بڑے خلوص سے احوال پوچھنے کے لیے
گذر گئی شبِ فرقت تو میرے یار آئے
——
مصطفیٰ زیدؔی کا یومِ وفات
(پیدائش: 10 اکتوبر 1930ء – وفات: 12 اکتوبر 1970ء)
——
منتخب کلام
——
صہبائے تند و تیز کی حدت کو کیا خبر
شیشے سے پوچھیے جو مزا ٹوٹنے میں تھا
——
یکایک ایسے جل بجھنے میں لطفِ جانکنی کب تھا
جلے اک شمع پر ہم بھی مگر آہستہ آہستہ
——
جنسِ ویرانیٔ صحرا مری دوکان میں ہے
کیا خریدے گا ترے شہر کا بازار مجھے
——
جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی
مدتوں اپنے دن سے تری خوشبو آئی
——
کیا کیا رہے ہیں حرف و حکایت کے سلسلے
وہ کم سخن نہیں تھا مگر دیکھنے میں تھا
——
اس کا رونا ہے کہ پیماں شکنی کے باوصف
وہ ستمگر اُسی پیشانیٔ خنداں سے ملا
——
اقلیت جرم نہ ہوتی تو سمجھتی دنیا
اس کٹہرے کے ادھر بھیڑ ہے دیوانوں کی
——
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
——
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
——
اک پیشہ عشق تھا سو عوض مانگ مانگ کر
رسوا اسے بھی کر گئی سوداگروں کی ذات
——
بڑے خلوص سے احوال پوچھنے کے لیے
گذر گئی شبِ فرقت تو میرے یار آئے
——
تیرے غموں سے ایک بڑا فائدہ ہوا
ہم نے سمیٹ لی دلِ مضطر میں کائنات
——
دنیا کی بے اصول عداوت تو دیکھیے
ہم بوالہوس بنے تو تو وفا عام ہو گئی
——
کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
غم دل مرے رفیقو ، غم رائیگاں نہیں ہے
کوئی ہم نفس نہیں ہے ، کوئی رازداں نہیں ہے
فقط اک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے
مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے
کسی آنکھ کو صدا دو ، کسی زلف کو پکارو
بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے
انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے
——
ہونٹوں کا ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیں
سر پھوڑنے کو ایک نہیں سو مقام ہیں
تم سے تو ایک دل کی کلی نہ کھل سکی
یہ بھی بلا کشانِ محبت کے کام ہیں
دل سے گزر خدا کے لیے اور ہوشیار
اس سرزمیں کے لوگ بہت بدکلام ہیں
تھوڑی سی دیر صبر کہ اس عرصہ گاہ میں
اے سوزِ عشق ، ہم کو ابھی اور کام ہیں
تم بھی خدا سے سوزِ جنوں کی دعا کرو
ہم پر تو اِن بزرگ کے احسان عام ہیں
وہ کیا کرے جو تیری بدولت نہ ہنس سکا
اور جس پہ اتفاق سے آنسو حرام ہیں
اپنے پہ آ پڑیں تو نۓ پن کی حد نہیں
جو واقعات سب کی حکایت میں عام ہیں
منعم کا تو خدا بھی امیں ، بت بھی پاسباں
مفلس کے صرف تیغ علیہ السلام ہیں
——
یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے
آج اس طرح رولے ، جس کے بعد رونے کی آرزو نہ رہ جائے
دوستو گلے مل لو ، ساتھیوں کی محفل میں دو گھڑی کو مل بیٹھو
اس خلوص کی شاید میرے بعد دنیا میں آبرو نہ رہ جائے
صبح و شام کی الجھن ، رات دن کے ہنگامے روز روز کا جھگڑا
دیکھ پیر ِ میخانہ آج میں نہ رہ جاؤں یا سبو نہ رہ جائے
اپنا غم نہ اس کا اس کا غم ڈوبتی ہوئی لَو کو فکر ہے تو اس کی ہے
دربدر نہ رسوا ہو حسرتوں کا افسانہ کو بہ کو نہ رہ جائے
——
کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا
دیکھا تو ہر جمال اسی آئینے میں تھا
قُلزُم نے بڑ ھ کے چو م لئے پھول سے قدم
دریائے رنگ و نور ابھی راستے میں تھا
اِک موجِ خونِ خَلق تھی کس کی جبیں پہ تھی
اِک طو قِ فردِ جرم تھا ،کس کے گلے میں تھا
اِک رشتہ ءِ وفا تھا سو کس ناشناس سے
اِک درد حرزِ جاں تھا سو کس کے صلے میں تھا
صہبائے تند و تیز کی حدت کو کیا خبر
شیشے سے پوچھیے جو مزا ٹوٹنے میں تھا
کیا کیا رہے ہیں حرف و حکایت کے سلسے
وہ کم سخن نہیں تھا مگر دیکھنے میں تھا
تائب تھے احتساب سے جب سارے بادہ کش
مجھ کو یہ افتخار کہ میں میکدے تھا
………………….
