ہم اپنا وقت خوشی سے اجاڑ بیٹھے ہیں کسی پہ وار کے ر…


ہم اپنا وقت خوشی سے اجاڑ بیٹھے ہیں
کسی پہ وار کے راتیں کسی پہ وار کے دن

گزار دیتا ہے کوئی فضول کاموں میں
مری ادھار کی راتیں مرے ادھار کے دن

ابھی تو اور بھی ہونا ہے پائمال مجھے
مجھے سمیٹنے آئے ہیں انتشار کے دن

خود اپنے آپ سے بیزار کر رہے ہیں مجھے
یہ بار بار کی راتیں یہ بار بار کے دن

یہ باغ دشت میں تبدیل ہو رہا ہے کبیر
خزاں کے کام پہ مامور ہیں بہار کے دن

کبیر اطہر