کنجراور دلا گالیاں نہیں بلکہ دو تاریخی الفاظ ہیں جن کی اپنی تاریخ مسخ ہوگئی …
ہماری روزمرہ کی زبان میں کئی ایسے الفاظ رائج ہیں جنہیں آج کے معاشرے میں انتہائی معیوب، تحقیر آمیز اور گالی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم تاریخ، لسانیات اور تہذیب کا گہرا مطالعہ کریں، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ الفاظ کبھی گالیاں نہیں تھے، بلکہ سماجی شناخت، معزز پیشوں، قبائلی پس منظر اور علم و ہنر کی علامت ہوا کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی رویوں، بدلتے ہوئے حالات اور اخلاقی گراوٹ نے ان کے اصل مفہوم کو مسخ کر کے انہیں گالیوں میں تبدیل کر دیا۔ "کنجر”، "دلال” اور "میراثی” اس کی واضح ترین مثالیں ہیں۔
۱۔ لفظ "کنجر” کی اصل اور تاریخی سفر
تحقیق کے مطابق لفظ "کنجر” کی جڑیں سنسکرت زبان کے لفظ "کانن جر” سے ملتی ہیں، جس کے لغوی معنی ہیں "جنگل کا باسی” یا "جنگل میں رہنے والا”۔ تاریخی طور پر یہ نام ان قدیم خانہ بدوش قبائل کے لیے استعمال ہوتا تھا جو گنگا، جمنا اور دیگر دریاؤں کے کناروں اور جنگلات میں آباد تھے۔ ان کا طرزِ زندگی مستقل نہیں تھا، بلکہ یہ اپنے مویشیوں اور ضرورتوں کے تحت ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ، یہ لفظ کسی برائی کا نہیں بلکہ ایک مخصوص جغرافیائی اور قبائلی طرزِ زندگی کی شناخت تھا۔
اردو ادب کے عظیم شاعر میر تقی میر نے بھی اپنے ایک شعر میں اس لفظ کو اسی خانہ بدوشی اور نقل مکانی کے پس منظر میں استعمال کیا ہے:
میر جی اس طرح سے آتے ہیں
جیسے کنجر کہیں کو جاتے ہیں
یہاں میر صاحب کسی کی تذلیل یا توہین نہیں کر رہے، بلکہ محض ایک ایسے گروہ کا نقشہ کھینچ رہے ہیں جو سفر کے لیے رختِ سفر باندھ رہا ہو۔
وقت گزرنے کے ساتھ، ان قبائل کے بعض افراد نے اپنی بقا اور روزی روٹی کے لیے ناچ گانے، کٹھ پتلی کے تماشوں اور روایتی موسیقی کو بطور پیشہ اپنا لیا۔ وہ مختلف ساز بجا کر لوگوں کو محظوظ کرتے اور بدلے میں اناج یا پیسے وصول کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ، معاشرے نے ان کے اس پیشے کو نچلے درجے کا سمجھنا شروع کر دیا اور یوں ایک پوری قبائلی اور تاریخی شناخت بتدریج سکڑ کر ایک گالی کی شکل اختیار کر گئی۔
۲۔ لفظ "دلال” کا حقیقی اور کاروباری مفہوم
لفظ "دلال” عربی زبان سے ماخوذ ہے، جس کا سیدھا سادا اور معزز مطلب ہے "راستہ دکھانے والا، رہنمائی کرنے والا، گائیڈ، یا دو فریقین کے درمیان رابطہ کرانے والا واسطہ”۔
تاریخی طور پر جب عرب تاجر برصغیر (ہندوستان) تجارت کی غرض سے آئے، تو وہ یہاں کے مقامی بازاروں، منڈیوں، راستوں اور ہندی زبانوں سے بالکل ناواقف تھے۔ اس دور میں جو مقامی سمجھدار لوگ عرب تاجروں اور یہاں کے خریداروں کے درمیان بات چیت کرواتے، سودے طے کرواتے اور تجارت میں مدد کرتے تھے، انہیں "دلال” (یعنی بزنس بروکر یا کمیشن ایجنٹ) کہا جاتا تھا۔ اس خدمت کے عوض تاجر انہیں معاوضہ یا کمیشن دیتے تھے۔
آج بھی پوری عرب دنیا میں، چاہے وہ سعودی عرب ہو یا دبئی، رئیل اسٹیٹ، شیئرز اور دیگر قانونی کاروباری معاملات میں آفیشل بروکرز کے لیے "دلال” کا لفظ ہی عزت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں جب کچھ جرائم پیشہ اور بدکردار لوگوں نے اس واسطہ کاری کے ہنر کو خواتین کی جنسی خرید و فروخت اور جسم فروشی کے گھناؤنے کاروبار کے لیے استعمال کرنا شروع کیا، تو گاہک تلاش کرنے والے ان رابطہ کاروں کو بھی "دلال” کہا جانے لگا۔ یوں ایک قانونی اور معزز تجارتی پیشہ، معاشرتی برائی کی وجہ سے ایک غلیظ اور تحقیر آمیز گالی بن کر رہ گیا۔
۳۔ لفظ "میراثی”: علمِ انساب کا ماہر سے گانے بجانے والے تک کا سفر
اسی نوعیت کا ایک اور انتہائی مظلوم لفظ "میراثی” ہے، جسے آج لوگ کسی کی تذلیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اصل میں یہ لفظ عربی کے لفظ "میراث” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "میراث یا ترکہ سنبھالنے والا”۔
پرانے زمانوں میں، خصوصاً برصغیر کے دیہی اور قبائلی نظام میں، یہ لوگ کوئی معمولی فنکار نہیں تھے بلکہ علمِ انساب (Genealogy) کے باقاعدہ ماہر ہوا کرتے تھے۔ ان کا بنیادی اور انتہائی اہم کام معاشرے کے خاندانوں، قبیلوں اور راجوں مہاراجوں کے شجرہ نسب، حسب نسب، خاندانی تاریخ اور ان کی نسلوں کے ریکارڈ کو زبانی یاد رکھنا اور اسے اگلی نسلوں تک منتقل کرنا تھا۔ جب بھی کسی خاندان میں شادی بیاہ یا کوئی بڑا تنازع ہوتا، تو ان میراثیوں کو بلایا جاتا تھا تاکہ وہ حسب نسب کی تصدیق کر سکیں، کیونکہ انہیں انگلیوں پر یاد ہوتا تھا کہ کس کا دادا، پردادا کون تھا اور اس نے تاریخ میں کیا کارنامے سرانجام دیے۔ وہ ایک طرح سے زندہ تاریخی لائبریری اور خاندانی ریکارڈ روم تھے۔
ان کے پاس تاریخ کو یاد رکھنے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ خاندانوں کی بہادری کی داستانوں کو نظموں اور گیتوں کی شکل میں ڈھال کر محفلوں میں گایا کرتے تھے۔ لیکن وقت بدلا، تحریر اور کاغذ کا رواج بڑھا، تو شجرہ نسب یاد رکھنے کی اس روایتی اہمیت میں کمی آنے لگی۔ چونکہ ان کا ایک ذریعہ معاش گیت گانا اور تاریخ سنانا تھا، اس لیے علمِ انساب کا یہ عظیم ماہر طبقہ رفتہ رفتہ صرف گانے بجانے، شادیاں بھگتانے اور مراث پیش کرنے تک محدود ہو کر رہ گیا۔ معاشرے نے ان کی علمی خدمات کو فراموش کر دیا اور آج یہ لفظ محض ایک گالی اور طعنے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
زبان صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ انسانی تاریخ کے عروج و زوال کی داستان ہوتی ہے۔ الفاظ کے معنی ہمیشہ لغت (ڈکشنری) کے اندر تبدیل نہیں ہوتے، بلکہ معاشرے کی بدلتی ہوئی ترجیحات، تعصبات اور اخلاقی رویے کسی دور کے معزز پیشے، علم یا قبیلے کو گالی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ کنجر، دلال اور میراثی اس بات کا زندہ ثبوت ہیں
#history #urdu #art #artist #facts
Source