منتخب غزلیں

شبنم شکیل کا یومِ وفات 02 March 2013 (پیدائش: 12 م…

شبنم شکیل کا یومِ وفات
02 March 2013
(پیدائش: 12 مارچ 1942ء – وفات: 2 مارچ 2013ء)
——
نمونہ کلام
——
ہے پوری کائنات کا چہرہ دھواں دھواں
غزلوں میں ذکر یار طرح دار کیا کریں
——
تازہ کلیوں کے تبسم کا سبب کیا ہوگا
آیا کرتی ہے جوانی میں ہنسی آپ ہی آپ
——
اب مجھ کو رخصت ہونا ہے کچھ میرا ہار سنگھار کرو
کیوں دیر لگاتی ہو سکھیو جلدی سے مجھے تیار کرو
رو رو کر آنکھیں لال ہوئیں تم کیوں سکھیو بے حال ہوئیں
اب ڈولی اٹھنے والی ہے لو آؤ مجھ کو پیار کرو
——
میرے پاس تو اپنے لیے بھی اکثر کوئی وقت نہ تھا
ہاں جو فراغت کے لمحے تھے تیری یاد کے نام رہے
——
ماضی پہ گفتگو سے وہ گھبرا رہے تھے آج
میں نے بھی آج بات وہی بار بار کی
——
ان کی شرمندۂ احسان سی ہو جاتی ہے
یہ نظر مل کے پشیمان سی ہو جاتی ہے
تم نے چھینا ہے مرے دل کا دیا آنکھ کی لو
ان اندھیروں میں بھی پہچان سی ہو جاتی ہے
آنکھ کا شہر ہو آباد تو دل کی بستی
آپ ہی آپ سے ویران سی ہو جاتی ہے
ان کو پہچان کے بھی تازہ ستم پر شبنمؔ
اتنی نادان ہے حیران سی ہو جاتی ہے
——
بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے
ایسی مرے اندر کوئی عورت بھی نہیں ہے
ہاں ان کو بھلا ڈالیں گے اک عمر پڑی ہے
اس کام میں ایسی کوئی عجلت بھی نہیں ہے
کس منہ سے گلہ ایسی نگاہوں سے کہ جن میں
پہچان کی اب کوئی علامت بھی نہیں ہے
ان کو بھی مجھے شعر سنانے کا ہوا حکم
کچھ شعر سے جن کو کوئی نسبت بھی نہیں ہے
میرے بھی تو ماضی کی بہت سی ہیں کتابیں
پر ان کو پلٹنے کی تو فرصت بھی نہیں ہے
کچھ تم سے گلہ اور کچھ اپنے سے کہ مجھ کو
ہر حال میں خوش رہنے کی عادت بھی نہیں ہے
میں دفن رہوں اب یوں ہی ریشم کے کفن میں
اب اس کے سوا اور تو صورت بھی نہیں ہے
——
چھُپ چھُپ کے جھانکتا مرا بچپن دکھائی دے
پریوں کا دیس دل کا یہ آنگن دکھائی دے
جلووں کے باب آنکھ کے آگے کھلے ہوئے
پر دل کے سامنے کوئی چلمن دکھائی دے
جو میرے ہم رکاب ہے رہرو کے بھیس میں
وہ شخص تو مجھے کوئی رہزن دکھائی دے
تعبیر کیا ہے کوئی بتاؤ کہ خواب میں
اک سانپ سا کلائی کا کنگن دکھائی دے
کرتی ہوں نا خوشی سے میں اس سے گزر بسر
یہ عمر تو مجھے میری سوتن دکھائی دے
جوڑا سہاگ کا جو اُڑھایا بہار نے
گُل مہر تو عروسِ شفق تن دکھائی دے
یوں تو پڑا ہے فن کا خزانہ کھلا ہوا
اک اُس پہ زہر گھولتی ناگن دکھائی دے
ہو جیسے کوئی ہمدمِ دیرینہ یوں لگے
برسوں پُرانا جب کوئی دشمن دکھائی دے
سیندور جس کی مانگ میں بھرتا نہیں کوئی
یہ زندگی مجھے وہ سہاگن دکھائی دے
میں ہیر ہوں مگر مجھے رانجھا کہا کرو
سجنی کو اپنے آپ میں ساجن دکھائی دے
——
کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوں
کہنے کو تو جس راہ چلایا ہے چلی ہوں
تم پاس نہیں ہو تو عجب حال ہے دل کا
یوں جیسے میں کچھ رکھ کے بھول گئی ہوں
پھولوں کے کٹوروں سے چھلک پڑتی ہے شبنم
ہنسنے کو تیرے پیچھے بھی سو بار ہنسی ہوں
تیرے لیے تقدیر میری جنبشِ آرزو
اور میں تیرا ایمائے نظر دیکھ رہی ہوں
صدیوں سے میرے پاؤں تلے جنّتِ انساں
میں جنّتِ انساں کا پتہ پوچھ رہی ہوں
دل کو تو یہ کہتے ہیں کہ بس قطرۂ خوں ہے
کس آس پہ اے سنگ سرِ راہ چلی ہوں
جس ہاتھ کی تقدیر نے گلشن کو سنوارا
اُس ہاتھ کی تقدیر پہ آزردہ رہی ہوں
قسمت کے کھلونے ہیں اُجالا یا اندھیرا
دل شعلۂ طلب تھا سو بہر حال جلی ہوں
——
اپنے خوابوں کو جو تعبیر نہیں دے پاتا
جو بدل سکتا نہیں ان کو حقیقت میں کبھی
وہ یہاں راندۂ درگاہ ٹھہر جاتا ہے
ایسے افراد کہ جو
خواب کی تعبیر پہ ہوتے ہیں مصر
کاش بس اتنی حقیقت ہی سے واقف ہو جائیں
کم نہیں خواب کی تعبیر سے کچھ قیمت خواب
لذت خواب
…………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/