اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ جس دئیے میں ج…

جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا
محشر بدایونی کا یومِ پیدائش
May 04, 1922
نام فاروق احمد اور تخلص محشر تھا۔۴؍مئی۱۹۲۲ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔ اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل کی۔۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے۔ اگست ۱۹۵۰ء میں محکمۂ سپلائی سے منتقل ہوکر ریڈیو پاکستان میں ’’آہنگ‘‘ کے مدیر معاون کے عہدے پر فائز ہوئے۔ پھر ایک عرصے تک ’’آہنگ ‘ ‘ کے مدیر رہے۔ان کے والد تاریخ گو شاعر تھے۔اس طرح شاعری محشر بدایونی کو ورثے میں ملی۔ غزل ان کی محبوب صنف سخن تھی۔ ریڈیو پاکستان سے ریٹائر منٹ کے بعد کراچی میں مستقل طور پر سکونت پذیر ہوگئے۔ ۹؍نومبر ۱۹۹۴ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’غزل دریا‘(آدمی جی ایوارڈ یافتہ) ’چراغ میرے ہم نوا‘، ’فصل فردا‘، ’شہروفا‘، ’گردش کوزہ‘، ’حرف ثنا‘، ’بین باجے‘، ’شاعر نامہ‘،’ سائنس نامہ‘، ’جگ مگ تارے‘ (بچوں کی شاعری)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:131
آخر آخر ایک غم ہی آشنا رہ جائے گا
اور وہ غم بھی مجھ کو اک دن دیکھتا رہ جائے گا
سوچتا ہوں اشک حسرت ہی کروں نذر بہار
پھر خیال آتا ہے میرے پاس کیا رہ جائے گا
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا
آج اگر گھر میں یہی رنگ شب عشرت رہا
لوگ سو جائیں گے دروازہ کھلا رہ جائے گا
تا حد منزل توازن چاہئے رفتار میں
جو مسافر تیز تر آگے بڑھا رہ جائے گا
گھر کبھی اجڑا نہیں یہ گھر کا شجرہ ہے گواہ
ہم گئے تو آ کے کوئی دوسرا رہ جائے گا
روشنی محشرؔ رہے گی روشنی اپنی جگہ
میں گزر جاؤں گا میرا نقش پا رہ جائے گا


Aallaa bohat he aallaa