میں وہ سورج ہوں نہ ڈوبے گی کبھی جس کی کرن
رات ہوگی تو ستاروں میں بکھر جاؤں گا
…
خاموش غازی پوری کا یومِ وفات
October 11, 1981
خاموش غازی پوری، 20؍جولائی 1932ء کو ضلع غازی پور اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔
خاموش غازی پوری کا منتخب کلام
…
غزل
عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں
چشم ساقی سے پیو یا لب ساغر سے پیو
بے خودی آٹھوں پہر ہو یہ ضروری تو نہیں
نیند تو درد کے بستر پہ بھی آ سکتی ہے
ان کی آغوش میں سر ہو یہ ضروری تو نہیں
شیخ کرتا تو ہے مسجد میں خدا کو سجدے
اس کے سجدوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں
سب کی نظروں میں ہو ساقی یہ ضروری ہے مگر
سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں
مے کشی کے لیے خاموش بھری محفل میں
صرف خیام کا گھر ہو یہ ضروری تو نہیں
…
اشعار
ہمیں فصل گل میں بھی باغباں کے ستم اٹھا نے پڑے مگر
نہ تو ہم نے ترک وفا کیا نہ چمن کو چھوڑ کے ہم گئے
..
راز کھل جائے نہ ساقی کی تہی دستی کا
جام خالی سہی ہونٹوں سے لگائے رکھنا
..
کسی طرح نہ مٹی جب چمن کی تاریکی
لگا دی آگ نشیمن میں روشنی کے لیے
…
کسی نے دیکھا نہ بیخودی میں کہ دھوپ شامل ہے چاندنی میں
بہار بن کر خزاں جو آئی فریب کھا ہی گیا زمانہ
وہ دن ہے نزدیک باغباں جب ہمارے رحم و کرم پہ ہوگا
جو آج بجلی گرارہا ہے وہی بنائے گا آشیانہ
یہ کہہ دو خاموش رہبر وں سے، بھرم حقیقت کاکھل چکا ہے
یہ کھوٹے سکے نہیں چلیں گے کہ ہوش میں آگیا زمانہ
…
چمن کے بدلے یہ چاند تارے، یہ کہکشاں لے کے کیاکریں گے
زمیں کے دامن میں کیا نہیں ہے، ہم آسماں لے کے کیا کریں گے
جو رنگ و بو کے حریف ٹھہرے، وہ کب گلوں سے وفا کریں گے
چمن کو تقسیم کرنے والے، چمن کی تنظیم کیا کریں گے
یہی جو حالت رہی چمن کی تو اک دن ایسا بھی حال ہوگا
کوئی نہ دیکھے گا بجلیوں کو اور آشیانے جلا کریں گے
…
ڈوب جانے دو مرے ذہن کو پیمانوں میں
زندگی کیا ہے یہ سوچوں گا تو مر جاؤں گا
…
شاید اسی کا نام ہے بیچارگی عشق
سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں اختیار میں
…
رات تاریک اگر ہے تو خطا رات کی ہے
کیا ستم ہے کہ چراغوں کو سزا دی جائے
..
ترے فریب مسلسل کے باوجود اے دوست
تری وفا پہ مجھے اعتبار سا کیوں ہے
…
ہماری صبح پریشاں، ہماری شام الم
خدا کرے کہ تمہاری نظر سے کم گزرے
…
بیکار مسرت ہے اگر راس نہ آئے
راس آئے کسی کو تو بڑی چیز ہے غم بھی
…
کہو تم اپنی کہ ترک الفت کے بعد کس کا سہارا ہوگا
ہمارا کیا ہم تو جبر کر کے کبھی کبھی مسکراہی لیں گے
…
تو نے ہی تو جینے کا انداز سکھایا ہے
اے دوست ترے غم کو دیتے ہیں دعا آنسو
..
جس میں خلش نہ ہو وہ کوئی زند گی نہیں
اچھا ہوا کہ میں نے تمہیں پاکے کھو دیا
…
وہ بھی تھی ایک زندگی چین نہ تھا ترے بغیر
یہ بھی ہے ایک زندگی میں نے تجھے بھلا دیا
..
کس کو معلوم تھا انجام سفر سے پہلے
موسم گل کی طرح تٗو بھی بدل جائے گا
عہد رفتہ کے جنازے پہ سسکنے کے لیے
یاد رہ جائے گی اور وقت نکل جائے گا
…
بھول جاؤں گا کہ اظہار محبت کر کے
خوبصورت سا کوئی جرم کیا تھا میں نے
بھول جاؤں گا کہ خود تجھ سے اجازت لے کر
تیرے ہونٹوں کو کبھی چوم لیا تھا میں نے
…
جذبہئ دل کو کبھی عام نہ ہونے دوں گا
اس فسانے کا اب انجام نہ ہونے دوں گا
اپنی خاطر تجھے بدنام نہ ہونے دوں گا
خود ہر الزام اٹھا نے کی قسم کھاتا ہوں
آج پھر تجھ کو بھلانے کی قسم کھاتا ہوں
.
غم کی خاموش گھٹاؤں کو نہ چھانے دوں گا
اپنی آنکھوں کو ستارے نہ بنانے دوں گا
آنسوؤں کو کبھی دامن پہ نہ آنے دوں گا
ان چراغوں کو بجھانے کی قسم کھاتا ہوں
آج پھر تجھ کو بھلانے کی قسم کھاتاہوں
…
