Category: منتخب نظمیں
-

گمان میں کچی نیند میں ہوں اور اپنے نیم خوابیدہ تن…
گمان میں کچی نیند میں ہوں اور اپنے نیم خوابیدہ تنفس میں اترتی چاندنی کی چاپ سنتی ہوں گماں ہے آج بھی شاید میرے ماتھے پہ تیرے لب ستارے ثبت کرتے ہیں پروین شاکر ۔۔۔ ============
-
ڈاکٹر صاحب کیا اپ کے سینے میں دل نہیں ہے ؟ میں پوچ…
ڈاکٹر صاحب کیا اپ کے سینے میں دل نہیں ہے ؟ میں پوچھتی ہوں کیا آپ کا دل پتھر کا ہے؟ ڈاکٹر صاحب اٹھیں کھڑے ہوں اور نبیہیہ کے سر پر ہاتھ رکھیں ان دونوں خواتین کا گھر تو کبھی بسنا ہے یا نہیں ،انہوں نے ڈاکٹر کا گھر ضرور تباہ کروادینا ہے یہ جو…
-

آخری دن کی تلاش خدا نے قرآن میں کہا ہے کہ لوگو می…
آخری دن کی تلاش خدا نے قرآن میں کہا ہے کہ لوگو میں نے تمہاری خاطر فلک بنایا فلک کو تاروں سے چاند سورج سے جگمگایا کہ لوگو میں نے تمھاری خاطر زمیں بنائی زمیں کے سینے پہ ندیوں کی لکیریں کھینچیں سمندروں کو زمیں کی آغوش میں بٹھایا پہاڑ رکھے درخت اگائے درخت پہ…
-

میں اور میرا خدا لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہ…
میں اور میرا خدا لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہنا میرا کام بھیس بدل کر دیکھتے رہنا تیز ہواؤں کا کہرام ایک طرف آواز کا سورج ایک طرف اک گونگی شام ایک طرف جسموں کی خوشبو ایک طرف اس کا انجام بن گیا قاتل میرے لیے تو اپنی ہی نظروں کا دام سب سے…
-

بس اتنا یاد ہے دعا تو جانے کون سی تھی ذہن میں نہیں…
بس اتنا یاد ہے دعا تو جانے کون سی تھی ذہن میں نہیں بس اتنا یاد ہے کہ دو ہتھیلیاں ملی ہوئی تھیں جن میں ایک مری تھی اور اک تمھاری ! پروین شاکر۔۔۔
-

سرمایۂ جاں یہ سب نے دیکھا کہ ساز گل سے نکل کے خو…
سرمایۂ جاں یہ سب نے دیکھا کہ ساز گل سے نکل کے خوشبو کا ایک جھونکا ہزار نغمے سنا گیا ہے مگر کسی کو نظر نہ آیا کہ اس کے پردے میں گل نے اپنا تمام جوہر لٹا دیا ہے یہ میری سوچوں کی سبز خوشبو یہ میری نظمیں یہ میرا جوہر یہ میرے لفظوں…
-

بعد از عمر دان کی ، دل تم پہ وار دیا سہل ہے کہنا …
بعد از عمر دان کی ، دل تم پہ وار دیا سہل ہے کہنا کہ "تم سے محبت ہے” مگر دیکھو مرا دل ، آنکھیں اور مری رُوح بھی اب سمٹنے میں نہیں آتی کہا نا سہل ہے کہنا مگر "سہنا موت ہے” ۔۔۔ نوشین انجم ۔ 💙
-

وصال کی خواہش کہہ بھی دے اب وہ سب باتیں جو دل میں…
وصال کی خواہش کہہ بھی دے اب وہ سب باتیں جو دل میں پوشیدہ ہیں سارے روپ دکھا دے مجھ کو جو اب تک نادیدہ ہیں ایک ہی رات کے تارے ہیں ہم دونوں اس کو جانتے ہیں دوری اور مجبوری کیا ہے اس کو بھی پہچانتے ہیں کیوں پھر دونوں مل نہیں سکتے کیوں…
-
ہم دھوپ میں اڑتے ہوئے زخمی سے پرندے پیڑوں سے بغاو…
ہم دھوپ میں اڑتے ہوئے زخمی سے پرندے پیڑوں سے بغاوت کی سزا کاٹ رہے ہیں
-
ہم اپنا وقت خوشی سے اجاڑ بیٹھے ہیں کسی پہ وار کے ر…
ہم اپنا وقت خوشی سے اجاڑ بیٹھے ہیں کسی پہ وار کے راتیں کسی پہ وار کے دن گزار دیتا ہے کوئی فضول کاموں میں مری ادھار کی راتیں مرے ادھار کے دن ابھی تو اور بھی ہونا ہے پائمال مجھے مجھے سمیٹنے آئے ہیں انتشار کے دن خود اپنے آپ سے بیزار کر رہے…