیدا ہو جاتا ہے جسے لگنے لگے کہ اب اُس کی زندگی میں محبت دوبارہ نہیں آئے گی۔
ساجد اُس سے ایک چھوٹے سے کلینک میں ملا تھا جہاں عارفہ receptionist تھی۔
سادہ سی عورت۔
ہمیشہ ہلکے رنگ کے کپڑے۔
بال اکثر جلدی میں بندھے ہوئے۔
اور آنکھیں…
ایسی جیسے بہت عرصے سے خود کے لیے نہیں جئیں۔
پہلے پہل عارفہ نے ساجد کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔
اُسے لگتا تھا یہ وقتی کشش ہے۔
جوان لڑکوں کو کبھی کبھی ادھوری عورتیں اچھی لگنے لگتی ہیں… جیسے بارش میں پرانی کتابوں کی خوشبو اچھی لگتی ہے۔
مگر ساجد ہر دن واپس آتا رہا۔
کبھی چائے لے آتا۔
کبھی بچوں کے لیے chocolates۔
کبھی بس پانچ منٹ بیٹھ کر اُس کی تھکن سنتا رہتا۔
ایک دن عارفہ نے آخر پوچھ ہی لیا:
“تم میری عمر جانتے ہو؟”
ساجد ہنس پڑا۔
“جی۔”
“میں تم سے پندرہ سال بڑی ہوں۔”
“تو؟”
“تو؟” عارفہ کی آواز بھاری ہو گئی، “یہ کوئی چھوٹی بات ہے؟”
ساجد نے میز پر پڑا calculator اٹھایا اور ہنس کر بولا:
“یہ صرف حساب ہے۔ میں تئیس کا ہوں، آپ اڑتیس کی۔ جب میں پچاس کا ہوں گا، آپ پینسٹھ کی ہوں گی۔ دنیا ختم تو نہیں ہو جائے گی۔”
عارفہ پہلی بار اُس کے سامنے ہنسی تھی۔
مگر اُس ہنسی کے پیچھے خوف اب بھی موجود تھا۔
کچھ دن بعد اُس نے ایک اور سوال کیا:
“میں تمہیں اولاد نہیں دے سکوں گی۔”
ساجد نے خاموشی سے اُس کے بیٹے احد کی طرف دیکھا، جو فرش پر بیٹھا کھلونا گاڑی چلا رہا تھا۔
پھر اُس کی بیٹی مریم کی طرف، جو ہوم ورک کر رہی تھی۔
اور بہت آہستہ سے بولا:
“یہ دونوں کیا ہیں پھر؟”
عارفہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
“تم دوسرے مرد کے بچوں کو پال لو گے؟”
ساجد اُس کے قریب آیا۔
“نہیں۔”
عارفہ نے چونک کر دیکھا۔
ساجد مسکرایا۔
“میں اُس عورت سے محبت کرتا ہوں… جس کے یہ دونوں حصے ہیں۔ پھر میں اِن سے محبت کیوں نہیں کروں گا؟”
بس…
شاید محبت اصل میں وہی لمحہ ہوتی ہے جب انسان کسی کو اُس کے ماضی سمیت قبول کر لے۔
شادی آسان نہیں تھی۔
لوگوں نے ساجد کے والدین کو بہت کچھ کہا۔
دوستوں نے مذاق اڑایا۔
دفتر میں whispers ہوتی رہیں۔
کبھی کسی نے عارفہ کو “خالہ” کہا۔
کبھی ساجد سے پوچھا جاتا:
“بیوی ہے یا guardian؟”
مگر عجیب بات یہ تھی…
گھر کے اندر محبت بڑھتی گئی۔
ساجد نے احد کو پہلی بار سائیکل چلانا سکھایا۔
مریم کے اسکول کے annual day پر سب سے اونچی آواز میں clap کیا۔
رات کو بچوں کے بخار میں جاگتا رہا۔
Parent-teacher meetings attend کیں۔
اور پھر ایک دن ایسا آیا جب احد نے غصے میں کسی سے کہا:
“میرے ابو کے بارے میں غلط بات مت کرنا۔”
حالانکہ خون کا رشتہ نہیں تھا۔
مگر بعض رشتے خون سے نہیں… موجودگی سے بنتے ہیں۔
وقت گزرتا گیا۔
بچے بڑے ہو گئے۔
احد ڈاکٹر بن گیا۔
مریم finance sector میں چلی گئی۔
اور ساجد؟
اُس کے بال سفید ہونے لگے تھے۔
مگر ہر جمعے کو وہ اب بھی عارفہ کے لیے پھول لے آتا تھا۔
ایک شام مریم نے ہنستے ہوئے پوچھا:
“ابو، آپ نے کبھی regret نہیں کیا؟”
ساجد اُس وقت برآمدے میں بیٹھا عارفہ کے بالوں میں تیل لگا رہا تھا۔
وہ رکا۔
پھر بہت سکون سے بولا:
“بیٹا… لوگ سمجھتے ہیں آدمی جوان چہرہ ڈھونڈتا ہے۔ اصل میں آدمی سکون ڈھونڈتا ہے۔”
عارفہ خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی۔
آنکھوں میں وہ نمی تھی جو صرف لمبے ساتھ کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
اور پھر اُس رات، جب بارش ہو رہی تھی اور بجلی بار بار جا رہی تھی، ساجد نے عارفہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر آہستہ سے کہا:
“لوگ کہتے تھے تم میرے لیے بہت بڑی ہو…”
وہ مسکرایا۔
“مگر سچ یہ ہے… تم نے مجھے بڑا کیا ہے۔” 🥀
©️ انتخاب سخن
