مختصر کہانیاں

عدوات (ریاض عاقب کوہلر) قسط نمبر 6 ”ارم !….تمھ…

عدوات (ریاض عاقب کوہلر)
قسط نمبر 6

”ارم !….تمھارا دماغ جگہ پر ہے ؟….ہوش میں ہو نا ؟….تم مجھے ایک بے گناہ کے قتل پر اکسا رہی ہو۔میرے دل میں اس کے لیے جتنی بھی نفرت ہو ،وہ مجھے کتنی ہی بری کیوں نہ لگے ،مگر بہ خدا میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ۔اس شادی میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے، وہ مجھ سے بھی زیادہ تنگ ہے ۔اور خبردار اگر دوبارہ ایسا بے ہودہ اور شرم ناک مشورہ دینے کی ہمت بھی کی ۔ اب یہاں سے دفع ہو جاو¿۔“
زندگی میں پہلی بار اسے ثوبان کے الفاظ اچھے لگے تھے ۔وہ جتنا بھی قابل نفرت ہوتا کم از کم ظالم نہیں تھا ۔وہ ارم کے آنے سے پہلے جلدی سے مڑ کر کھانے کی میز کے قریب ہو گئی جہاں ایک خوف ناک جنگ جاری تھی ۔میز کے قریب رک کر بھی وہ اسی جانب دیکھتی رہی ۔
تھوڑی دیر گزرنے کے بعد اسے بے چینی ہونے لگی ۔وہ ایک بار پھر اسی جانب بڑھی۔قنات کے قریب جانے پر اسے ارم کی منتیں کرنے کی آواز آئی ۔وہ ثوبان کو معذرت کر رہی تھی ۔اس وقت نیہا کا دل چاہا کہ ثوبان اسے بے عزت کر دے مگر یہ حسرت اس کے دل ہی میں رہی ثوبان نے بڑی آسانی سے اپنی محبوبہ کو معاف کر دیاتھا ۔اور پھر جب ثوبان نے ارم سے وعدہ کر لیا کہ وہ اس سے ناراض نہیں ہے اور اب وہ جا کر کھانا کھائے ۔تو نیہا دوبارہ میز کی طرف بڑھ گئی ۔چند لمحے بعد ارم بھی اسے کھانے کی میز کی طرف آتی دکھائی دی ۔
”ارے واہ !میں کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہی۔“ارم کے قریب آنے پر نیہا نے ایک دم آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ تھام لیے ۔ارم کا چہرہ بجھا بجھا تھا ۔اور یقینا ایسا ثوبان کا اس کی تجویز نہ ماننے کی وجہ سے ہواتھا ۔
”مبارک ہو۔“اس نے بہ دقت تمام کہا ۔
”خیر مبارک ،خیر مبارک ۔“وہ مسکرائی ۔”آوکھانا کھاو۔“
”نہیں ،بس اب چلوں گی۔“
”ثوبی !….سے نہیں ملو گی ؟“نیہا نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
”آں ….ہاں ….نہیں بس چھوڑو ۔“وہ گڑبڑا گئی تھی ۔
”ویسے اب تمھیں اس سے ملنا بھی نہیں چاہیے ۔اب تو وہ میرا ہے نا۔میرا سرتاج،مجازی خدا اور وہ کیا کہتے ہیں سر کا سائیں ۔“
”کچھ زیادہ ہی چہک رہی ہو ۔“ارم کے لہجے میں تلخی تھی ۔
”کیوں نہ چہکوں ،ثوبی !جیسا شوہر قسمت والیوں کو ملتا ہے ۔“نیہا خود پر جبر کرکے ارم کو چڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی تھی ۔
”پہلے تو بڑی نفرت کرتی تھیں۔“
”وہ تو بس یونھی لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتی تھی ۔“نیہا جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہی تھی ۔ ارم کی گھٹیا تجویز سن کر اسے جو تکلیف ہوئی تھی اس کا ازالہ اسی طرح ہو سکتا تھا۔
”ثوبی !….تم پر تھوکتا بھی نہیں ہے ۔“ارم نے نفرت سے ہونٹ سکیڑے ۔
”تو کیوں تھوکے ،میں تو اس کی جان ہوں ۔“وہ قہقہہ لگا کر ہنسی ۔”تھوکے گا تو وہ تم پر۔“
”واہیات عورت۔“ارم پاوں پٹخ کر چل دی ۔وہ مسکراتی ہوئی دولھن ،دلھا کے لیے رکھے گئے صوفے پر آ بیٹھی ۔ارم دور کھڑی اسے کڑے تیوروں سے گھور رہی تھی۔
”بے چاری ارم !“اس نے گویا خود سے سرگوشی کی اور کھلکھلا کر ہنس دی ۔
اسی وقت ضیاءالحق ثوبان کو ساتھ لیے نمودار ہوا ۔
”نیہا بیٹی !….کھانا کھا لیا ہے ؟“
”نہیں دادا جان !“اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”تم یقینا ثوبان کی منتظر ہوگی ؟“
”جی دادا جان !“اس نے دور کھڑی ارم کو دیکھ کر ایک اور جھوٹ داغا۔
”اچھا بیٹھو اکٹھے کھاناکھاتے ہیں ۔“دادا نے کہا اور وہ بیٹھ گئے ۔
ضیاءالحق نے ویٹر کو بلا کر کھانا لانے کو کہا ۔
انھیں اکٹھا بیٹھے دیکھ کر ارم بھی ان کی طرف متوجہ ہو گئی تھی ۔وہ ارم کو جلانے کا اچھا موقع تھا ۔نیہا خود پر جبر کرکے ثوبان کی جانب سمٹ گئی ۔ثوبان کے دوسری جانب دادا بیٹھا تھا وہ ان وونوں کے درمیان پھنس کر رہ گیا تھا ۔دادا کی موجودی میں وہ کچھ کہنے کی حالت میں نہیں تھا ۔
بیرے نے ان کے سامنے کھانے کے برتن سجا دئے۔نیہا نے دادا کے لیے ایک پلیٹ میں بریانی ڈالی ۔ضیا ءالحق کہنے لگا ۔
”ویسے میرا تو کہنا ہے کہ نئے دولھا ،دولھن کو ایک ہی پلیٹ میں کھانا چاہیے۔“
”جی دادا جان !“نیہا نے سرعت سے کہا ۔جبکہ ثوبان خون کے گھونٹ بھر کر رہ گیا تھا ۔ ارم انھی کی طرف متوجہ تھی ۔
نیہا نے کہا۔”داداجان !….شوہر اور بیوی کو چاہیے کہ پہلا نوالہ بھی ایک دوسرے کو کھلائیں ہے نا ؟“
”ارے واہ !….ضیا ءالحق خوشی سے جھوم اٹھا تھا ۔”میری گڑیا تو بہت سمجھ دار ہو گئی ہے۔“
”جی دادا جان !“کہہ کر اس نے چاولوں کا چمچ بھر کر ثوبان کے منہ کی طرف بڑھایا۔ اور دادا کی موجودی میں وہ زہر اسے چبانا پڑا ۔ارم اس منظر کی تاب نہیں لا سکی تھی ۔وہ فوراََ پیچھے مڑی اور وہاں سے نکل گئی ۔نیہا کا مقصد پورا ہو گیا تھا ۔
٭٭٭
ثوبان خواب گاہ میں داخل ہوا ۔نیہا بیڈ پر بیٹھی اپنے زیور اتار رہی تھی ۔دن بھر پہنے بھاری لباس اور اتنے زیادہ زیورات نے اسے تھکا دیا تھا ۔
”تم یہاں کیوں بیٹھی ہو ؟“ثوبان نے زہر خند لہجے میں پوچھا ۔
”نظر نہیں آ رہا کیا کر رہی ہوں ؟“
”آج تم نے صوفے پر مرنا ہے سمجھیں ،اٹھو یہاں سے ۔“
”یہ لو تمھارا ہیرے جواہرات سے مرصّع بیڈ ۔“طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے وہ صوفے پر جا بیٹھی ۔
”اور تمھیں کل میں نے بڑی وضاحت سے سمجھایا تھا کہ مجھ سے دور ہو کر بیٹھا کرو ۔ تم پھر میرے ساتھ چپکی جا رہی تھیں ۔اور یہ شوہر بیوی کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانا چاہیے۔“اس نے منہ بگاڑ کر نیہا کی نقل اتاری ۔
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”گھن آتی ہے مجھے تمھارے وجود سے ۔لیکن اس وقت میں تمھارے کسی پیارے کو جلا رہی تھی۔“
”میں کس کو پسند کرتا ہوں اور کون مجھ سے محبت کرتاہے ؟تمھیں اس سے کیا ؟“ ثوبان نے حیرانی سے پوچھا۔
”بھاڑ میں جائیں تمھیں چاہنے والے اور ساتھ تم بھی ۔پروا کرتی ہے میری جوتی ۔“
”تو پھر یہ جلانے وغیرہ کی بونگیاں کیوں مار رہی ہو؟“
”مسٹر ثوبان !….میں نے آج اتفاق سے تمھاری اور ارم کی ساری گفتگو سن لی تھی۔ تم لوگ اس حد تک گر سکتے ہو میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔“
”ہوش میں ہو ،کون سی گفتگو؟“
”وہی بکواس جو تم نے قنات کے ساتھ کھڑے ہو کر کی ۔اور وہی بکواس کہ ارم صاحبہ کے ساتھ مل کر تم مجھے اور دادا جان کو نقصان پہنچانے کا سوچ رہے تھے ۔لیکن میں تمھیں چھوڑوں گی تو نہیں ،میں نے ساری گفتگو ریکارڈ کر لی ہے ۔“اس نے صریحاََ جھوٹ بولتے ہوئے اپنا قیمتی موبائل ثوبان کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔”میں یہ ساری گفتگو دادا جان کو سناوں گی،تاکہ انھیں بھی تمھارے کالے کرتوتوں کا پتا چلے ۔“
”تو تم چھپ کر میری گفتگو سنتی ہو۔“وہ شعلے برساتی آنکھوں سے اس کی جانب بڑھا۔
”ہاں سنتی ہوں ….تم جیسے کم ظرف سے کوئی بعید نہیں کہ کب کیا گھٹیا حرکت کر گزرے ۔“وہ بھی طنطناتی ہوئی کھڑی ہو گئی تھی۔
”اور میر ی گفتگو ریکارڈ کرتی ہو ؟“
”بے شک ۔“وہ اپنے جھوٹ پر ڈٹی رہی ۔
”بتاتا ہوں تمھیں۔“دانت پیستے ہوئے اس نے نیہا کے ہاتھ سے موبائل چھینا ۔
”میرا موبائل واپس دو ۔“وہ چیختے ہوئے اس کی طرف بڑھی مگر ثوبان نے اسے دھکا دے کر پیچھے صوفے پر گرایا۔اور جلدی سے موبائل سے میموری کارڈ نکال کر دو ٹکڑے کر کے دور پھینک دیا اور موبائل کو نیچے پھینک کر بوٹ کی ایڑی سے دو تین ٹھوکریں لگا کر توڑ دیا۔
نیہا نے بھاگ کر اس کا گریبان تھاما۔”تم وحشی ،جانور ،درندے ….پتا بھی ہے اس میں کتنی قیمتی یادیں جمع تھیں۔“
”گریبان چھوڑو ورنہ دوں گا ایک رکھ کر۔“ثوبان نے اسے تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا یا مگر پھر اس کے چہرے تک لانے سے پہلے نیچے کر لیا ۔
”تم کیا،میں ماروں گی تھپڑ ۔“نیہا نے دیوانگی کے عالم میں دو تین تھپڑ اس کے گال پر جڑ دئیے تھے ۔
ثوبان نے ایک مرتبہ پھر تھپڑ کے لیے ہاتھ اٹھایا مگر اسے مار نہ سکا عورت پر ہاتھ اٹھانا اسے گوارا نہ ہوا ۔حالانکہ بچپن میں اس کی بے حد پٹائی کیا کرتا تھا ۔
”دور ہو مجھ سے ۔“ثوبان نے اسے دور دھکیلا۔
”تم مجھے ہاتھ لگا کر دکھاو۔غلیظ ،کمینے ،تھرڈ کلاس انسان ۔“وہ سسکتے ہوئے اپنے موبائل کے ٹکڑے جمع کرنے لگی ۔جانے کتنے اہم مواقع کی تصاویر اور وڈیوز اس میں بھری ہوئی تھیں ۔اس نے کئی بار ارادہ کیا تھا کہ انھیں اپنے لیپ ٹاپ میں محفوظ کر لے مگر پھر کسی اور دن پر ٹال دیتی تھی ۔اب ثوبان کی وجہ سے وہ ان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔
”آئندہ تم چھپ کر کسی باتیں سننے اور ریکارڈ کرنے میں احتیاط برتو گی ۔“ثوبان نے گہرا سانس لے کر اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا ۔
”ظالم انسان مجھے وضاحت کا ایک موقع تو دیا ہوتا۔“وہ غصے سے چلائی ۔”میں نے تمھاری کوئی گفتگو ریکارڈ نہیں کی تھی ۔“
”ٹھیک ہے پھریہ تمھارے جھوٹ کا پھل ہے ۔“اطمینان سے کہتے ہوئے وہ غسل خانے میں گھس گیا تھا ۔کپڑے بدل کر باہر نکلا تو ابھی تک نیہا افسوس بھرے انداز میں اپنے ٹوٹے ہوئے موبائل کو گھور رہی تھی ۔
”اور آج تو میں نے ضبط کر لیا ؟اس کے بعد اگر تم نے تھپڑ مارنے کی کوشش کی تو ایک ہی جھانپڑ سے بتیسی باہر نکال دوں گا ۔عورت ہو تو عورت بن کر رہو۔ “
”مسٹر ثوبان!….کل صبح میں گھر جاوں گی شام کو واپسی ہو گی۔جیسے ہی میں واپس پہنچوںڈبا پیک آئی فون سیون یہاں موجود ہونا چاہیے۔“
”یہ فرمائش اس سے کرنا،کہ جو بدقسمت میرے بعد تم سے شادی کرنے کی غلطی کرے گا ۔“
”فرمائش نہیں کر رہی ،دھمکی دے رہی ہوں۔اگر کل شام تک میرے لیے مذکورہ موبائل نہ آیا تو جب تک میں یہاں ہوںتم کوئی موبائل استعمال نہیں کر سکو گے ۔ موقع ملتے ہی میں تمھارا موبائل توڑ دیا کروں گی ۔یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔“
”اور مجھے جو تھپڑ مارے وہ کس کھاتے میں جائیں گے ؟“
”وہ میرا قیمتی مواد ضائع کرنے کے جرم میں تمھیں لگے ہیں ۔“
”شاید تمھیں اپنی زندگی عزیز نہیں ہے ؟“
”میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا،اب اس پر عمل کرتے ہو یا مجھے آزماتے ہو ۔یہ تم پر منحصر ہے ۔“یہ کہہ کر وہ لباس بدلنے کے لیے غسل خانے کی طرف بڑھ گئی ۔
٭٭٭
صبح انھیں دادا کی نگرانی ہی میں ناشتا کرنا پڑا اس کے بعد دادا کے کہنے پر ثوبان اسے اس کے گھر چھوڑ آیاتھا ۔یوں بھی دونوں کوٹھیو ں کے دروازے ساتھ ساتھ ہی تھے ۔ثوبان اسے دروازے پر چھوڑ کر واپس پلٹ گیا تھا ۔
نیہاکے والدین اور بہن بھائی بے صبری سے اس کے منتظر تھے ۔شاہینہ بیگم نے اسے گلے لگا کر ماتھا چوما ۔اکرام الحق نے بھی دکھی دل سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔ثوبان سے شادی طے ہونے کے بعد سے وہ اپنی بیٹی سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا ۔
اپنے کمرے میں داخل ہو کر نیہا تھکے ہوئے انداز میں بیڈ پر ڈھیر ہو گئی ۔پوری رات صوفے پر لیٹ کر وہ بے آرامی محسوس کر رہی تھی ۔کہاں چھے سات فٹ چوڑا بیڈ اور کہاں ڈیڑھ فٹ کا صوفہ ۔
”باجی چاے بنا لاوں؟“اقرا نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔
”نہیں میں تھوڑا آرام کروں گی ۔تم سکول جانے کی تیاری کرو ۔اور امی جان کو بھی کہہ دو کہ مجھے دوپہر کے کھانے کے وقت ہی جگائے ۔“
”ٹھیک ہے باجی !“اقرا فرماں برداری سے کہتے ہوئے اس کے کمرے سے نکل گئی۔اپنے بیڈ کے مانوس لمس اور خواب گاہ کے رازدار ماحول نے جلد ہی اسے نیند کی و ادیوں میں پہنچا دیا تھا ۔دوبارہ اس کی آنکھ اقرا کی آمد ہی پر کھلی تھی ۔وہ سکول سے واپس لوٹ آئی تھی ۔
”باجی !….اٹھو نا،کب تک سوتی رہو گی ؟“
وہ انگڑائی لیتے ہوئے اٹھ بیٹھی ۔
”چھوٹی !قسم سے بہت اچھا خواب دیکھ رہی تھی ۔“
”کیا ثوبان بھائی کو دیکھ رہی تھیں ؟“اقرا نے شرارت سے پوچھا۔
”مار کھاو گی مجھ سے ۔“نیہا نے آنکھیں نکالیں ۔
”ویسے آپ ہنی مون پر کب جا رہے ہیں باجی !“
”میرا خیال ہے تمھاری طبیعت درست کرنا پڑے گی ۔“نیہا غصے میں کہتے ہوئے اٹھی اور اقرا بھاگتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
نیہا خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ غسل خانے کی طرف بڑھ گئی ۔نہا کر اس نے کپڑے بدلے اور کھانے کی میز کی طرف بڑھ گئی ۔شاہینہ نے اس کی پسند کے کھانوں سے میز بھری ہوئی تھی ۔
”امی جان !….اتنا کون کھائے گا ؟“ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر نیہا نے اس کا گال چوما اور اس کے قریب ہی بیٹھ گئی ۔
اقرا جلدی سے بولی ۔”کچھ ہم کھا لیں گے اور کچھ ثوبان بھائی کے لیے بھیج دیں گے۔“
”امی جان !….یہ اقرا کی بچی صبح سے تنگ کر رہی ہے ، پٹے گی مجھ سے ۔“
”اقرا!…. بری بات بیٹا۔“شاہینہ سے اسے ڈانٹا ۔
”ماں جی !….میں تو بس مذاق کر رہی ہوں ۔“اقرا منہ بسورتے ہوئے بولی ۔
نیہا نے کہا ۔”مذاق کے لیے تمھیں اسی کمینے کا نام سوجھتا ہے۔“
”اب میں تو اس کے بارے ایسا کچھ نہیں کہہ سکتی میرے تو وہ پیارے اور ہنڈسم سے بہنوئی ہیں۔“
”اچھا فضول باتیں نہیں ….اور کھانا کھاو۔“شاہینہ نے ایک بار پھر اقرا کو جھڑکا ۔
کھانے کے بعد اقرا برتن سمیٹنے لگی اورشاہینہ بیگم ،نیہا سے حال احوال پوچھنے لگی ۔ گو گھر میں کام والی موجود تھی ۔مگر باورچی خانے کے کام شاہینہ بیگم خود کرتی یا اپنی بیٹیوں سے کرواتی ۔ وہ بہت زیادہ صفائی پسند تھی اور ملازما کے ہاتھ کا پکا پسند نہیں کرتی تھی ۔
٭٭٭
ثوبان اپنی نئی گاڑی لے کر گھر سے باہر نکل گیا تھا ۔فور ڈور ٹویوٹااس کی پسندیدہ گاڑی تھی ۔عام کاروں کے مقابلے میں یہ پہاڑی علاقے کے لیے بہت موزوں تھی ۔اور وہ ہر سال کسی نہ کسی پہاڑی سٹیشن پر ضرور جایا کرتا ۔کبھی دوستوں کے ہمراہ کبھی اکیلا۔
احمر ،حمزہ اور اختر کو ان کے گھر سے اٹھا کر وہ لانگ ڈرائیو پر نکل گیا ۔دوپہر کا کھانا انھوں نے لاہور سے باہر سڑک کے کنارے بنے ایک ہوٹل میں کھایا تھا۔وہ سہ پہر ڈھلے واپس لوٹے تھے ۔ دوستوں کو ان کے گھروں پر اتار کر وہ اپنے گھر کی جانب مڑا تو اچانک ایک سرگوشی کی طرح اس کے دماغ میں نیہا کی آواز ابھری ۔
”فرمائش نہیں کر رہی ،دھمکی دے رہی ہوں،اگر کل شام تک میرے لیے مذکورہ موبائل نہ آیا تو جب تک میں یہاں ہوںتم کوئی موبائل استعمال نہیں کر سکو گے۔ موقع ملتے ہی میں تمھارا موبائل توڑ دودیا کروں گی ۔یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔“
”کمینی ….“غصے سے کہتے ہوئے اس نے اپنی گاڑی موبائل مارکیٹ کی جانب موڑ دی ۔ایک گھر میں رہتے ہوئے وہ اپنا موبائل اس کی دسترس سے دور نہیں رکھ سکتا تھا۔ایک جاننے والے کی دوکان پر جا کر اس نے ڈبا پیک آئی فون سیون اٹھایا اور اسے اگلے دن پیسوں کی ادائی کا وعدہ کر کے اس نے اپنے گھر کا رخ کیا ۔
گیراج میں گاڑی روک کر وہ نیچے اترا تو داا جان کو بے قراری سے ٹہلتے پایا۔شام کی آذان ہو رہی تھی ۔
”بیٹا دولھن کو کس وقت لاو گے ؟“دادا جان نے اسے دیکھتے ہی پوچھا ۔
”رات کا کھانا تو وہ اپنے گھر ہی میں کھائے گی داداجان !تو عشاءکی نماز پڑھ کر لے آئیں گے۔“
”چلو ٹھیک ہے ۔“کہہ کر وہ نماز کے لیے چلا گیا ۔ثوبان نے بھی کمرے میںجا کر وضو کیا اور گھر ہی میں نماز پڑھ لی ۔عشاءکی نماز کے بعد وہ امی کو ساتھ لے کر چچا کے گھر نیہا کو لینے چلا گیا ۔فرخندہ ،کبھی بھی شاہینہ کے گھر جانے پر تیار نہ ہوتی مگر دادا جان کی وجہ سے اسے انکار کی ہمت نہ ہوئی ۔
نیہا تیار بیٹھی تھی ۔انھیں دیکھتے ہی وہ اپنی ماں سے اجازت لے کر چل پڑی۔دونوں ماں بیٹا اس سے کوئی بات چیت کیے بغیر اسے واپس لے کر آ گئے ۔
نیہا آتے ساتھ اپنے کمرے میں گھس گئی ۔ثوبان کچھ دیر ٹی وی لاو¿نج میں بیٹھا رہا ۔ جب اسے نیند آنے لگی تو اٹھ کر کمرے میں گھس گیا ۔بیڈ پر سونے کی باری نیہا کی تھی ۔وہ بیڈ بیٹھی بڑے مزے سے نئے موبائل سے کھیل رہی تھی ۔تپائی پر ڈبا پیک نیا موبائل فون دیکھ کر اس نے کسی سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں تھی ۔
”ویسے یہ تم نے عقل مندی کی کہ کالی باڈی والا موبائل سیٹ خریدا ہے ۔“
وہ جواب دیے بغیر اپنا موبائل فون چارجنگ پر لگا کر غسل خانے میں گھس کر رات کے کپڑے پہننے لگا ۔
کپڑے بدل کر وہ باہر نکلااور بیڈ سے چادر اور تکیہ اٹھاصوفے پر لیٹ گیا ۔
وہ کسی کا نمبر ڈائل کر رہی تھی ۔
”ہیلو ….ارم !….کیسی ہو ؟“
اس کے منہ سے ارم کا نام سن کر وہ چونک کر اسے دیکھنے لگا ۔
”ثوبان میرے لیے نیا موبائل فون لایا تھا تو میں نے سوچا سب سے پہلے تمھیں کال کر کے بتا دوں ۔آئی فون سیون لے کر دیا ہے مجھے ۔“
ایک لمحا خاموش رہ کر وہ کھلکھلا کر ہنسی ۔
”تو میں نے کب کہا کہ یہ کوئی بہت ہی قیمتی فون ہے اور کسی چیز کی قیمت تو دینے والے کی شخصیت کی وجہ سے کم یا زیادہ ہوتی ہے نا۔“ یہ کہہ کر وہ طنزیہ انداز میں ہنسنے لگی ۔اور پھر شاید ارم نے رابطہ منقطع کر دیا تھا کہ اس نے موبائل فون کان سے ہٹا لیا ۔
”سوری تمھارے موبائل فون سے ارم کا فون نمبر لیا تھا ۔“وہ اسے مخاطب ہوئی ۔
”اس بے ہودہ اور گھٹیاحرکت کا مطلب ؟“
”بے ہودگی کیسی؟اور گھٹیا حرکت تووہ کر رہی ہے جو ایک شادی شدہ مرد کے پیچھے بھاگ رہی ہے ۔“
”مس نیہا اکرام !تم اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہو،کہیں بہت زیادہ نقصان نہ اٹھا لو۔“
”میں ضرور ڈرتی اگر تمھیں کسی قابل سمجھتی ۔“طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اس نے موبائل فون سے سم کارڈ باہر نکالااور خواب گاہ کا دروازہ کھول کر ملازما کو آواز دینے لگی ۔
”جی بی بی جی !….“بوڑھی ملازما نے قریب آ کر ادب سے پوچھا ۔
”ماسی !….تمھارا کوئی بیٹا بیٹی نہیں ہے ؟“
”بیٹی ہے بی بی جی !“
”کیا کرتی ہے ؟“اس نے اگلا سوال پوچھا ۔
”پڑھتی ہے بی بی جی!“
”اچھا ،تو کس کلاس میں ہے ؟“
”بارھویں جماعت میں بی بی جی !“
”گڈ ،تو ایسا کرنا میری طرف سے اسے یہ موبائل فون دے دینا ۔“اس نے قیمتی موبائل فون مع چارجر اس کی جانب بڑھایا۔
”یہ ….یہ تو بہت مہنگا فون ہے بی بی جی !“بوڑھی ملازما ہکلا گئی تھی ۔
”ہاں تو کیا ہوا،تم کب سے ان گھر والوں کی خدمت کر رہی ہو، انھیں تمھارا خیال نہ سہی مجھے تو ہے۔بس دعا کرنا کہ اللہ پاک میرے دشمن کا منہ کالا کرے اور مجھے ہر میدان میں سرخ رو کرے ۔“
بوڑھی ملازما موبائل فون اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس کے لیے دعائیں اور اس کے دشمنوں کو کوسنے دیتی چلی گئی ۔
اس نے بھرپور انداز میں انگڑائی لی ۔ثوبان جو اسے کڑی نگاہوں سے گھور رہا تھا۔ جلدی سے نگاہیں چرا لیں ۔
”پہلے مجھے خیال آیا تھا کہ اسے توڑ دوں ۔کیونکہ تمھاری طرف سے ملی ہوئی زندگی بھی مجھے نہیں چاہیے یہ تو تھرڈ کلاس موبائل فون تھا ۔لیکن پھر خیال آیا چلو کسی غریب کو دے دوں۔“
”تمھاری یہ حرکتیں بس تمھاری تربیت کو ظاہر کر رہی ہیں ۔“
”بالکل ،غریبوں کی مدد کرنا میری تربیت میں شامل ہے ۔“اس نے بیڈ پر بیٹھ کر کتاب کھول لی ۔سارا دن وہ سوئی رہی تھی اور اس وقت اسے بالکل ہی نیند نہیں آرہی تھی ۔
ثوبان اس کے ساتھ مزید مغز ماری کرنے کے بجائے اٹھا اور لائیٹ آف کر دی ۔ لائیٹ کے بٹن بیڈ کے ساتھ لگے تھے ۔وہ بہ مشکل صوفے تک پہنچا تھا کہ اس نے دوبارہ لائیٹ آن کرتے ہوئے کہا۔
”مجھے پڑھائی کرنی ہے ….تمھیں لائیٹ بری لگ رہی ہے تو چہرے پر کپڑا لے لو۔“
وہ غضب ناک ہوا ۔”تم ڈرائینگ روم یا ٹی وی لاونج میں جا کر پڑھ لو۔“
اس نے بے پرواہی سے کہا۔”میں کیوں جاو¿ں،تمھارا گھر ہے۔ تم خود چلے جاو¿۔یوں بھی تم نے آج صوفے پر سونا ہے تو یہاں نہ سہی، ڈرائینگ روم یا ٹی وی لاو¿نج کا صوفہ سہی ۔“
ثوبان چند لمحے غصے سے اسے گھورتا رہا مگر وہ اس کی طرف توجہ دئے بغیر مطالعے میں مصروف رہی ۔جب اس نے دیکھا کہ وہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں تو ثوبان نے اپنی الماری کھول کر پیچ کس نکالا۔اور بیڈ کے پاس جا کر الیکٹرک بورڈ کے پیچ کھولنے لگا ۔
نیہا حیرانی سے اس کی حرکت دیکھنے لگی ۔الیکٹرک بورڈ کا اوپری کور ہٹا کر اس نے لائیٹ والی تار بٹن سے علاحدہ کر دی ۔کمرے میں اندھیرا چھا گیا تھا ۔
”لو کر لو مطالعہ ۔“طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے وہ صوفے پر جا کر لیٹ گیا ۔
”جاہل گنوار ۔“وہ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے لیٹ گئی ۔
٭٭٭
اگلے روزورزش سے واپسی پر اس نے الیکٹرک بورڈ ٹھیک کر دیا تھا ۔وہ جان بوجھ کر ورزش سے دیر سے لوٹا تھا اور پھر واپس آکر بورڈ ٹھیک کرنے لگا تاکہ باقی ناشتے سے فارغ ہو جائیں ۔نیہا بھی اسے ناشتے کی ٹیبل پر نہ پاکر کافی خوش ہوئی تھی ۔مگر اس وقت اس کی خوشی ہوا ہو گئی جب دادا جان نے کہا ۔
”نیہا بیٹی !….ثوبان کا ناشتا اسے کمرے میں دے آو¿۔“
”وہ یہیں آ کر کر لے گا نا ابوجی !“فرخندہ نے کہا۔
”نہیں بہو !….بیوی کا شوہر کے کام کرنا آپس کی محبت کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔“
فرخندہ کو خاموش ہوتے بنی ۔وہ بھی دل پر بھاری پتھر رکھ کر ٹرے میں ناشتے کے لوازمات رکھنے لگی ۔
ثوبان نہا کر باہر نکلا تو وہ ناشتے کی ٹرے کے ساتھ اندرداخل ہو رہی تھی ۔اس کے منہ میں کڑواہٹ گھل گئی ۔
ناشتے کی ٹرے ٹیبل پر رکھ کر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی ۔
ثوبان کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ اس کا لایا ہوا ناشتا کھائے اور ڈائینگ ٹیبل پر وہ جا نہیں سکتا تھا ۔کہ دادا جان اگر اسے وہاں دیکھ لیتا تو ضرور پوچھتا کہ ناشتا تو اس کے لیے نیہا کمرے میں لے کر گئی ہوئی ہے ۔سب سے بڑھ کر اسے ورزش کے بعد اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی ۔
اسے متذبذب دیکھ کر وہ بولی ۔
”مسٹر ثوبان !….تمھاری اطلاع کے لیے بتاتی چلوںکہ میں نے ہاٹ پاٹ سے آملیٹ اور پراٹھااپنے ہاتھ سے نکالا ہے اور دودھ میں چینی گھولنے کے بعد انگلی ڈال کر میٹھا بھی چیک کیا تھا ۔“
ثوبان نے کڑی نظروں سے اسے گھورا ۔اور پھر کچھ کہے بنا اٹھ کر گھر سے باہر نکل گیا۔جبکہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگی تھی ۔
ان کا رات کا کھانا ضیاءالحق کے دوست کے ہاں تھا ۔یہ ان دونوں کے لیے ایک اور آزمایش تھی ۔وہ جتنا ایک دوسرے سے دور بھاگتے حالات انھیں قریب کر دیتے ۔مستنصر حسین ضیاءالحق کا بہت پرانا دوست تھا ۔ان کے گھر ثوبان اور نیہا کی بہت آوبھگت ہوئی ۔وہاں سے واپس آتے ہوئے جب اس نے گاڑی سرخ بتی پر روکی تو ایک چھوٹا بچہ خوب صورت گجرے تھامے گاڑی کے قریب آیا۔
”ثوبان بیٹا !….دولھن کے لیے گجرے لے لو ۔“عقبی نشست پر بیٹھے داداجان نے اسے آواز دی ۔اور ثوبان نے ہونٹ بھینچتے ہوئے جیب سے بٹوہ نکالااور بچے سے گجروں کی قیمت معلوم کر کے اسے پیسے دینے لگا ۔پیسے وصول کر کے بچے نے دو گجرے اس کی جانب بڑھا دئیے۔
ثوبان نیہا کی طرف گجرے بڑھانے ہی لگا تھا کہ ضیاءالحق نے آواز دی ۔
”بری بات بیٹا !….خریدنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔محبت تو بیوی کو اپنے ہاتھ سے پہنانے سے بڑھتی ہے ۔“
گہرا سانس لے کر اس نے نیہا کی کلائی تھامی ۔ایک دم انجانی خواہشات نے اس کے اندر سر ابھارا ۔اور گھبراہٹ میں اس نے دونوں گجرے ایک ہی کلائی میں پہنا دیئے ۔
اسی وقت اشارہ کھل گیا اورا س نے ایک جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھا دی ۔موتیے کے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو سے گاڑی کی اندرونی فضا مہک اٹھی تھی ۔
نیہا سے وہ خوشبو برداشت نہیں ہوئی تھی ۔اس نے اپنی طرف کی کھڑکی کا شیشہ نیچے کر دیااورٹریفک کے دھویں سے بوجھل ہوا اندر آنے لگی ۔اس کے شیشہ کھولنے کی وجہ ثوبان بھی جانتا تھا ۔یوں بھی وہ دونوں ایک دوسرے سے نفرت ظاہر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ۔
”پتا ہے بچو !….تمھاری دادی کو گجرے بہت پسند تھے ۔میں جب بھی شہر آتا واپسی پر اس کے لیے ضرور گجرے خریدا کرتا ۔اور اگر کسی دن مجھے بھول جاتا تو نیک بخت مجھ سے بات ہی نہیں کرتی تھی ۔“دادا پرانی یادوں میں کھو گیا ۔”پتا ہے میں نے تمھاری دادی کو منہ دکھائی میں خوب صورت کنگن دیئے تھے ۔نیک بخت نے مرتے دم تک ان کنگنوں کو اپنی کلائیوں سے نہ اتارا۔ویسے ثوبان بیٹا !….تم نے اپنی دلھن کو منہ دکھائی میں کیا دیا ہے ؟“اس نے ایک دم ثوبان سے پوچھا۔
”مم….میں نے دادا ….میں نے بھی کنگن دئیے ہیں ۔“وہ ایسے سوال کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا ۔
”اچھا ….ویسے دلہن کی کلائیوں میں نظر نہیں آ رہے نا؟“ضیاءالحق نے معصومیت سے اگلا سوال کیا ۔
”یہ خود ہی پہننا نہیں چاہتی ۔“ثوبان نے بال نیہا کے کورٹ میں پھینک دی ۔
”نیہا بیٹی !….میں کیا سن رہا ہوں ؟“
”دادا جی !….یہ ہزار بارہ سو کے آرٹیفشل کنگن اٹھا لایا تھا میں نے اپنی ملازما کو دے دئیے ۔اب ضیاءالحق کی پوتی اور اکرام الحق کی بیٹی ایسے کنگن پہننے سے تو رہی ۔“
نیہا کا وار کافی سخت تھا ۔ثوبان بے بسی سے ہونٹ کاٹنے لگا ۔
”ثوبان !….مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ۔“ضیاءالحق خفگی سے بولا۔”بہ ہر حال کل دلھن کے شایان شان تحفہ آجانا چاہیے۔“
”جی دادا جی !….میں نے جیولرز کو بتایا ہوا ہے ۔پہلے والے کنگن بس خانہ پری کے لیے دیئے تھے۔“
”گو اصل منہ دکھائی تو وہی ہوتی ہے جو پہلی رات کو دی جائے ،مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ ازالہ تو ہو جائے گا نا۔“
”چھوڑی دادا جی !….میرے لیے آپ والے کنگن کافی ہیں۔اب اگر یہ کوئی اچھا تحفہ لے بھی آئے تو میں نے استعمال نہیں کرنا۔آخر میری بھی عزت نفس ہے ۔“نیہا نے پہلے سے ثوبان کے تحفے کو استعمال نہ کرنے کا بہانہ ڈھونڈ لیا تھا ۔اور وہ بھی اس انداز میں کہ ساری بات ثوبان کے سر گئی تھی ۔
”چالاک لومڑی !“وہ زیر لب بولا۔مگر نیہا کے کانوں تک اس کی آواز پہنچ گئی تھی ۔ وہ طنزیہ انداز میں مسکرا دی ۔
”چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض نہیں ہوا کرتے بیٹی !“ضیاءالحق اب نیہا کو سمجھانے لگ گیا تھا ۔
”دادا جان !….یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے،میری اتنی زیادہ توہین ہوئی ہے اور معاف کیجیے گا میں اسی وجہ سے اس سے شادی نہیں کر رہی تھی ۔کیونکہ میں جانتی تھی کہ یہ میرے ساتھ یونھی پیش آئے گا ۔“نیہا کو تو اس کی تو ہین کا موقع ہاتھ آ گیا تھا۔
”نہیں دادا جی !….یہ بات نہیں ہے ۔اصل میں یہ خود میری کسی چیز کو اہمیت نہیں دیتی ۔ورنہ کل میں اس کے لیے ایک قیمتی موبائل فون لے کے آیا تھا جو اس نے اسی وقت ملازما کو دے دیا ۔اگر آپ کو یقین نہیں تو آپ اس سے معلوم کر سکتے ہیں ۔“
اس بات کا نیہا کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ضیاءالحق نے ان کے درمیان صلح کراتے ہوئے کہا۔”اچھا ایسا ہے کہ جو ہو گیا سو ہو گیا آئندہ کوئی بھی ایسا کام نہیں کرے گا اور اگر کسی نے کیا تو دوسرا مجھے بتا دے گا ۔بس اب صلح کر لو ۔“
انھیں مجبوراََ خاموش ہونا پڑا ۔ان کی لڑائی اور گلے شکوے دیکھ کر ضیاءالحق خوش ہواتھا کیونکہ گلے شکوے وہیں ہوتے ہیں جہاں محبت ہو ۔حالانکہ وہ یہ نہیں جانتا تھا وہ گلے شکوے مصنوعی تھے ۔محض ایک دوسرے کو دادا کے سامنے نیچا دکھانے کی کوشش کے علاوہ ان گلوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی نیہا نے سب سے پہلے تو وہ گجرے کلائی سے نکال کر کوڑا کرکٹ کی ٹوکری میں پھینکے تھے ۔اور پھر وہ بے خیالی میں کلائی رگڑنے لگی گویا کلائی سے چمٹی خوشبو کو بھی کھرچنا چاہتی ہو ۔
ثوبان نے اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا ۔ اور لباس بدل کر خاموشی سے لیٹ گیا ۔ وہ بھی لیٹ گئی تھی مگر اسے صوفے پر نیند نہیں آ رہی تھی ۔کافی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد وہ اٹھ بیٹھی نائیٹ بلب کی روشنی میں آرام و اطمینان سے لیٹے ثوبان پر اسے اتنا غصہ آیا کہ اس کا گلا ہی دبا دے ۔کیونکہ وہ خود تو سخت جان تھا اور صوفے پر بھی آرام سے سو سکتا تھا ۔اسے یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ ایک نازک اندام لڑکی کو رات رات بھر صوفے پر لٹائے رکھے ۔
اچانک اس کے ذہن میں تجویز آئی کہ بیڈ کا کافی حصہ خالی پڑا تھا ۔ثوبان ایک جانب ہی پر لیٹا تھا ۔وہ خاموشی سے دوسرے کونے پر لیٹ سکتی تھی ۔اور صبح اس کے جاگنے سے پہلے وہ اٹھ کر صوفے پر آجاتی۔یوں بھی وہ سحر خیز تھی ۔دوران پڑھائی وہ صبح صادق کے وقت ہی اٹھ کر پڑھا کرتی تھی ۔
تکیہ اور چادر اٹھا کر وہ بیڈ کی طرف بڑھ گئی ۔لیٹنے سے پہلے اس نے نائیٹ بلب بھی بجھا دیا تھا ۔چند منٹ تو وہ بے اطمینانی محسوس کرتی رہی مگر جب ثوبان کی طرف سے کوئی ردعمل ظاہر نہ ہوا تو اس کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں اور پھر وہ سو گئی ۔
**********جاری ہے**********
اگر پوسٹ اچھی لگی تو شئیر ضرور کیجیے گا………مزید ایسی پوسٹ کے لیے ہمارا پیج لائیک کریں اور ساتھ فالو کے بٹن پر کلک کر کے سی فرسٹ آل See First All پر کلک کریں

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/