( غیــر مطبــوعــہ ) ریگ جہاں سانس لینے کی مہلت…

ریگ
جہاں سانس لینے کی مہلت تلاش کرنی پڑے
وہاں دل میں چبھتی ہوئی پھانس کو نکالنے کا وقت کہاں بچتا ہے
گُم شدہ عمروں کی گنتی پوری نہیں ہوتی
اور دیوار پر ٹنگا ہوا کیلنڈر حساب مانگتا ہے
حساب کیسے دیں
بارشیں نہیں جانتیں
کہ آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو کیسے ضبط کئےجاتے ہیں
شاید….
امّاں کے پرانے سنگھار میز کا دھندلا آئینہ جانتا ہو گا
کہ ایک بات کہنے کے لئے
کتنی خاموشی سہنی پڑتی ہے
اور باقی بچے ہوئے وقت میں
محبّت کی کہانیاں…….
بُک شیلف میں پڑے پڑے اپنے معانی کھو دیتی ہیں
کسی کو یہ جاننے کی ضرورت ہی نہیں رہتی
کہ کون کس سے کتنا مخلص تھا
طاقچے میں رکّھے ہوئے مہ تاب کو اِس سے کیا غرض
کہ صبح تک انتظار کے بجھتے ہوئے چراغ کو دیکھنا
ساری عمر کے جاگنے سے زیادہ اذیّت ناک ہے
بکھرتی ہوئی کائنات کو کیا خبر…
پہاڑوں سے جَھڑتی ہوئی ریت
سَـــمُندر کی تہہ میں بچھتی ہے یا صحرا کے سینے پر
( مقصــود وفــاؔ )


