جب ایک ماں کے جذبے نے امتحان لینے والوں کو بھی رُلاڈالا … دنیا کی سب سے بڑی طا…


جب ایک ماں کے جذبے نے امتحان لینے والوں کو بھی رُلاڈالا …
دنیا کی سب سے بڑی طاقت کیا ہے؟ کوئی کہتا ہے پیسہ، کوئی کہتا ہے اقتدار… لیکن سچ تو یہ ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی اور ناقابلِ شکست طاقت ایک ماں کی ممتا ہے!

یہ تصویر بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ کے ضلع رام گڑھ کی ہے، جہاں ہوم گارڈ کی سرکاری ملازمت کے لیے جسمانی ٹرائلز چل رہے تھے۔ نوکری حاصل کرنے کے لیے امیدواروں کو سخت تپتی دھوپ اور سڑک پر 1600 میٹر کی دوڑ مقررہ وقت میں پاس کرنا تھی۔

اسی ٹریک پر ایک ایسی امیدوار بھی کھڑی تھی جس کا مقابلہ صرف دوسرے ایتھلیٹس سے نہیں، بلکہ اپنی غربت، بے بسی اور یتیم بچوں کی بھوک سے تھا۔ یہ تھیں کویتا مہتو—ایک بیوہ ماں، جن کے سر سے جب شوہر کا سایہ اٹھا تو دنیا اندھیر ہو گئی۔ گھر میں معصوم بچے تھے، جن کا پیٹ بھرنے کے لیے وہ دن رات تڑپتی تھیں۔ بچوں کے مستحکم مستقبل اور ان کا پیٹ پالنے کے لیے انہیں اس سرکاری نوکری کی شدید ضرورت تھی۔

اس ٹرائل کے دوران حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ان کے پاس دوڑنے کے لیے کھیل کا کوئی مناسب لباس نہیں تھا۔ غربت کی وجہ سے وہ روایتی ساڑھی پہن کر ٹریک پر اتریں، جو دوڑنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی تھی۔ پاؤں میں کوئی مہنگے اسپورٹس جوتے نہیں تھے، وہ ننگے پاؤں ہی اس سخت اور گرم ٹریک پر کھڑی ہو گئیں۔ ان کے دل میں صرف ایک ہی تڑپ تھی کہ مجھے یہ ہوم گارڈ کی نوکری ہر حال میں چاہیے، تاکہ میرے بچوں کو کبھی بھوکا نہ سونا پڑے!

جب سیٹی بجی اور دوڑ شروع ہوئی، تو دیکھنے والوں کی سانسیں رک گئیں۔ ایک طرف ہر طرح کی سہولیات سے لیس نوجوان امیدوار تھے، اور دوسری طرف یہ بیوہ ماں، جو ساڑھی کا پلو سنبھالے، ننگے پاؤں زمین پر آگ برسا رہی تھی۔ سخت ٹریک کی کنکریاں پاؤں کو زخمی کر رہی تھیں، چھالے خون اگل رہے تھے، سانس اکھڑ رہی تھی، لیکن کویتا کو نہ درد کا احساس تھا اور نہ تھکن کا۔ انہیں بس اپنے معصوم بچوں کے چہرے نظر آ رہے تھے۔ وہ اپنی جان کی بازی لگا کر دوڑیں اور محض 7 منٹ میں 1600 میٹر کا فاصلہ طے کر کے سب کو حیران کر دیا! جہاں عام خواتین کو زیادہ وقت دیا جاتا ہے، وہاں اس ماں نے ریکارڈ ٹائم میں لائن عبور کر لی۔

جب وہ فنشنگ لائن پر پہنچیں، تو وہ صرف ہوم گارڈ کا ٹرائل نہیں جیتیں تھیں، بلکہ انہوں نے غربت، بے بسی اور حالات کو شکست دے دی تھی۔ وہاں موجود ہر افسر اور تماشائی کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ہر کوئی کھڑے ہو کر اس ماں کو سلیوٹ کر رہا تھا۔ بے شک، ایک ماں اپنی اولاد کے نوالے کے لیے موت کے منہ میں بھی جا سکتی ہے۔ کویتا مہتو نے ثابت کر دیا کہ اگر عزم سچا ہو تو ننگے پاؤں بھی تقدیر کا رخ بدلا جا سکتا ہے۔

آئیے اس عظیم ماں کے جذبے اور ان کی لازوال قربانی کو دل سے سلام پیش کریں! خدا ان کو ان کا حق اور یہ نوکری ضرور دلائے۔ آمین!

#india #pakistan #news #race #sports



Source