منتخب غزلیں
یہ کون لَوگ ہیں حَق کا عَلم اُٹھائے ہُوئے جو راہِ …
یہ کون لَوگ ہیں حَق کا عَلم اُٹھائے ہُوئے
جو راہِ غَم میں ہیں چُپ چاپ سَر جُھکائے ہُوئے
جو راہِ غَم میں ہیں چُپ چاپ سَر جُھکائے ہُوئے
زَمِین شَوق سے سَو بار چُومتی ہے جِنہیں
سفید پوش ہیں جو خُون میں نہائے ہوئے
وہ راز کَیا ہے کہ جِس کے اَمِین ہیں یہ لَوگ
کہ زَخم کھا کے بھی زَخموں کو ہیں چُھپائے ہُوئے
جو اِن کے ساتھ ہے ہر پل وہ روشنی کَیا ہے
کہ مَوجِ خُوں میں بھی چہرے ہیں جَگمگائے ہُوئے
مِلا ہے اِن کو یَقِیناً کوئی مَقامِ بَلند
کہ گھر لُٹا کے بھی چَلتے ہیں سَر اُٹھائے ہُوئے
گِنو تَو کَم ہیں جو سَمجھو تَو اَن گِنَت ہیں یہ
کہ دو جہان کی ہیں وُسعَتوں پہ چَھائے ہُوئے
یہی تَو لَوگ ہیں مَقبُولِ بارگاہِ رَسُولؐ
یہی ہیں رَبِ دو عالَم کے آزمائے ہُوئے۔۔۔!
شبنم شکیل


