ایک زمین ناصرؔ کاظمی عدیمؔ ہاشمی ۔۔۔۔۔ ناصرؔ وہ س…

ناصرؔ کاظمی
عدیمؔ ہاشمی
۔۔۔۔۔
ناصرؔ
وہ ساحِلوں پہ گانے والے کیا ہُوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہُوئے
وہ صُبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہُوئے
مَیں اُن کی راہ دیکھتا ہُوں رات بھر
وہ روشنی دِکھانے والے کیا ہُوئے
یہ کون لوگ ہیں مِرے اِدھر اُدھر
وہ دوستی نِبھانے والے کیا ہُوئے
وہ دِل میں کُھبنے والی آنکھیں کیا ہُوئیں
وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہُوئے
عِمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
عِمارتیں بنانے والے کیا ہُوئے
اکیلے گھر سے پُوچھتی ہے بے کسی
تِرا دِیا جلانے والے کیا ہُوئے
یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اُٹھانے والے کیا ہوئے۔۔۔!
۔۔۔۔۔
عدیمؔ
حقیقتیں بتانے والے کیا ہُوئے
وہ آئینہ دِکھانے والے کیا ہُوئے
یہ کَفْش بوس کِس طرف سے آ گئے
وہ دھجّیاں اُڑانے والے کیا ہُوئے
یہ گھر جلانے والے کون لوگ ہیں
وہ مشعلیں جلانے والے کیا ہُوئے
یہ قیمتیں لگانے والے آ گئے
وہ قیمتیں بنانے والے کیا ہُوئے
یہ راستہُ بُھلانے والے کون ہیں
وہ راستہ دِکھانے والے کیا ہُوئے
یہ حوصلہ شِکن کہاں سے آ گئے
وہ ہِمَّتیں بندھانے والے کیا ہُوئے
یہ لوگ یا بُجھے ہُوئے چراغ ہیں
وہ لوگ جگمگانے والے کیا ہُوئے
دیئے بُجھا دیئے گئے ہیں کِس لئے
وہ تشنگی بُجھانے والے کیا ہُوئے
کڑی گھڑی کہاں سے آ گئی عدیمؔ
کڑی گھڑی نِبھانے والے کیا ہوئے۔۔۔!


زبردست
واااااااااہ