#hamidnaved شمشیر بے نیام قسط نمبر 50 ’’رومیو!م…

شمشیر بے نیام
قسط نمبر 50
’’رومیو!میں تمہارا قاتل ہوں۔‘‘’’میں خدا کا قہر بن کر تم پر گروں گا۔‘‘’’میرا نام ضرار بن الازور ہے۔‘‘رومیوں کی طرف سے ضرار کے مقابلے کیلئے آنا تھا لیکن چار پانچ رومی سوار آگے آگئے۔ضرار نے پہلے اپنی خود اتاری پھر زرہ اتاری پھر قمیض بھی اتاردی، اور کمر تک برہنہ ہو گئے۔تب ان رومیوں نے انہیں پہچانا جو بصرہ میں انہیں اس حالت میں لڑتے دیکھ چکے تھے،اور وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ اس شخص میں جنات جیسی پھرتی اور طاقت ہے حقیقت بھی یہی تھی۔ضرار ایک سے زیادہ آدمیوں کا مقابلہ کرنے کی خصوصی مہارت رکھتے تھے۔ضرار کے مقابلے میں جو رومی آئے تھے ان میں دوسالار بھی تھے۔ایک طبریہ کا اور دوسرا عمان کا حاکم یا امیر تھا۔باقی بھی کوئی عام سپاہی نہیں تھے۔وہ کمانداروں کے رتبے کے تھے۔انہوں نے ضرار کو گھیرے میں لینے کیلئے گھوڑوں کے رخ موڑے۔ضرار نے اچانک گھوڑے کو ایڑ لگائی اور جب وہ عمان کے حاکم کے قریب سے گزر گئے تو یہ سالار اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر ہی دوہرا ہو گیا پھر گھوڑے سے لڑھک کر نیچے جا پڑا۔ضرار کی تلوار اس کے پہلو سے اس کے جسم میں گہری اتر گئی تھی۔حیران کن پھرتی سے ضرار کا گھوڑا مڑااور ایک اور رومی ان کی تلوار سے کٹ کر گرا۔ضرار ایسی چال چلتے اور ایسا پینترا بدلتے تھے کہ رومی سواروں کے دو تین گھوڑے آپس میں ٹکراجاتے یا ایک دوسرے کے آگے آجاتے تھے۔اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ضرار ان میں سے ایک کو تلوار سے کاٹ جاتے تھے۔کوئی رومی سوار گرتا تھا تو مسلمان بڑے جوش سے نعرے لگاتے تھے۔ضرار کا یہ عالم تھا جیسے ان میں مافوق الفطرت طاقت آگئی ہو۔اپنے مقابلے میں آنے والے رومیوں میں سے زیادہ تر کو انہوں نے گرا دیا۔ان میں سے ایک دو ایسے بھی تھے جنہیں مہلک زخم نہیں آئے تھے لیکن وہ دوڑتے گھوڑوں کے قدموں تلے کچلے گئے۔دو رومی سوار بھاگ کر اپنے لشکر میں چلے گئے-
ضرارفاتحانہ انداز سے خون ٹپکاتی تلوار کو لہراتے اور رومیوں کو للکار رہے تھے:’’میں سفید چمڑی والوں کا قاتل ہوں……رومیو!میری-تلوار تمہارے خون کی پیاسی ہے۔‘‘مؤرخوں (واقدی، ابنِ ہشام اور طبری)نے لکھاہے کہ دس رومی سوار گھوڑے دوڑاتے آگے آئے۔یہ سب سالاری سے ذرا نیچے کے عہدوں کے رومی تھے۔خالدؓ نے جب دس سواروں کو آگے آتے دیکھاتو اپنے محافظ دستے میں سے انہوں نے دس سوار منتخب کیے اور انہیں آگے لے گئے۔رومی سوار ضرار کی طرف آرہے تھے۔خالدؓ نے نعرہ لگایا۔’’خدا کی قسم!ضرار کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘اس کے ساتھ انہوں نے اپنے دس سواروں کو اشارہ کر کے گھوڑے کو ایڑ لگائی۔دس سوار ان کے ساتھ گئے۔رومی سواروں کی نظریں ضرار پر لگی ہوئی تھیں۔خالدؓ اور ان کے سوار رومی سواروں پر جا جھپٹے۔ضرار کی تلوار بھی حرکت میں آگئی۔رومیوں نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن خالدؓ اور ان کے سواروں کی تیزی اور تندی نے رومیوں کی ایک نہ چلنے دی اور سب کٹ گئے۔رومی سالاروں نے اسے اپنی بے عزتی سمجھااور مزید آدمیوں کو انفرادی مقابلوں کیلئے آگے بھیجنے لگے۔ضرار نے ان میں سے دو تین کو ہلاک کر دیا۔
مقابلے کیلئے آگے آنے والے ہر رومی کے ساتھ ضرار ہی مقابلہ کرنا چاہتے تھے لیکن خالدؓ نے انہیں پیچھے بلالیا، اور دوسرے مجاہدین (تاریخوں میں ان کے نام نہیں)کو باری باری آگے بھیجا۔ہر مقابلے میں مجاہدین فاتح رہے۔ دونوں فوجوں کے درمیان بہت سے رومیوں کی لاشیں پڑی تھیں۔
مؤرخوں کے مطابق یہ مقابلے کم و بیش دو گھنٹے جاری رہے اور سورج اس مقام پر آگیاجس مقام پر خالدؓ چاہتے تھے کہ آجائے تو حملہ کریں گے۔مقابلوں کے دوران تیر انداز اور فلاخن سے پتھر پھینکنے والے خاموش کھڑے تھے۔مقابلہ ابھی جاری تھا، خالدؓ نے حملے کا حکم دے دیا۔یہ عام قسم کا حملہ تھا جسے ہلہ یا چارج کہا جاتا ہے۔اس سے پہلے رومی تیر اندازاور فلاخن بہت بڑی رکاوٹ تھے۔انہیں خاموش دیکھ کر خالدؓ نے حملہ کیا تھا۔حملہ اتنا زور دار تھا اور مجاہدین میں اتنا قہر بھرا ہواتھاکہ رومی سالارِ اعلیٰ وردان کو کوئی چال چلنے کی مہلت ہی نہ ملی۔وہ اپنے لشکر کے آگے کھڑا مقابلے دیکھ رہا تھا، اس نے پیچھے کو بھاگ کر اپنی جان بچائی۔توقع یہ تھی کہ وردان اپنی تعداد کی افراط کے بل بوتے پر اپنے پہلوؤں کو آگے بڑھا کر خالدؓ کے پہلوؤں سے آگے نکلنے اور عقب میں آنے کی کوشش کرے گا لیکن اسے اتنا ہوش ہی نہیں تھا،اس نے اپنے لشکر کو پھیلانے کے بجائے اس کی گہرائی زیادہ کر دی تھی یعنی دستوں کے پیچھے دستے رکھے تھے۔اس کی یہ ترتیب بڑی اچھی تھی،لیکن خالدؓکی چال نے اس کی ترتیب کو اس کیلئے ایک مسئلہ بنا دیا۔مسلمان دستوں نے سامنے سے حملہ کیا تو رومیوں کے اگلے دستے پیچھے ہٹنے لگے۔پچھلے دستوں کو اور پیچھے ہونا پڑا۔پھر ان کی ترتیب گڈ مڈ ہوگئی۔مسلمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچا، یہ بڑا ہی شدید معرکہ تھا اور بڑا ہی خونریز۔سورج مغرب کی سمت ڈھل گیا تھا۔خالدؓنے محسوس کیا کہ مجاہدین تھک گئے ہوں گے،انہوں نے مجاہدین کو معرکے سے نکلنے کا حکم دیا۔ ایسے لگا کہ رومی سالار بھی یہی چاہتے تھے۔انہوں نے اپنے دستوں کو پیچھے ہٹانا بہتر سمجھا۔جب دونوں فوجیں پیچھے ہٹیں تو پتہ چلا کہ رومی ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے ہیں، اور زخمیوں کی تعداد بھی بے شمار ہے۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کا نقصان بہت ہی تھوڑا تھا۔سورج غروب ہونے کو تھا اس لیے دونوں میں سے کوئی بھی فوج حملہ نہیں کر سکتی تھی ۔اس طرح پہلے روز کی جنگ ختم ہو گئی۔رات کو دونوں فوجوں کے سالاروں نے اپنے اپنے نائب سالاروں وغیرہ کو بلایا، اور اپنے اپنے نقصان کا جائزہ لینے لگے اور اگلی کاروائی کے متعلق سوچنے لگے۔رومیوں کے سالارِ اعلیٰ وردان کی کانفرنس میں گرما گرمی زیادہ تھی۔وردان نے صاف کہہ دیا کہ جنگ کی یہی صورتِ حال رہی جو آج ہو گئی تھی تو نتیجہ ظاہر ہے کیا ہو گا اور اس نتیجے کا نتیجہ کیا ہوگا۔’’کیا میں نے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا؟وردان کے سالار قُبقُلار نے کہا۔’’میں اب بھی کہتا ہوں کہ اور زیادہ سوچو اور وجہ معلوم کرو کہ ہر میدان میں فتح مسلمانوں کی ہی کیوں ہوتی ہے اور وہی خوبی ہماری فوج میں کیوں پیدا نہیں ہوتی،آج کی لڑائی دیکھ کر مجھے اپنی فتح مشکوک نظر آنے لگی ہے۔
’’کیا تو یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہم میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں؟‘‘وردان نے کہا۔’’میں تم سب کو کہتا ہوں کہ اپنی اپنی رائے اور مشورہ دو کہ ہم مسلمانوں کو کس طرح شکست دے سکتے ہیں۔‘‘قُبقُلار کے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ آگئی۔اس نے کچھ بھی نہ کہااور دوسرے سالار اپنی آراء اور مشورے دینے لگے۔ان سالاروں کے مشورے مختلف تھے لیکن ایک بات مشترک تھی ۔سب کہتے تھے کہ مسلمانوں کو شکست دینی ہے اور ایسی شکست کہ ان میں سے زندہ وہی رہے جو جنگی قیدی ہو۔’’اگر خالد ان کا سالار نہ ہو تو انہیں شکست دینا آسان ہو جائے۔‘‘ایک سالا رنے کہا۔’’وہ جدھر جاتا ہے اس کی شہرت اور دہشت اس کے آگے آگے جاتی ہے۔ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کے اس سالار میں اتنی زیادہ جنگی مہارت ہے جو بہت کم سالاروں میں ہوتی ہے ……میں ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں۔‘‘سب متوجہ ہوئے۔’’مسلمانوںکو خالد سے محروم کر دیا جائے۔‘‘اس نے کہا۔’’اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے……قتل!‘‘’’کل کی لڑائی میں اسے قتل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘‘وردان نے کہا۔’’یہ مشورہ کوئی مشورہ نہیں۔‘‘’’لڑائی میں ابھی تک اسے کوئی قتل نہیں کر سکا۔‘‘مشورہ دینے والے سالار نے کہا۔’’میری تجویز یہ ہے کہ ہماری طرف سے ایک ایلچی خالد کے پاس جائے اور کہے کہ ہم مزید خون خرابہ روکنا چاہتے ہیں۔ہمارے پاس آؤ، اور ہمارے ساتھ بات چیت طے کرلو۔وہ جب ہمارے سالارِ اعلیٰ وردان سے ملنے آرہا ہوتو کم از کم دس آدمی راستے میں گھات میں بیٹھے ہوئے ہوں۔وہ خالد کو اس طرح قتل کریں کہ اس کے جسم کی بوٹی بوٹی کردیں۔‘‘’’بہت اچھی تجویز ہے۔‘‘وردان نے کہا۔میں ابھی اس کا بندوبست کرتا ہوں……داؤد کو بلاؤ۔‘‘تھوڑی ہی دیر بعد ایک عیسائی جس کا نام تاریخوں میں داؤد لکھا ہے وردان کے سامنے کھڑا تھا۔’’داؤد!‘‘رودان نے اس عیسائی عرب سے کہا۔’’ابھی مسلمانوں کی خیمہ گاہ میں جاؤاور ان کے سپہ سالار خالدبن ولید کو ڈھونڈ کر اسے بتانا کہ میں رومیوں کے سالار کا ایلچی ہوں۔اسے میری طرف سے یہ پیغام دینا کہ ہم اس کے ساتھ صلح کی بات کرنا چاہتے ہیں۔وہ ہمارے پاس کل صبح آئے اور ہمارے ساتھ بات کرے کہ کن شرائط پر صلح ہو سکتی ہے۔اسے یہ بھی کہنا کہ اس بات چیت میں صرف وہ اور میں اکیلے ہوں گے۔ہم دونوں کے ساتھ ایک بھی محافظ نہیں ہوگا۔‘‘داؤد معمولی آدمی نہیں تھا، نہ وہ فوجی تھا۔وہ قیصرِ روم کا ایک طرح کا نمائندہ تھا، اور اس کا رُتبہ وردان سے ذرا ہی کم تھا۔
’’وردان!‘‘داؤد نے کہا۔’’میرا خیال ہے کہ تم قیصرِ روم کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہو۔ کیا شہنشاہِ ہرقل نے یہ حکم نہیں بھیجاتھا کہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کردو؟میں سمجھ نہیں سکتا کہ تم صلح اور شرائط کی بات کس کے حکم سے کر رہے ہو……میں صلح کا پیغام لے کر نہیں جاؤں گا۔‘‘
’’پھر تمہیں اپنے راز میں شریک کرنا پڑے گا۔‘‘وردان نے کہا۔’’میں مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے کا ہی منصوبہ بنارہاہوں۔میں خالد بن ولید کو صلح کا دھوکا دے رہا ہوں،وہ اگر آگیا تو مجھ تک اس کی لاش پہنچے گی۔میں نے راستے میں اس کے قتل کا انتطام کر رکھاہے۔‘‘’’اگر یہ کام کرنا ہے تو میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘داؤد نے کہا۔’’میں ابھی جاتا ہوں۔‘‘داؤد مسلمانوں کے کیمپ میں چلاگیا۔ہر طرف چھوٹی بڑی مشعلیں جل رہی تھیں۔داؤد نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ رومیوں کا ایلچی ہے، اور ان کے سپہ سالار کیلئے پیغام لایا ہے۔اسے اسی وقت خالدؓکے خیمے تک پہنچا دیا گیا۔داؤد آداب بجالایا اور اپنا تعارف کراکے وردان کا پیغام دیا۔خیمے میں مشعلوں کی روشنی تھی۔خالدؓ نے داؤد سے اتنا بھی نہ کہا کہ وہ بیٹھ جائے۔وہ خالدؓ کے سامنے کھڑا رہا۔خالدؓآہستہ آہستہ اٹھے، اور اس کے تھوڑا اور قریب چلے گئے۔ان کی نظریں داؤد کی آنکھوں میں گڑ گئی تھیں۔انہوں نے داؤد سے کچھ بھی نہ کہااور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتے رہے، خالدؓدراز قد اور قوی ہیکل تھے۔ان کی شخصیت کا پر تو ان کی آنکھوں کی چمک میں تھا۔اس دور کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ خالدؓ کی آنکھوں کا سامنا کوئی مضبوط دل گردے والا ہی کرسکتا تھا۔یہ ایمان کا جلال تھا اور آنکھوں کی اس چمک میں عشقِ رسولﷺرچا بسا تھا۔اس کے علاوہ خالدؓ شام کے علاقے میں خوف و ہراس کا ایک نام بن گیا تھا۔خالدؓ داؤد کو دیکھے جا رہے تھے۔ داؤد کا ضمیر مجرمانہ تھا، وہ خالدؓکی نظروں کی تاب نہ لا سکا، مؤرخ لکھتے ہیں کہ خالدؓکے چہرے پر ایک یا دو زخموں کے نشان تھے جن سے ان کا چہرہ بگڑا تو نہیں تھا لیکن زخموں کے نشانات کا اپنا ایک تاثر تھا جو داؤد کیلئے غالباً دہشت ناک بن گیا تھا۔’’اے عربی سالار!‘‘داؤد بوکھلائے ہوئے لہجے میں بولا۔’’میں فوجی نہیں ہوں، میں ایلچی ہوں۔‘‘’’سچ بول داؤد!‘‘خالدؓنے اس کے ذرا اور قریب آکر کہا۔’’تو ایک جھوٹ بول چکا ہے ، اب سچ بول اور اپنی جان سلامت لے جا۔‘‘داؤد خالدؓ کے سامنے کھڑا چھوٹا سا آدمی لگتا تھا۔ حالانکہ قد اس کا بھی کچھ کم نہیں تھا۔’’اے عربی سالار!‘‘داؤد نے اپنے جھوٹ کو دہرایا۔’’میں صلح کا پیغام لے کر آیا ہوں، اور اس میں کوئی دھوکا نہیں۔‘‘’’اگر تو دھوکا دینے آیا ہے تو میری بات سن لے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’جتنی مکاری اور عیاری ہم لوگوں میں ہے اتنی تم میں نہیں۔مکروفریب میں ہمیں کوئی مات نہیں دے سکتا۔اگر تمہارے سپہ سالار وردان نے کوئی فریب کاری سوچی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ رومیوں کی تباہی کا عمل اس سے تیز ہوجائے گا جتنا میں نے سوچا تھا……اور اگر اس نے سچی نیت سے صلح کا پیغام بھیجا ہے تو جاؤ اسے کہو کہ جزیہ ادا کردے پھر ہم صلح کر لیں گے۔
داؤد میں اتنی سی بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ کوئی اور بات کرتا۔وہ آداب بجا لاکر چل پڑا۔خیمے کے دروازے میں جاکر پیچھے دیکھا، خالدؓکی نظریں ابھی تک اسے گھور رہی تھیں۔داؤد نے منہ پھیر لیا لیکن چلا نہیں ، وہیں کھڑا رہا۔وہ محسوس کر رہا تھا کہ خالدؓ کی نظریں اس کی کھوپڑی میں سے گزر کر اس کی آنکھوں میں داخل ہو رہی ہیں۔وہ خالدؓکی طرف گھوما، اور اچانک اس طرح تیز قدم اٹھائے جیسے خالدؓ پر جھپٹنے لگا ہو۔’’ابنِ ولید!‘‘داؤد نے شکست خوردہ آواز میں کہا۔’’میں تجھے دھوکا دینے آیا تھا۔‘‘اس نے وردان کی سازش پوری کی پوری بیان کر دی اور یہ بھی بتا دیا کہ کل صبح وردان کے دس آدمی کس جگہ گھات میں ہوں گے۔’ تفصیل سے پڑھئے
’کیا تو بتا سکتا ہے؟‘‘خالدؓ نے داؤد سے پوچھا۔’’کہ تو جاتے جاتے رک کیوں گیا اور تو نے یہ سچ کیوں بولا؟‘‘’’سچ کا صلہ لینے کیلئے۔‘‘داؤد نے کہا۔’’مجھے نقد انعام کی ضرورت نہیں۔جس فوج کے سالار کی نظریں انسانوں کے جسموں میں برچھی کی طرح اتر جانے والی ہوں اس فوج کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی……اے عربی سالار!میرا تجربہ اور میری عقل بتاتی ہے کہ فتح تیری ہوگی۔میں صرف اتنا صلہ مانگتا ہوں کہ جب تو ہماری بستیوں پر قبضہ کرلے تو میرے خاندان پر رحم کرنا، اور ان کی عزت کا ان کی جان و مال کا خیال رکھنا۔‘‘ اس نے بتایا کہ اس کا خاندان کون سی بستی میں رہتا ہے۔خالدؓ نے داؤد کو رخصت کر دیا۔داؤد نے واپس جاکر وردان کو بتایا کہ وہ خالدؓکو پیغام دے کر آگیا ہے اور خالدؓمقررہ وقت پر اکیلے آئیں گے۔داؤد نے خالدؓ کی شخصیت سے ایسا تاثر لیا تھا کہ اس نے اپنے آپ کو یقین دلایا تھا کہ رومی ہاریں گے اور فتح مسلمانوں کی ہوگی۔اس نے اپنی فوج کے سالارِ اعلیٰ سے جھوٹ بولاکہ خالدؓمقررہ وقت پر آجائیں گے۔صبح طلوع ہوئی۔ابو عبیدہؓ خالدؓکے پاس آئے۔خالدؓ نے انہیں رومی سالار وردان کی سازش بتائی۔
’’وہ دس رومی مجھے قتل کرنے کیلئے گھات میں پہنچ چکے ہوں گے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’میں چاہتا ہوں کہ اکیلا جاکر ان دس آدمیوں کو ختم کردوں۔بڑا اچھا شکار ہے۔‘‘’’نہیں ابنِ ولید!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’یہ تیرا کام نہیں۔دس آدمیوں کے مقابلے میں تو قتل یا زخمی ہو سکتا ہے۔تو بڑا قیمتی آدمی ہے۔ یوں کر، دس آدمی ایسے چن لے جو بہت ہی بہادر ہوں۔انہیں وہ جگہ بتا کر بھیج دے۔‘‘خالدؓنے دس مجاہدین منتخب کیے اور انہیں بتایا کہ کہاں کہاں جانا اور کیا کرنا ہے۔ان میں ضرار بن الازور بھی تھے۔انہیں ان دس آدمیوں کا کماندار مقررکیا گیا۔
مشہور مؤرخ واقدی نے یہ واقعہ ذرا مختلف بیان کیا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ طے یہ پایا تھا کہ خالدؓ اور وردان کی ملاقات ہوگی۔وردان خالدؓکو دبوچ لے گا۔اور اس کی پکار پر اس کے دس رومی گھات سے نکل کر خالدؓ کو قتل کر دیں گے۔تین اور مؤرخوں نے بھی یہ واقعہ اسی طرح بیان کیا ہے۔
وردان نے اپنے دس آدمی رات کے آخری پہر کی تاریکی میں گھات لگانے کیلئے بھیج دیئے تھے،خالدؓ نے اپنے دس آدمی اسی وقت کے لگ بھگ بھیج دیئے۔اس کے ساتھ ہی خالدؓ نے اپنے سالاروں سے کہا کہ وہ گذشتہ روز کی ترتیب سے میدانِ جنگ میں کھڑے ہو جائیں اور حملے کیلئے تیار رہیں۔وردان نے مسلمانوں کو جنگی ترتیب میں آتے دیکھ کر جنگی ترتیب میں ہوجانے کا حکم دیااور صبح طلوع ہوتے ہی وہ شاہانہ جنگی لباس میں اس جگہ چلا گیا جہاں اس نے خالدؓ کو ملاقات کیلئے بلایا تھا۔اُدھر سے خالدؓ بھی آگئے اور دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو گئے۔’’او عرب کے بدو!‘‘وردان نے خالدؓ سے کہا۔’’تو اور تیرے لوگ عرب میں بھوکے مرتے ہیں اور تُو قیصرِ روم کی شاہی فوج کے مقابلے میں آگیا ہے؟……او لٹیرے!کیا میں نہیں جانتا کہ تم لوگ وہاں مفلسی کی بد ترین زندگی گزارتے ہو؟‘‘’’او رومی کتے!‘‘خالدؓ نے غضب ناک آواز میں کہا۔’’میں تجھے آخری بار کہتا ہوں اسلام قبول کر لے یا جزیہ ادا کر۔‘‘وردان نے جھپٹ کر خالدؓکو اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا۔’’آؤ، آؤ!‘‘وردان نے اپنے دس آدمیوں کو پکارا جو قریب کہیں چھپے ہوئے تھے۔خالدؓ کم طاقتور تو تھے نہیں لیکن وردان بھی طاقت میں کچھ کم نہ تھا۔خالدؓنے بہت زور لگایا کہ وردان سے ذرا سا آزاد ہو جائیں، تاکہ تلوار نیام سے نکال سکیں لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔انہوں نے دیکھا کہ دس رومی اپنی فوجی وردی میں ان کی طرف دوڑے آرہے ہیں ۔خالدؓ کو اپناآخری وقت نظر آنے لگا۔انہیں توقع تھی کہ ضرار اور ان کے نو مجاہدین نے گھات والے دس رومیوں کو ختم کر دیا ہوگا مگر وہ دس کے دس زندہ چلے آرہے تھے۔خالدکو خیال آیا کہ ضرار اور ان کے مجاہدین رومیوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں یا بروقت پہنچ نہیں سکے۔رومی جب قریب آئے تو ایک نے خود، زرہ اور قمیض اتار کر پھینک دی، اور اﷲاکبر کا نعرہ لگایا۔تب خالدؓنے دیکھا کہ یہ تو ضرار ہے۔انہوں نے باقی نو کو قریب سے دیکھا تو وہ ان کے اپنے ہی منتخب کیے ہوئے مجاہدین تھے۔یہ مذاق ضرار بن الازور نے کیا تھا۔انہوں نے گھات میں بیٹھے ہوئے رومیوں کو بڑے اطمینان سے قتل کر دیا تھا پھر ان کی وردیاں اتار کر پہن لیں۔انہیں معلوم تھا کہ وردان پکارے گا۔وہ وردان کی پکار پر نکل آئے۔وردان خوش ہو گیا کہ اس کی سازش کامیاب ہو گئی ہے۔’’پیچھے ہٹ ابنِ ولید!‘‘ضرار نے تلوار نکال کر کہا۔’’یہ میرا شکار ہے۔‘‘اور وہ وردان کی طرف بڑھنے لگے۔’’قسم ہے تجھے اس کی جوکوئی بھی تیرا معبود ہے۔‘‘وردان نے خالدؓسے کہا۔’’مجھے اپنی تلوار سے ختم کر اور اس شیطان کو مجھ سے دور رکھ۔‘‘
ضرار نے اپنی ایک دہشت ناک مثال قائم کر رکھی تھی ، وردان نے ضرار کو ذاتی مقابلوں میں رومیوں کو کاٹتے بھی دیکھا تھا۔اسے ڈر تھا کہ ضرار اسے اذیت دے دے کر ماریں گے،اس کیلئے اب بھاگ نکلنا نا ممکن تھا۔وہ چاہتا تھا کہ اسے جلدی مار دیاجائے۔خالدؓ نے ضرا ر کو اشارہ کیا اور ہاتھ ان کی طرف بڑھایا۔ضرار نے اپنی تلوار خالدؓ کو دے دی۔وردان نے دوسری طرف منہ کر لیا، خالدؓکے ایک ہی وار سے وردان کا سر زمین پر جا پڑا۔خالدؓ وہاں رُکے نہیں۔فوراًاپنی فوج تک پہنچے اور حملے کا حکم دے دیا۔یہ حملہ بھی گذشتہ روز کی مانند تھا۔خالدؓنے قلب اور دونوں پہلوؤں کے دستوں کو ایک ہی بار ہلہ بولنے کا حکم دیا۔انہوں نے چار ہزار مجاہدین کا محفوظہ جس کے سالار یزیدؓ بن ابی سفیان تھے، پیچھے رکھا۔مسلمان حملہ کرتے اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور پھر حملہ کرتے تھے ۔رومی تعداد میں بہت زیادہ تھے لیکن ان کا سالارِ اعلیٰ ان میں نہیں تھا۔اس کی جگہ ان کا سالار قُبقُلار کما ن کر رہا تھا۔رومی جم کر مقابلہ کر رہے تھے لیکن مسلمانوں کے حملے غضب ناک تھے۔ان کے سالار سپاہیوں کی طرح لڑ رہے تھے۔خود خالدؓ سالارسے سپاہی بن گئے تھے۔رومی سالار لڑا نہیں کرتے بلکہ حکم دیا کرتے تھے۔لیکن اس معرکے میں وہ مسلمان سالاروں کی دیکھا دیکھی سپاہیوں کی طرح لڑنے لگے۔جنگ کی شدت اور خونریزی بڑھتی چلی گئی ۔دونوں طرف کوئی چال نہیں چلی جا رہی تھی۔زیادہ نقصان رومیوں کا ہو رہا تھا، ان کا لشکر تہہ در تہہ تھا۔خالدؓنے یہ سوچ کر اتنا شدید حملہ کرایا تھا کہ دشمن کا سالارِ اعلیٰ مارا جا چکا ہے اور مجاہدین یہ دیکھ کر تابڑ توڑ حملے کرتے تھے کہ رومیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ ایک دوسرے میں پھنس کہ رہ گئے ہیں۔
خالدؓحملے کا اک اور مرحلہ شروع کرنا چاہتے تھے جس کیلئے وہ موزوں موقع دیکھ رہے تھے۔چند گھنٹوں بعد انہیں یہ موقع ملا۔دونوں فوجیں تھک گئی تھیں۔رومیوں کو پتا چل گیا تھا کہ ان کا سالارِ اعلیٰ ان میں نہیں۔البتہ دوسرے رومی سالار پورے جوش و خروش سے لڑ بھی رہے تھے اور لڑا بھی رہے تھے۔خالدؓنے چار ہزار نفری کے محفوظہ کو جس کے سالار یزیدؓ بن ابی سفیان تھے، دشمن کے قلب پر حملے کا حکم دیا۔یہ چار ہزار مجاہدین تازہ دم تھے اور لڑائی میں شریک ہونے کیلئے اتنے بیتاب کہ نعرے لگاتے اور بے قابو ہوئے جاتے تھے۔حکم ملتے ہی وہ رُکے ہوئے سیلاب کی طرح گئے اور اتنا شدید حملہ کیا کہ رومیوں کی صفوں کے اندر تک چلے گئے۔مجاہدین کے سالار رومیوں کے سالار قُبقُلار کو ڈھونڈ رہے تھے۔مرکزی جھنڈا اسی کے پاس تھااور وہ وردان کا قائم مقام تھا۔پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اس نے وردان سے کہہ دیا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ صلح سمجھوتہ کر لیا جائے۔اس کی دور بین نگاہوں نے دیکھ لیا کہ مسلمان رومیوں پر غالب آجائیں گے۔وردان نے اسے ڈانٹ دیا تھا۔
مؤرخ طبری اور ابو سعید نے لکھا ہے کہ مجاہدین کو قُبقُلار مل گیا۔اسے دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔وہ سالار لگتا ہی نہیں تھا۔وہ تو جنگ سے لا تعلق کھڑا اس نے اپنے سر پر اس طرح کپڑا لپیٹا ہوا تھا کہ اس کی آنکھیں بھی ڈھکی ہوئی تھیں اس کے محافظوں نے بے دلی سے مقابلہ کیا شاید اس لیے کہ وہ اپنے سپہ سالار کو نیم مردہ سمجھ رہے تھے انہی سے پتا چلا تھا کہ یہ ہے قُبقُلار۔مجاہدین نے اسے اسی حالت میں قتل کر دیا، بعض مؤرخوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ قُبقُلار نے اپنی آنکھوں پر اس لیے کپڑا ڈال رکھا تھا کہ وہ اپنے لشکر کا قتل ِ عام نہیں دیکھ سکتا تھا۔اس کی قوتِ برداشت جواب دے گئی تھی۔رومیوں کا مرکزی پرچم گر پڑا۔ مجاہدین اب یہ نعرے لگا رہے تھے’’خدا کی قسم!ہم نے رومیوں کے دونوں سپہ سالاروں کو قتل کر دیا ہے۔‘‘’’رومیو !تمہارا پرچم کہاں ہے؟‘‘’’شہنشاہ ہرقل کو بلاؤ۔‘‘’’رومیو!تمہاری صلیبیں اور جھنڈے کہاں ہیں؟‘‘مجاہدین ِ اسلام تواپنے اﷲ و رسولﷺ اور ایک عقیدے کی خاطر لڑ رہے تھے لیکن رومی جن کے حکم سے لڑ رہے تھے وہ مارے جا چکے تھے۔ مجاہدین کے پاس ایمان کی قوت تھی، وہ جادو کی طرح رومیوں پر غالب آگئے۔رومی بھاگنے لگے۔ان میں سے کچھ بیت المقدس کی طرف بھاگے جا رہے تھے کچھ غزہ اور بعض یافا کی طرف۔رومیوں کی جنگی طاقت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کیلئے خالدؓنے اپنے سوار دستوں کو حکم دیا کہ بھاگتے دشمن کا تعاقب کریں اور کسی کو زندہ نہ چھوڑیں ۔وہ ایک عبرت ناک منظر تھا۔رومی جانیں بچانے کیلئے اِددھر اُدھر بھاگ رہے تھے اور مسلمان سوار ان کے تعاقب میں جاکر انہیں برچھیوں میں پرو رہے تھے۔ان رومیوں نے اپنی تعداد پر بھروسہ کیا تھا، شراب کے نشے کو وہ اپنی طاقت سمجھے تھے۔انہوں نے مسلمانوں کوغریب اور نادار سمجھ کر انہیں ایک ایک دینار پیش کیا تھا۔خالدؓ نے انہیں کہا تھا کہ تم سے دینار تو ہم لے ہی لیں گے۔اب ان رومیوں کو کہیں پناہ نہیں مل رہی تھی،ان کا میدانِ جنگ میں اتنا نقصان نہیں ہوا تھا جتنا میدانِ جنگ سے بھاگتے وقت ہوا۔ ان میں سے خوش قسمت وہ تھے جو بیت المقدس پہنچ گئے اور شہر میں داخل ہو گئے تھے۔یہ قتل عام اس وقت رُکا جب سورج غروب ہو گیا اور اندھیرا اتنا کہ سواروں کو اپنے گھوڑوں کے سر نظر نہیں آتے تھے۔اس وقت خالدؓ اپنے خیمے میں تھے۔انہیں بتایا گیا کہ داؤد نام کا اک عیسائی عرب ان سے ملنے آیا ہے۔خالدؓ نام سنتے ہی باہر کو دوڑے۔’’خدا کی قسم داؤد!‘‘خالدؓ اسے گلے لگا کر بولے۔’’تو نے میری فتح آسان کر دی ہے۔(بندوں کا شکریہ ادا کرنا بھی اعلیٰ اخلاق کی علامت ہوتی ہے۔)
کوئی بھی انعام کافی نہیں ہو سکتا جو میں تجھے دوں……کہاں ہیں تیرے بیوی بچے؟کسی نے ان پر ہاتھ تو نہیں اٹھایا؟‘‘’’نہیںابنِ ولید!‘‘داؤد نے کہا۔’’میں کوئی انعام لینے نہیں آیا۔مجھے انعام مل چکا ہے۔دیکھ میں زندہ ہوں اورمیرا سارا خاندان زندہ ہے۔اب ایک انعام مجھے یہ دے کہ یہ راز تیرے سینے میں رہے کہ میں نے تیری کچھ مدد کی تھی۔روم کی شہنشاہی زندہ ہے۔ابھی تو تُو اس شہنشاہی میں داخل ہوا ہے۔‘‘’’تیرا راز قیصرِ روم تک نہیں پہنچے گا۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’اور خداکی قسم!تو مالِ غنیمت کے حصے کا حقدار ہے۔میں تجھے حصہ دوں گا اور تو جو مانگے گا دوں گا۔‘‘چند روز بعد مدینہ میں عید جیسی خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔خالدؓنے امیرالمومنین ابو بکر صدیقؓ کو خط لکھاتھا کہ تین گنا طاقتور رومیوں پر کس طرح فتح حاصل کی گئی ہے، جس میں پچاس ہزاررومی ہلاک ہوئے ہیں۔اس کے مقابلے میں شہید ہونے والے مجاہدین کی تعدادچار سو پچاس تھی،خالدؓ کا یہ خط پہلے مسجد میں پڑھ کر سنایا گیا۔پھر مدینہ کی گلیوں میں لوگوں کو اکٹھا کرکے سنایا گیا،لوگ ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے لگے۔مدینہ فتح و مسرت کے نعروں سے گونجنے لگا۔خالدؓنے امیر المومنینؓ کو بھی یہی لکھا تھا کہ اب وہ دمشق کو محاصرے میں لیں گے جو شام کا یعنی روم کی شہنشاہی کا بڑا ہی اہم شہر تھا۔روم کی شہنشاہی بہت ہی وسیع تھی۔جب مدینہ اور گردونواح کے لوگوں کو یہ خبر ملی کہ خالدؓ رومیوں پر ایک فتح حاصل کرکے دمشق کی طرف بڑھ رہے ہیں تو کئی مسلمان خالدؓکی فوج میں شامل ہونے کیلئے تیار ہو گئے۔ان میں ابو سفیانؓ بھی تھے جو مشہور شخصیت تھے۔وہ اپنی بیوی ہند کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ایک ہزار تین سو باون سال پہلے ماہ اگست کے ایک روز جب مدینہ میں مسلمان اجنادین کی فتح پر خوشیاں منا رہے تھے ،مدینہ سے دور، بہت ہی دور، شمال میں روم کی شہنشاہی کے ایک اہم شہر حمص پر مایوسی اور ماتم کی سیاہ کالی گھٹا چھا گئی تھی۔رومیوں کے شہنشاہ پرقل کے محل میں قہر اور غضب کی آوازیں گرج رہی تھیں۔بصرہ کی شکست کی خبر لے کر جانے والا قاصد اگر وہاں سے کھسک نہ آتا تو ہرقل غصے میں اس کا سر کاٹ دیتا۔’’ہمارے سپہ سالار وردان کو کیا ہو گیا تھا؟‘‘شہنشاہِ ہرقل نے غضب ناک آواز میں پوچھا۔’’مارا گیا ہے۔‘‘اسے کانپتی ہوئی آواز میں جواب ملا۔’’اور وہ قُبقُلار؟……وہ کہتا ہے کہ میری تلوار کی ہوا سے ہی دشمن کٹ جاتا ہے۔‘‘’’وہ بھی مارا گیا ہے۔‘‘’’اورفاموس؟‘‘’’وہ لڑائی سے پہلے ذاتی مقابلے میں مارا گیا تھا۔
جاری ہے…


