منتخب غزلیں

وہ تو نہ مِل سکے ہمیں رُسوائیاں مِلیں لیکن ہمارے …


وہ تو نہ مِل سکے ہمیں رُسوائیاں مِلیں
لیکن ہمارے عِشق کو رعنائیاں مِلیں

آنکھوں میں اُن کی ڈُوب کے دیکھا ہے بارہا
جِن کی تھی آرزُو نہ وہ گہرائیاں مِلیں

آئینہ رکھ کے سامنے آواز دی اُسے
اُس کے بغیر جب مُجھے تنہائیاں مِلیں

آئے تھے وہ نظر مُجھے پُھولوں کے آس پاس
دیکھا قریب جا کے تو پرچھائیاں مِلیں

پُوچھا جو مَیں نے دِل کی تباہی کا ماجرا
ہنس کر جواب میں مُجھے انگڑائیاں مِلیں

ناصرؔ دِلِ تباہ نہ اُن کو دِکھا سکا
مِلنے کو بارہا اُسے تنہائیاں مِلیں۔۔۔!

شاعر حکیم ناصرؔ
آواز مہدی حسن

Related Articles

4 Comments

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/