منتخب غزلیں

پروفیسر محمد آفاق صدیقی کا یوم وفات June 17/18, 20…

پروفیسر محمد آفاق صدیقی کا یوم وفات
June 17/18, 2012
پیدائش:
4 مئی 1928 ء ۔۔ فرخ آباد ، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان
وفات:
17 جون 2012 ء ۔۔ کراچی ، پاکستان

آفاق صدیقی کی مادری زبان اگرچہ اردو تھی لیکن انہیں فارسی، ہندی اور سندھی پر بھی دسترس حاصل تھی۔ شاید اسی بنا پر انہیں تحقیق اور ترجمے سے بھی رغبت تھی اور ان کے قریبی دوستوں کے مطابق انہوں نے چالیس کے لگ بھگ تصانیف چھوڑی ہیں جن میں اٹھارہ تصانیف سندھی زبان میں ہیں۔ ان کے تحقیقی کام اور تراجم کو اردو اور سندھی ادب کے حوالے سے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور شیخ ایاز کی شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا۔ ان کی ان خدمات کی بنا پر انہیں سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان ایک پل بھی قرار دیا جاتا تھا۔1951ء میں انہوں نے رسالہ کوہ کن نکالا۔ 1953ء میں سندھی ادبی سرکل قائم کیا۔
آفاق صدیقی کی تصانیف میں پاکستان ہمارا ہے، کوثر و تسنیم، قلب سراپا، ریزہ جاں، تاثرات، عکس لطیف، شاعر حق نوا، پیام لطیف، اقوال سچل، بساط ادب، بابائے اردو وادی مہران میں، ادب جھروکے، گلڈ کہانی، ادب گوشے، ریگزار کے موتی، ماروی کے دیس میں اور جدید سندھی ادب کے اردو تراجم شامل ہیں۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری صبح کرنا شام کا کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔
محرم جاں کوئی دیوار نہ در لگتا ہے
اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہے

ہم بھی دیکھیں تو کہیں جنسِ وفا کی صورت
کوئی بتلائے وہ بازار کدھر لگتا ہے
…..
یہ دلیل ِ قُربِ مدام ہے کہ جو فاصلہ تھا مٹا دیا
ترے ہر خیال کو درد نے مرا ہم خیال بنا دیا

تری آرزو کے سوا اگر مری خواب گاہِ خیال میں
کبھی جاگ اٹھی کوئی آرزو تو تھپک تھپک کے سلا دیا
…….
جب تک ترے جمال کی رعنائیاں رہیں
کیا کیا نہ میری حوصلہ افزائیاں رہیں
یاد آئی جب کبھی ترے لہجے کی نغمگی
دھیمے سروں میں گونجتی شہنائیاں رہیں
آفاق وہ نہیں ہے تو کیا رونق حیات
کہنے کو لاکھ انجمن آرائیاں رہیں
…..
ہوک سی اٹھی دل میں آنسوﺅں نے شہ پائی
دیکھ اے غم دوراں پھر کسی کی یاد آئی
بے کھلی کلی دل کی بے کھلے ہی مرجھائی
تم کہاں تھے گلشن میں جب نئی بہار آئی
دل کے ایک گوشے میں تیرے پیار کی حسرت
جیسے شہر خوباں میں کوئی شام تنہائی
کون ہاں وہی آفاق جانتے ہیں ہم اس کو
ہو شیار دیوانہ ،با شعورسودائی
……
ہے وہی دنیا وہی ہم ہیں مگر تیرے بغیر
سونے سونے سے ہیں یہ شام و سحر تیرے بغیر
راس کیا آئے گی کوئی رہ گزر تیرے بغیر
کیسے طے ہو گا یہ غربت کا سفر تیرے بغیر
روشنی تھی جن چراغوں سے وہ سارے بجھ گئے
ماتمی ہیں آج سب دیوار و در تیرے بغیر
رو بہ رو اک ڈھیر ہے مٹی کاباقی کچھ نہیں
اب نہ گھروالے سلامت ہیں نہ گھر تیرے بغیر
کھو گئیں وہ صورتیں سب جانی پہچانی ہوئی
کس کو دیکھوں اور کیاآئے نظر تیرے بغیر
رہ گیا ہوں پھڑ پھڑا کر زندگی کے جال میں
ایک پنچھی کی طرح بے بال و پر تیرے بغیر
چھوڑ کر اس حال میں او جانے والے دیکھ تو
بوجھ کتنا ہے دل آفاق پرتیرے بغیر


Related Articles

One Comment

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/