12؍اکتوبر 1923 انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری ر…


12؍اکتوبر 1923
انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری رہے، ترقی پسند ادبی نظرے کے شاعر ”اخترؔ_سعید صاحب“ کا یومِ ولادت…..
نام اختر_سعید_خان اور تخلص اخترؔ تھا۔
12؍اکتوبر 1923ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ نسلا وہ افغانی ہیں۔ ان کے دادا احمد سعید خان ریاست بھوپال کے جاگیر داروں میں شامل تھے اور شاعروں و ادیبوں کے قدردان تھے۔ گھر کے اس علمی اور ادبی ماحول نے اخترؔ کو بھی شاعری کی طرف مائل کردیا اور بہت چھوٹی عمر میں شاعری شروع کردی۔
اخترؔ سعید 10؍ستمبر 2006 کو انتقال کر گئے۔
منتخب اشعار
کسی کے تم ہو کسی کا خدا ہے دنیا میں
مرے نصیب میں تم بھی نہیں خدا بھی نہیں
——–
تو کہانی ہی کے پردے میں بھلی لگتی ہے
زندگی تیری حقیقت نہیں دیکھی جاتی
——–
زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے
یاد آتے ہیں بہت دل کو دکھانے والے
——–
یہ دشت وہ ہے جہاں راستہ نہیں ملتا
ابھی سے لوٹ چلو گھر ابھی اجالا ہے
——–
کون جینے کے لیے مرتا رہے
لو، سنبھالو اپنی دنیا ہم چلے
——–
بند کر دے کوئی ماضی کا دریچہ مجھ پر
اب اس آئینے میں صورت نہیں دیکھی جاتی
——–
زندگی چھین لے بخشی ہوئی دولت اپنی
تو نے خوابوں کے سوا مجھ کو دیا بھی کیا ہے
——–
آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا
مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے والے
——–
بہت قریب رہی ہے یہ زندگی ہم سے
بہت عزیز سہی اعتبار کچھ بھی نہیں
——–
ہم نے مانا اک نہ اک دن لوٹ کے تو آ جائے گا
لیکن تجھ بن عمر جو گزری کون اسے لوٹائے گا
——–
یہ بے سبب نہیں آئے ہیں آنکھ میں آنسو
خوشی کا لمحہ کوئی یاد آ گیا ہوگا
——–
بہیں نہ آنکھ سے آنسو تو نغمگی بے سود
کھلیں نہ پھول تو رنگینئ فغاں کیا ہے
——–
مجھے اب دیکھتی ہے زندگی یوں بے نیازانہ
کہ جیسے پوچھتی ہو کون ہو تم جستجو کیا ہے
——–
دشمن جاں ہی سہی ساتھ تو اک عمر کا ہے
دل سے اب درد کی رخصت نہیں دیکھی جاتی
——–
نگاہیں منتظر ہیں کس کی دل کو جستجو کیا ہے
مجھے خود بھی نہیں معلوم میری آرزو کیا ہے
——–
کس جرم آرزو کی سزا ہے یہ زندگی
ایسا تو اے خدا میں گنہ گار بھی نہیں
——–
میں سفر میں ہوں مگر سمت سفر کوئی نہیں
کیا میں خود اپنا ہی نقش کف پا ہوں کیا ہوں
——–
کس کو فرصت تھی کہ اخترؔ دیکھتا میری طرف
میں جہاں جس بزم میں جب تک رہا تنہا رہا
——–
بند رکھوگے دریچے دل کے یارو کب تلک
کوئی دستک دے رہا ہے اٹھ کے دیکھو تو سہی
——–
اسی موڑ پر ہم ہوئے تھے جدا
ملے ہیں تو دم بھر ٹھہر جائیے
——–
زمانہ عشق کے ماروں کو مات کیا دے گا
دلوں کے کھیل میں یہ جیت ہار کچھ بھی نہیں
——–
مرا فسانہ ہر اک دل کا ماجرا تو نہ تھا
سنا بھی ہوگا کسی نے تو کیا سنا ہوگا
——–
چراغ لے کے اسے ڈھونڈنے چلا ہوں میں
جو آفتاب کی مانند اک اجالا ہے
——–
ہر موج گلے لگ کے یہ کہتی ہے ٹھہر جاؤ
دریا کا اشارہ ہے کہ ہم پار اتر جائیں
——–
ناامیدی حرف تہمت ہی سہی کیا کیجئے
تم قریب آتے نہیں ہو اور خدا ملتا نہیں
——–
کھلی آنکھوں نظر آتا نہیں کچھ
ہر اک سے پوچھتا ہوں وہ گیا کیا
——–
یہ بستی اس قدر سنسان کب تھی
دل شوریدہ تھک کر سو گیا کیا
……………..