یکم مئی – یومِ مزدور …. "کبھی سُورج بھی نکلے گا …

….
"کبھی سُورج بھی نکلے گا ”
ابھی سورج نہیں نکلا
سڑک پر گاڑیوں کے قافلے آئے نہیں
لیکن دِہاڑی دار مزدوروں کا اک سَیل ِ بدن مایہ
اُمڈ کر چوک میں آیا
بدن پر میل میں لپٹی ہزاروں سلوٹیں پہنے
پھٹے پیروں میں ٹھنڈی خاک کے جُوتے
تھکے ہاتھوں میں پچھلی شام کی روٹی
لبوں پر رات کی کترن
سروں پر سوچ کی دھجی
تھکی آنکھوں میں کچی نیند کی گٹھڑی
لکیروں اور ھُنر سے خالی ہاتھوں میں فقط دس انگلیاں لائے
سُہانی نیند سے اُمید سب کو کھینچ لائی ھے
کوئی آجر اُنہیں روٹی کے بدلے ساتھ لے جائے
کوئی آئے
تو سب کی بجھتی آنکھوں میں
بھڑک کر دیپ جلتے ہیں
سبھی پھر دائرہ دَر دائرہ اُس پر
اُمیدوں سے بھری آنکھوں کے نیزے گاڑ دیتے ہیں
وہ اس انداز میں نظریں گُھماتا ھے
تنومندی پرکھتا ھے
قروُن ِ جہل میں جیسے غُلاموں کا ہو بیو پاری
کوئی خوش جسم اُس کے ساتھ جاتا ھے
تو باقی سب کی امیدوں پہ چھائے بھوک کے سائے
گھنیرے کرتا جاتا ھے
کئی بوڑھوں کی آنکھوں میں جوانی جِھلملاتی ھے
اُمیدیں اور سگرِٹ ختم ھو جائیں
تو سب بے جان ہاتھوں سے
شکن اندر شکن لپٹی گزشتہ شام کھاتے ہیں
اور آنکھوں میں یہ دُکھ لے کر
گھروں کو لوٹ جاتے ہیں
کہ اُن کا کوئی بھی آقا
نوید ِ بندگی لے کر نہیں آیا !! ”
( شہزاد نیر )
…..
ہاتھ پاؤں بھی بتاتے ہیں کہ مزدور ہوں میں
اور ملبوس بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں میں
فخر کرتا ہوں کہ کھاتا ہوں فقط رزقِ حلال
اپنی اس صفتِ قلندر پہ تو مغرور ہوں میں
سال سارا مرا کٹ جاتا ہے گمنامی میں
بس ” یکم مئی ” کو یہ لگتا ہے کہ مشہور ہوں میں
بات کرتا نہیں میری کوئی ایوانوں میں
سب کے منشور میں یوں ” صاحبِ منشور ” ہوں میں
اپنے بچوں کو بچا سکتا نہیں فاقوں سے
ان کو تعلیم دلانے سے بھی معذور ہوں میں
پیٹ بھر دیتا ہے حاکم مرا تقریروں سے
اُس کی اِس طفل تسلی پہ تو رنجُور ہوں میں
یومِ مزدور ہے، چُھٹی ہے، مرا فاقہ ہے
پھر بھی یہ دن تو منائوں گا کہ مزدور ہوں میں
مجھ کو پردیس لئے پھرتی ہے روزی واصف
اپنے بچوں سے بہت دور، بہت دور ہوں میں
جبار واصف
……
چہرے ہیں ندامت سے شرابور ہمارے
ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے
غربت کے پسینے سے بدن ڈھانپ رہے ہیں
کچھ اتنی تھکاوٹ ہے کہ سب ہانپ رہے ہیں
بے کار ہیں سب عنبر و کافور ہمارے
ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے
مزدور بچارا تو دہائی نہیں دیتا
دنیا کو مگر کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا
اس واسطے سب دیپ ہیں بے کار ہمارے
ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے
اپنے ہیں تو اپنوں کو وفا کیوں نہیں دیتے
ہم ان کو محبت کی دُعا کیوں نہیں دیتے
قصّے تو سخاوت کے ہیں مشہور ہمارے
ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے
چہرے ہیں ندامت سے شرابور ہمارے
ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے
خالد سجاد احمد

