Category: منتخب نظمیں
-
شہر کے ایک پُرہجوم بازار میں زاہد کی چھوٹی سی دکان…
شہر کے ایک پُرہجوم بازار میں زاہد کی چھوٹی سی دکان تھی۔ زاہد اپنی دیانتداری اور نرم گوئی کی وجہ سے جانا جاتا تھا، لیکن کامیابی اکثر حسد کو جنم دیتی ہے۔ پڑوس کے ایک بااثر دکاندار نے زاہد پر ایک جھوٹا الزام لگایا اور پورے بازار میں اسے رسوا کرنے کی مہم شروع کر…
-
اگر ایک مرد کو یہ سب معلوم ہو کہ اُس کی بیوی ہے، ب…
اگر ایک مرد کو یہ سب معلوم ہو کہ اُس کی بیوی ہے، بچے ہیں، گھر پہلے ہی مسائل کا شکار ہے… پھر بھی وہ دوسری شادی کر لے.. اور پہلی بیوی سے یہ توقع رکھے کہ وہ دوسری کو بھی برداشت کرے، سنبھالے… تو کیا یہ انصاف ہے؟ 💔 اور اگر کوئی عورت سب…
-
گناہ کا خیال آنا کمزوری نہیں… اس پر قابو پا لینا ہ…
گناہ کا خیال آنا کمزوری نہیں… اس پر قابو پا لینا ہی انسان کی اصل طاقت ہے۔ 🖤
-
-
زندگی کے صحرا میں ایک عجیب اصول کارفرما ہے۔ یہ اصو…
زندگی کے صحرا میں ایک عجیب اصول کارفرما ہے۔ یہ اصول نہ کسی کتاب میں مکمل لکھا گیا ہے، نہ کسی عدالت میں نافذ ہوا—مگر صدیوں سے چلتا آ رہا ہے۔ وہ کنواں جس سے لوگ پانی بھرتے ہیں، کبھی خشک نہیں ہوتا۔ اور جس کے پاس آنا لوگ چھوڑ دیں… وہ آہستہ آہستہ مٹی…
-
صحرا کی تپتی ریت پر بچھے دسترخوانوں کا ایک قدیم او…
صحرا کی تپتی ریت پر بچھے دسترخوانوں کا ایک قدیم اور خاموش قانون ہے کہ وہاں صرف کھانا ہی تقسیم نہیں ہوتا، بلکہ انسانوں کے مرتبے اور رشتوں کی گہرائی بھی ناپی جاتی ہے۔ قدیم عرب میں جب کسی تقریب میں مہمانوں کی تعداد اچانک بڑھ جاتی اور پکا ہوا گوشت کم پڑ جاتا، تو…
-
میں وہاں اپنی شریکِ حیات کے اصرار پر آیا تھا۔۔۔ م…
میں وہاں اپنی شریکِ حیات کے اصرار پر آیا تھا۔۔۔ میں نے اپنی روح کے بوجھ تلے دب کر اس معالجِ نفس کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے، جس کی آنکھیں دوسروں کے دکھوں کا مسکن تھیں۔ میں وہاں اپنی شریکِ حیات کے اصرار پر آیا تھا، کہ میرے سینے میں دبا وہ طوفان اب…
-
کہتے ہیں ہر شہر کے بیچوں بیچ ایک کہانی سانس لیتی ہ…
کہتے ہیں ہر شہر کے بیچوں بیچ ایک کہانی سانس لیتی ہے… اور ہر کہانی کے اندر ایک سچ چھپا ہوتا ہے… جو صرف انہیں دکھائی دیتا ہے جو سننا جانتے ہیں۔ لبنان کی ایک قدیم ریاست میں ایک بادشاہ تھا.ایسا بادشاہ جو اپنے تخت سے زیادہ اپنی رعایا کے دلوں میں رہتا تھا۔ وہ…
-
ایک بڑی کمپنی کے ہال میں اسٹیج سجا ہوا تھا۔ بینر ل…
ایک بڑی کمپنی کے ہال میں اسٹیج سجا ہوا تھا۔ بینر لگا تھا: "یومِ مزدور — محنت کشوں کو خراجِ تحسین” صاحبِ اقتدار مائیک پر آئے، سوٹ ٹھیک کیا اور بڑے جوش سے بولے: "مزدور ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں… ہم ان کی قدر کرتے ہیں… ان کے بغیر ترقی ممکن نہیں…” سامنے…