میں وہاں اپنی شریکِ حیات کے اصرار پر آیا تھا۔۔۔
میں نے اپنی روح کے بوجھ تلے دب کر اس معالجِ نفس کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے، جس کی آنکھیں دوسروں کے دکھوں کا مسکن تھیں۔ میں وہاں اپنی شریکِ حیات کے اصرار پر آیا تھا، کہ میرے سینے میں دبا وہ طوفان اب لفظوں کی صورت باہر نکلنا چاہتا تھا۔
میں نے اپنی آنکھیں موند لیں اور وقت کی لہروں پر تیرتا ہوا ماضی کے اس دھندلکے میں جا پہنچا جہاں زندگی کی حقیقتیں ابھی مجھ پر آشکار نہ ہوئی تھیں۔
ہماری زندگی کے دن ایک مصروف بازار کی طرح تھے، جہاں محبت کی آواز شور و غل میں دب گئی تھی۔ میں دنیاوی کاموں کی زنجیروں میں جکڑا تھا اور میری زوجہ علم کی منڈیروں پر چراغ روشن کرتی تھی۔ ہمارے بچے، جو ہماری زندگی کے باغ کے نوخیز پودے تھے، اکیڈمیوں کی دیواروں میں محصور رہتے۔ اور اس وسیع مکان کے گوشے میں میری ضعیف ماں ایک ایسے پرانے چراغ کی مانند تھی جس کا تیل ختم ہونے کو تھا۔
رات کی خاموشی میں جب ان کی سانس اکھڑتی، تو ہمیں وہ بوجھ لگتی۔ وہ ہسپتال کے چند گھنٹے ہماری نیند کے دشمن بن گئے تھے۔ تب میری شریکِ سفر نے وہ بات کہی جو مصلحت کے لبادے میں لپٹا ہوا زہر تھا:
"یہ بوڑھی شاخ اب ہمارے لیے سایہ نہیں، بوجھ بن چکی ہے۔ کیوں نہ ہم انہیں ‘ایوانِ فانی’ (اولڈ ایج ہوم) میں چھوڑ آئیں، جہاں اجنبی ہاتھ ان کی تیمارداری کریں؟”
پہلے تو میرے لہو میں ایک آگ سی لگی، میرا ضمیر پکار اٹھا کہ اس ہستی نے مجھے تنہا پالا تھا، لیکن دنیا کی آسائشوں نے میری بصیرت چھین لی۔ میں نے وہ عمارت دیکھی جو سنگِ مرمر سے بنی تھی، جہاں ہر سہولت تھی مگر وہاں اپنوں کی بو نہ تھی۔ میں نے اپنی ماں کی قربت کو چند سکوں اور مصنوعی آرام کے عوض بیچ دیا۔
جب میں ان کے کمرے میں داخل ہوا، وہ مقدس کتاب کی تلاوت میں محو تھیں۔ میری ہچکچاہٹ دیکھ کر انہوں نے اپنی ممتا کی خوشبو سے فضا کو معطر کر دیا: "میرے لعل! اگر تمہاری راحت میری دوری میں ہے، تو مجھے یہی دوری عزیز ہے۔”
میں نے انہیں وہاں چھوڑ دیا۔ وقت گزرتا گیا اور میں اپنی ماں کو ایک بھولی ہوئی دعا کی طرح یاد کرنے لگا۔ کبھی کبھی ملنے جاتا، پھر وہ ملاقاتیں بھی مہینوں کے فاصلوں میں بدل گئیں۔
ایک اتوار کی صبح، میرا بیٹا ایان—جو میرے ہی وجود کا ایک حصہ اور میرے اعمال کا آئینہ تھا—گاڑی میں میرے پہلو میں آ بیٹھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ معصومیت تھی جو کبھی کبھی عبرت بن کر نازل ہوتی ہے۔
اس نے کہا: "بابا! آج میں آپ کو منزل تک پہنچاؤں گا۔ میں رستہ سیکھنا چاہتا ہوں۔”
میں نے مسکرا کر پوچھا: "کون سا رستہ، میرے بیٹے؟”
اس نے بڑے ہی سادہ لہجے میں میرے مستقبل کا فیصلہ سنا دیا: "اسی ‘ایوانِ فانی’ کا رستہ، جہاں آج آپ دادی کو ملنے جا رہے ہیں، تاکہ کل جب آپ بوڑھے ہوں، تو مجھے وہاں تک پہنچانے میں دشواری نہ ہو۔”
یہ لفظ نہیں تھے، یہ کائنات کا وہ اٹل قانون تھا جو مجھ پر بجلی بن کر گرا۔ میں نے دیکھ لیا کہ میں نے جو بیج بویا تھا، وہی فصل اب کٹنے کو تیار ہے۔ میری آنکھوں سے پشیمانی کے آنسو ابل پڑے۔ میں اپنی ماں کو لینے بھاگا، اس تڑپ کے ساتھ کہ ان کے قدموں میں گر کر اپنی روح کو پاک کر لوں۔
مگر موت پشیمانی سے کہیں زیادہ تیز رفتار نکلی۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہ پرندہ قفس خالی کر کے ابد کی وادیوں میں اڑ چکا تھا۔ میری توبہ کے تمام دروازے بند ہو چکے تھے اور میرے پاس صرف ان کی قبر کی مٹی رہ گئی تھی، جو میری ندامت کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھی۔
میں خاموش ہوا تو کمرے میں موت جیسی خاموشی چھا گئی۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ وہ معالج، جو دوسروں کے زخم سیتا تھا، خود زار و قطار رو رہا تھا۔ اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔
"ڈاکٹر صاحب! کیا میرے اس بے چین ضمیر کا کوئی علاج ہے؟” میں نے لرزتی آواز میں پوچھا۔
اس نے اپنے آنسو پونچھے، اپنا بیگ اٹھایا اور لرزتے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا:
"اس کا کوئی علاج نہیں، سوائے اس کے کہ ہم ان لوگوں سے بخشش مانگ لیں جو ابھی زندہ ہیں۔”
میں نے حیرت سے پوچھا: "آپ اتنی عجلت میں کہاں جا رہے ہیں؟”
اس نے مڑ کر دیکھا، اس کی آنکھیں ایک کربِ مسلسل کی داستان سنا رہی تھیں:
"میں اسی ‘ایوانِ فانی’ جا رہا ہوں… اپنے باپ کو واپس لینے، اس سے پہلے کہ سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے!”
اور وہ راہداری کے اندھیروں میں غائب ہو گیا، مجھے یہ سبق دے کر کہ مکافاتِ عمل کا ترازو کبھی غلط تول نہیں کرتا۔
#urduadab #kahani #urduquotes #mothersday