Category: منتخب غزلیں
-

-
بے وجہ تَو نہیں ہیں چَمَن کی تباہیاں کُچھ ب…
بے وجہ تَو نہیں ہیں چَمَن کی تباہیاں کُچھ باغباں ہیں بَرق و شَرر سے مِلے ہُوئے۔۔۔! ساغرؔ صدیقی
-

-
مرے وہم و گماں سے بھی زیادہ ٹوٹ جاتا ہے یہ دل اپنی…
مرے وہم و گماں سے بھی زیادہ ٹوٹ جاتا ہے یہ دل اپنی حدوں میں رہ کے اتنا ٹوٹ جاتا ہے میں روؤں تو در و دیوار مجھ پر ہنسنے لگتے ہیں ہنسوں تو میرے اندر جانے کیا کیا ٹوٹ جاتا ہے میں جس لمحے کی خواہش میں سفر کرتا ہوں صدیوں کا کہیں پاؤں…
-

کسے فرصت کہ فرض خدمت الفت بجا لائے نہ تم بیکار بی…
کسے فرصت کہ فرض خدمت الفت بجا لائے نہ تم بیکار بیٹھے ہو نہ ہم بیکار بیٹھے ہیں …… خواجہ الطاف حسین حالیؔ کے شاگرد ” آزادؔ انصاری “ کا یومِ ولادت 12؍اکتوبر 1871 الطاف احمد انصاری نام، نظیر حسین تاریخی نام، ابوالاحسان کنیت، آزادؔ تخلص تھا۔ 12؍اکتوبر 1871ء کو ناگپور میں پیدا ہوئے جہاں…
-

12؍اکتوبر 1923 انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری ر…
12؍اکتوبر 1923 انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری رہے، ترقی پسند ادبی نظرے کے شاعر ”اخترؔ_سعید صاحب“ کا یومِ ولادت….. نام اختر_سعید_خان اور تخلص اخترؔ تھا۔ 12؍اکتوبر 1923ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ نسلا وہ افغانی ہیں۔ ان کے دادا احمد سعید خان ریاست بھوپال کے جاگیر داروں میں شامل تھے اور شاعروں و ادیبوں…
-

بڑے خلوص سے احوال پوچھنے کے لیے گذر گئی شبِ فرقت ت…
بڑے خلوص سے احوال پوچھنے کے لیے گذر گئی شبِ فرقت تو میرے یار آئے —— مصطفیٰ زیدؔی کا یومِ وفات (پیدائش: 10 اکتوبر 1930ء – وفات: 12 اکتوبر 1970ء) —— منتخب کلام —— صہبائے تند و تیز کی حدت کو کیا خبر شیشے سے پوچھیے جو مزا ٹوٹنے میں تھا —— یکایک ایسے جل…
-

تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ھے جہاں بھی جاؤں …
تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ھے جہاں بھی جاؤں یہ لگتا ھے تیری محفل ھے … ندا فاضلی کا یومِ پیدائش October 12, 1938 ندا فاضلی کا اصلی نام مقتدا حسن تھا۔ وہ 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوۓ تھے۔ بالی وڈ کی فلمی دنیا کے لیے بعض یادگار گیت…
-

میں وہ سورج ہوں نہ ڈوبے گی کبھی جس کی کرن رات ہوگی…
میں وہ سورج ہوں نہ ڈوبے گی کبھی جس کی کرن رات ہوگی تو ستاروں میں بکھر جاؤں گا … خاموش غازی پوری کا یومِ وفات October 11, 1981 خاموش غازی پوری، 20؍جولائی 1932ء کو ضلع غازی پور اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ خاموش غازی پوری کا منتخب کلام … غزل عمر جلووں میں بسر…
-
نہ وہ گھر رہا نہ وہ بام و در نہ وہ چلمنیں نہ وہ پا…
نہ وہ گھر رہا نہ وہ بام و در نہ وہ چلمنیں نہ وہ پالکی مگر اب بھی میری زباں پہ ہے وہی داستاں سن و سال کی چلو بال و پر کو سمیٹ لیں کریں فکر اب کسی ڈال کی یہ غروب مہر کا وقت ہے یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی سبھی…