منتخب غزلیں

ہجر کی شب ہے اور اجالا ہے کیا تصور بھی لٹنے والا ہ…

ہجر کی شب ہے اور اجالا ہے
کیا تصور بھی لٹنے والا ہے

غم تو ہے عین زندگی لیکن
غم گساروں نے مار ڈالا ہے

عشق مجبور و نا مراد سہی
پھر بھی ظالم کا بول بالا ہے

دیکھ کر برق کی پریشانی
آشیاں خود ہی پھونک ڈالا ہے

کتنے اشکوں کو کتنی آہوں کو
اک تبسم میں اس نے ڈھالا ہے

تیری باتوں کو میں نے اے واعظ
احتراماً ہنسی میں ٹالا ہے

موت آئے تو دن پھریں شاید
زندگی نے تو مار ڈالا ہے

شعر نغمہ شگفتگی مستی
غم کا جو روپ ہے نرالا ہے

لغزشیں مسکرائی ہیں کیا کیا
ہوش نے جب مجھے سنبھالا ہے

دم اندھیرے میں گھٹ رہا ہے خمارؔ
اور چاروں طرف اجالا ہے

(خمار بارہ بنکوی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/