منتخب نظمیں
اب سو جاؤ . کیوں رات کی ریت پہ بکھرے ہوۓ تاروں کے …

اب سو جاؤ
.
کیوں رات کی ریت پہ بکھرے ہوۓ
تاروں کے کنکر چنتی ہو
کیوں سناٹے کی سلوٹ میں
لپٹی آوازیں سنتی ہو
کیوں اپنی پیاسی پلکوں کی جھالر میں
خواب پروتی ہو
.
اب کون تمہاری آنکھوں میں
صدیوں کی نیند انڈیلے گا ؟
اب کون تمھاری چاہت کی
ہریالی میں کھل کھیلے گا ؟
اب کون تمہاری تنہائی کا
ان دیکھا دکھہ جھیلے گا ؟
.
اب ایسا ہے
یہ رات مسلط ہے جب تک
یہ شمعیں جب تک جلتیں ہیں
یہ زخم جہاں تک چبھتے ہیں
یہ سانسیں جب تک چلتی ہیں
تم اپنی سوچ کے جنگل میں
رہ بھٹکو اور پھر کھو جاؤ
.
” اب سو جاؤ ”
.
محسن نقوی
.
کیوں رات کی ریت پہ بکھرے ہوۓ
تاروں کے کنکر چنتی ہو
کیوں سناٹے کی سلوٹ میں
لپٹی آوازیں سنتی ہو
کیوں اپنی پیاسی پلکوں کی جھالر میں
خواب پروتی ہو
.
اب کون تمہاری آنکھوں میں
صدیوں کی نیند انڈیلے گا ؟
اب کون تمھاری چاہت کی
ہریالی میں کھل کھیلے گا ؟
اب کون تمہاری تنہائی کا
ان دیکھا دکھہ جھیلے گا ؟
.
اب ایسا ہے
یہ رات مسلط ہے جب تک
یہ شمعیں جب تک جلتیں ہیں
یہ زخم جہاں تک چبھتے ہیں
یہ سانسیں جب تک چلتی ہیں
تم اپنی سوچ کے جنگل میں
رہ بھٹکو اور پھر کھو جاؤ
.
” اب سو جاؤ ”
.
محسن نقوی
