کبھی کبھی انقلاب کے لیے تلوار نہیں اٹھانی پڑتی۔ کبھی ایک آواز صدیوں پرانی عادت توڑ دیتی ہے، اور کبھی کسی انسان کا اخلاق وہ کام کر جاتا ہے جو ہزار دلیلیں نہیں کر سکتیں۔
اسلام کی تاریخ میں ایسے ہی دو واقعات ہیں، جنہیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو بدلنے کے لیے صرف حکم نہیں دیتا، اسے بدلنے کی حکمت بھی عطا کرتا ہے۔
جب مدینے کی گلیوں میں شراب بہنے لگی
مدینے کی ایک محفل سجی ہوئی تھی۔
جام بھرے جا رہے تھے۔ شراب کے مٹکے موجود تھے۔ لوگ پی رہے تھے، پلا رہے تھے۔ یہ کوئی نئی عادت نہیں تھی۔ عرب معاشرے میں شراب محض مشروب نہیں، ایک پرانی معاشرتی روایت تھی۔ برسوں کی عادت تھی، محفلوں کا حصہ تھی، زندگی کے معمولات میں شامل تھی۔
اسی محفل میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے اور لوگوں کو شراب پلا رہے تھے۔
پھر ایک آواز اٹھی۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے شراب کی حرمت کا اعلان لوگوں تک پہنچا۔
ذرا اس لمحے کا تصور کیجیے۔
نہ کسی نے یہ کہا کہ پہلے سے موجود شراب تو ختم کر لینے دو۔ نہ کسی نے مہلت مانگی کہ کل سے چھوڑ دیں گے۔ نہ کسی نے یہ دلیل دی کہ اتنی پرانی عادت ایک اعلان سے کیسے چھوٹ سکتی ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے شراب کا برتن توڑ دیا۔
جام الٹ دیے گئے۔ جن کے ہاتھوں میں پیالے تھے، انہوں نے انہیں چھوڑ دیا۔ جس کے حلق میں گھونٹ اتر رہا تھا، اس نے اسے بھی قبول نہ کیا۔ گھروں میں موجود شراب باہر نکال دی گئی۔
روایات میں آتا ہے کہ مدینے کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔
یہ صرف مٹکوں کا ٹوٹنا نہیں تھا۔
یہ انسان کے اندر ایک فیصلے کا جنم لینا تھا۔
وہ لوگ جو برسوں سے ایک چیز کے عادی تھے، انہوں نے اپنے محبوب رسول ﷺ کے حکم کے سامنے اپنی خواہش کو پیچھے کر دیا۔ انہیں اپنی عادت عزیز تھی، مگر حکمِ الٰہی اس سے زیادہ عزیز تھا۔
اصل تبدیلی یہ نہیں کہ انسان کے پاس برائی کا موقع نہ رہے؛ اصل تبدیلی یہ ہے کہ موقع موجود ہو، خواہش بھی موجود ہو، مگر انسان اپنے رب کے حکم کو ترجیح دے۔
پھر کچھ لوگوں نے ایک سوال اٹھایا۔
ان لوگوں کا کیا ہوگا جو شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے اسے پیتے رہے؟ کیا ان کا سابقہ عمل بھی ان کے خلاف گناہ شمار ہوگا؟
قرآن مجید نے اس سوال کا جواب دیا۔ سورۃ المائدہ، آیت 93 میں واضح کیا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان پر ان چیزوں کا گناہ نہیں جو وہ پہلے کھا پی چکے تھے، جب وہ آئندہ اللہ سے ڈرتے، ایمان پر قائم رہتے اور نیک عمل کرتے رہے۔
یہاں دین کی حکمت دیکھیے۔
حکم آنے کے بعد نافرمانی کی اجازت نہیں دی گئی، لیکن حکم آنے سے پہلے کے معاملے میں انسان کو اس کے ماضی کے بوجھ تلے بھی نہیں کچلا گیا۔
اسلام نے عادت چھڑانے کا حکم دیا، مگر ماضی کے لیے ایسی گرفت نہیں بنائی جو انسان کو مایوسی میں دھکیل دے۔
گویا پیغام یہ تھا: جب حق تمہارے سامنے واضح ہو جائے تو اپنا راستہ بدل لو۔ تمہارا کل تمہاری آج کی توبہ اور آنے والے کل کی نیکی کے درمیان دیوار نہیں بننا چاہیے۔
شراب کی حرمت کے بعد اس کے استعمال پر شرعی سزا بھی مقرر ہوئی، اور بعد کے ادوار میں اس کی مقدار کے تعین میں خلفائے راشدین کے فیصلے سامنے آئے۔ مگر ان تمام احکام کے پیچھے ایک بنیادی حقیقت تھی: انسان کی جان، عقل، خاندان اور معاشرہ اللہ کی دی ہوئی امانت ہیں۔
آج بھی شراب کے نشے میں ہونے والے حادثات، ٹوٹتے گھر، جگر کی بیماریاں اور تباہ ہوتی زندگیاں ہمیں اس نقصان کی یاد دلاتی ہیں جس سے انسان کو بچانے کے لیے شریعت نے رہنمائی دی۔
لیکن اس واقعے کا سب سے بڑا سبق شاید یہ نہیں کہ شراب کے مٹکے توڑ دیے گئے تھے۔
سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب انسان کے دل میں اطاعت زندہ ہو تو صدیوں کی عادت بھی ایک لمحے کے فیصلے کے سامنے ہار سکتی ہے۔
اور یہی وہ دین ہے جو انسان کو صرف غلطی سے روکتا نہیں، اسے غلطی چھوڑنے کی ہمت بھی دیتا ہے۔
وہ شخص جسے زنجیر سے باندھا گیا، مگر دل آزاد کر دیا گیا
اب ایک دوسرے منظر میں آئیے۔
مسجد نبوی ﷺ کے ستون کے ساتھ ایک شخص بندھا ہوا ہے۔
اس کے لیے یہ جگہ اجنبی ہے۔ اس کے اردگرد ایسے لوگ ہیں جنہیں وہ اپنا مخالف سمجھتا رہا ہے۔ اس کے لیے یہ محض گرفتاری نہیں، ایک ایسی صورتِ حال ہے جس میں اس کی طاقت، مرتبہ اور اختیار سب اس سے چھن چکے ہیں۔
لیکن وہ کوئی معمولی آدمی نہیں۔
وہ ثمامہ بن اثال ہے، بنو حنیفہ کا سردار، یمامہ کا بااثر شخص۔
روایات کے مطابق وہ مسلمانوں کا سخت مخالف رہا تھا۔ اس کی دشمنی نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ اگر کوئی شخص اس کے ساتھ سختی کرتا تو اس کے پاس اس کی وجہ بھی موجود تھی۔
مگر اب وہ رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں تھا۔
صبح ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ مسجد تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ کس شخص کو گرفتار کرکے لائے ہیں؟
پھر آپ ﷺ نے اس کی شناخت بتائی اور اس کے ساتھ نرمی کرنے کی ہدایت فرمائی۔
غور کیجیے۔
جس شخص نے دشمنی کی تھی، اس کے ساتھ بدلہ لینے کی گفتگو نہیں ہوئی۔ اس کے ماضی کو بنیاد بنا کر اس کی تذلیل نہیں کی گئی۔ سب سے پہلے اس کے ساتھ حسنِ سلوک کا راستہ اختیار کیا گیا۔
پھر رسول اللہ ﷺ اس کے قریب تشریف لائے اور پوچھا:
”ثمامہ! تمہارا میرے بارے میں کیا خیال ہے؟“
ثمامہ نے جواب دیا کہ اگر آپ قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے ذمے خون ہے۔ اگر احسان کریں گے تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے۔ اور اگر مال چاہتے ہیں تو جتنا چاہیں طلب کر لیجیے۔
یہ ایک ایسے آدمی کا جواب تھا جو اپنی جان، اپنی حیثیت اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کی بات سنی اور تشریف لے گئے۔
اسے کھانا دیا گیا۔ آپ ﷺ کی اونٹنی کا دودھ بھی اس تک پہنچایا گیا۔
اگلے دن آپ ﷺ پھر اس کے پاس تشریف لائے۔
وہی سوال کیا۔
ثمامہ نے جواب دیا کہ اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے۔
پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے۔
تیسرے دن پھر وہی سوال ہوا۔
ثمامہ نے اب بھی احسان اور اپنے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی بات کی۔
تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ثمامہ کو آزاد کر دو۔
بس۔
جس شخص کو ستون کے ساتھ باندھا گیا تھا، اس کی رسیاں کھول دی گئیں۔
نہ اسے مجبور کیا گیا کہ وہ اسلام قبول کرے۔ نہ اس سے کوئی ایسا اقرار لیا گیا جسے وہ دل سے قبول نہ کرتا ہو۔ نہ اس کی آزادی کو کسی شرط کے ساتھ باندھا گیا۔
اسے جانے دیا گیا۔
یہاں ذرا رک کر سوچیے۔
اگر آپ کسی ایسے شخص کو اپنے اختیار میں پائیں جس نے آپ کو نقصان پہنچایا ہو، تو آپ کے دل میں پہلا خیال کیا آئے گا؟
بدلہ؟ سزا؟ اپنی برتری ثابت کرنے کی خواہش؟
اور اگر وہ شخص آپ کا دشمن ہو، آپ کی دعوت کا مخالف ہو، تو کیا آپ اسے اس وقت بھی عزت اور نرمی دے سکیں گے جب اسے معلوم ہو کہ اس کی زندگی آپ کے فیصلے پر منحصر ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے ثمامہ کے ساتھ یہی کیا۔
آپ ﷺ نے اسے صرف کھانا نہیں دیا تھا؛ اسے یہ تجربہ دیا تھا کہ جس جماعت کو وہ اپنا دشمن سمجھتا تھا، اس کے اخلاق اس کی توقعات سے مختلف ہیں۔
تین دن تک اس نے مسلمانوں کے معمولات دیکھے۔ ان کے رویّے دیکھے۔ ان کے درمیان زندگی گزاری۔
اور پھر وہ آزاد کر دیے جانے کے بعد چلا گیا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
ثمامہ ایک باغ سے گزرا، غسل کیا، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا۔
اس نے کلمہ پڑھا:
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
ذرا اس تبدیلی کی نوعیت دیکھیے۔
وہ شخص جو مخالف بن کر آیا تھا، ایمان لے کر واپس جانے کے لیے کھڑا تھا۔
جس کے پاس طاقت تھی، وہ اخلاق کے سامنے جھک گیا۔
جس کے دل میں مخالفت تھی، اس کے دل میں یقین پیدا ہوا۔
اور جسے تین دن تک ایک ستون کے ساتھ باندھ کر رکھا گیا تھا، وہ آخرکار اپنی مرضی سے اس پیغام سے وابستہ ہو گیا جسے وہ پہلے رد کرتا تھا۔
یہ محض کسی دشمن کی شکست نہیں تھی۔
یہ ایک انسان کے دل میں حق کے لیے جگہ پیدا ہونے کا واقعہ تھا۔
دل بدلنے کا فن
ان دونوں واقعات میں ایک گہرا رشتہ ہے۔
پہلے واقعے میں ایک اعلان ہوا اور لوگوں نے اپنی پرانی عادت چھوڑ دی۔
دوسرے واقعے میں کسی پر زبردستی نہیں کی گئی، بلکہ حسنِ سلوک نے اس کے اندر سوال پیدا کیے، اور اس سوال نے اسے ایک نئے راستے تک پہنچا دیا۔
ایک جگہ حکم نے انسان کے فیصلے کو بدلا۔
دوسری جگہ اخلاق نے انسان کے دل کو چھو لیا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں دین کی حکمت اور رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہمیں انسانی نفسیات کا ایک عظیم سبق دیتے ہیں۔
انسان کو بدلنے کے لیے صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ وہ غلط ہے۔ کبھی اسے یہ یقین دلانا بھی ضروری ہوتا ہے کہ غلطی کے باوجود اس کے لیے واپسی کا دروازہ کھلا ہے۔
کبھی ایک واضح حکم اسے گناہ سے روک دیتا ہے۔
کبھی ایک نرم رویّہ اسے اپنی غلطی پر سوچنے کے قابل بنا دیتا ہے۔
کبھی اسے برائی سے روکنا ضروری ہوتا ہے، اور کبھی اسے نیکی کا ایسا تجربہ دینا ضروری ہوتا ہے جس کے بعد برائی کی کشش خود کم ہونے لگے۔
لیکن ان سب کے درمیان ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے کی ہے:
نرمی کا مطلب حق کو چھوڑ دینا نہیں، اور حق پر قائم رہنے کا مطلب انسان کی عزت چھین لینا نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں یہی توازن سکھاتی ہے۔
اصول واضح ہوں، مگر دل میں رحمت ہو۔
غلطی کو غلط کہا جائے، مگر اصلاح کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔
انسان کو اس کے عمل کا احساس دلایا جائے، مگر اسے اس کی غلطی ہی کی شناخت نہ بنا دیا جائے۔
کیونکہ انسان صرف سزا سے رک سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ اس کا دل بھی بدل جائے۔
اور انسان صرف نصیحت سن سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ اسے اپنا بھی لے۔
دل کی تبدیلی کے لیے کبھی دلیل درکار ہوتی ہے، کبھی تجربہ، کبھی مہلت، کبھی معافی، اور کبھی ایسا کردار جو انسان کو اپنے ہی رویّے پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر دے۔
سوچیے، اگر ہم اپنے گھروں میں، اپنی اولاد کے ساتھ، اپنے رشتوں میں، اپنے مخالفین کے ساتھ یہی حکمت اختیار کر لیں تو کتنے جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔
کتنے بچے ڈر کے بجائے اعتماد سے اپنی غلطی تسلیم کرنے لگیں۔
کتنے رشتے انا کی جنگ سے نکل کر سمجھنے کی طرف آ جائیں۔
کتنے لوگ محض اس لیے واپس آ سکیں کہ کسی نے ان کے لیے واپسی کا دروازہ بند نہیں کیا۔
دین صرف انسان کو یہ نہیں بتاتا کہ اسے کیا چھوڑنا ہے؛ وہ اسے یہ بھی دکھاتا ہے کہ اسے کیا بننا ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا حسن یہی ہے کہ آپ ﷺ نے انسان کو صرف حکم نہیں دیا، کردار سے راستہ دکھایا؛ صرف غلطی سے روکا نہیں، خیر کی طرف بلایا؛ صرف دشمنی کا جواب نہیں دیا، بلکہ ایسے مواقع پر بھی رحمت اور حکمت کا مظاہرہ کیا جہاں بدلہ لینا ممکن تھا۔
شاید اسی لیے بعض واقعات تاریخ کی کتابوں میں محفوظ رہ کر بھی پرانے نہیں ہوتے۔
وہ ہر دور کے انسان سے ایک نیا سوال کرتے ہیں:
تم لوگوں کو بدلنا چاہتے ہو، یا صرف انہیں ہرانا چاہتے ہو؟
تم چاہتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان لیں، یا یہ بھی چاہتے ہو کہ وہ حق کو سمجھ کر قبول کریں؟
کیونکہ جیت وہ نہیں جو کسی انسان کو خاموش کر دے؛ جیت وہ ہے جس کے بعد اسے سچائی سے دشمنی کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔
اور سب سے بڑی کامیابی وہ ہے جب انسان کا ہاتھ کسی برائی سے رک جائے، اس کا ذہن حق کو پہچان لے، اور اس کا دل اپنی رضا سے اللہ کی طرف پلٹ آئے۔
یہی اصلاح ہے۔
یہی حکمت ہے۔
اور یہی وہ خوب صورتی ہے جو سیرتِ رسول ﷺ کو ہر زمانے کے لیے زندہ رہنمائی بناتی ہے۔