Category: منتخب غزلیں
-

( غیــر مطبــوعــہ ) یہ سجیلی مورتی اے ہوا پھرس…
( غیــر مطبــوعــہ ) یہ سجیلی مورتی اے ہوا پھرسے مجھے چھو کر قسَم کھا صحن میں کس نے قدم رکّھا تھا چپکے سے یہاں سے کون مٹّی لے گیا تھا وقت کی تھالی میں کس نے لا کے رکھ دی جھلملاتی لو کے آگے رقص کرتی یہ سجیلی مورتی جس کے نقوشِ جسم روشن…
-

-

( غیــر مطبـــوعـــہ ) چاند نکلا تو سَــمُندر کی…
( غیــر مطبـــوعـــہ ) چاند نکلا تو سَــمُندر کی ہَوا تیز ہُوئی درد کچھ اور بڑھا ‘ رات جنوں خیز ہُوئی پھر مِرے دل میں اداسی کا دیا جلنے لگا پھر تری یاد کو تنہائی کی مہمیز ہُوئی جیسے بے وجہہ کسی بات پہ دل بھر آئے چشمِ پُرخوں اِسی انداز سے لب ریز ہوئی…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) جپنوں عقیدہ بھی ہوں ‘ خاک ب…
( غیــر مطبــوعــہ ) جپنوں عقیدہ بھی ہوں ‘ خاک بھی اُڑا نہیں رہا میں دشت یاد کر رہا ہوں ‘ دشت جا نہیں رہا بجھے گا کوئی طاق کیا ‘ اُڑے کسی گلی میں راکھ کیا قبیلے کے کسی مکان پر بھی غلبہ ء ہوا نہیں رہا لکیریں کھینچ کھینچ وقت کی سلیٹ پر…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) جہاں تک روشــنائی تھی نظر می…
( غیــر مطبــوعــہ ) جہاں تک روشــنائی تھی نظر میں مرے ہم راہ تھا کوئی ســفر میں خود اپنے دل پہ دستک دے کے دیکھوں مکیں رہتا تو ہو گا کوئی گھر میں پڑی ہو گی ابھی وہ دھوپ چھت پر دمَکتی تھی جو گھر کے بام و دَر میں کسی کی معترِف ہو گی…
-

شاذ تمکنت ایک راز . ہم ہیں اور شہر میں ہم سے ہیں …
شاذ تمکنت ایک راز . ہم ہیں اور شہر میں ہم سے ہیں کئی آوارہ جن کی پرواز میں حائل ہیں پر و بال بہت آس کے کوٹھے پہ فردا ہے طوائف کی طرح ہم کہ نغمہ بھی نہ سُن پائیں تو سُرتال بہت ہم نرت بھاؤ کے سودے کو بھلا کیا جانیں سیڑھیاں چڑھیئے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) تمھیں خبر بھی ہے کچھ ؟ حادث…
( غیــر مطبــوعــہ ) تمھیں خبر بھی ہے کچھ ؟ حادثات سے آگے زمیں پہ دن بھی نکلتا تھا’ رات سے آگے یہاں تو پیاس اگاتا ہے ریگ زارِ بَلا سنا ہے’ صبر کی حد ہے فرات سے آگے حصار میں ہے وہ اپنے وجود کے اب تک میں خیمہ زن ہوں ذرا شہرِ ذات…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) اور کیا اہلِ سِــتم کاٹیں گے…
( غیــر مطبــوعــہ ) اور کیا اہلِ سِــتم کاٹیں گے زہر بویا ہے تو سَــم کاٹیں گے مزرع ِ اَرض بھی اپنی ہے مگر کِشت ِ اَفلاک بھی ہم کاٹیں گے اپنا غم ختم ہُوا ‘ شام ہُوئی اب کسی اور کا غم کاٹیں گے یہ جو فصــلیں ہیں گمانوں والی ہم نے بوئی ہیں…
-

خاطر غزنوی . کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں بن…
خاطر غزنوی . کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں بندے بھی ہو گئے ہیں خدا تیرے شہر میں تُو اور حریم ناز میں پابستۂ حنا ہم پھر رہے ہیں آبلہ پا تیرے شہر میں کیا جانے کیا ہُوا کہ پریشان ہو گئی اک لحظہ رُک گئی تھی صبا تیرے شہر میں کچھ…
-

( غیـــر مطبــوعــہ ) جنوں کی ایک رمَــق دل پذیرد…
( غیـــر مطبــوعــہ ) جنوں کی ایک رمَــق دل پذیردیکھتا ہوں سو ‘ دشتِ قیس کی کوئی نظیر دیکھتا ہوں مجھے ستارہءِ قسمت کو رہ سُجھانی ہے میں اپنے دستِ ہنر کی لکیر دیکھتا ہوں میں ڈھال دیکھ رہا تھا تو گر پڑا پھر بھی سو ‘ اب کمان اٹھاتا ہوں’ تیر دیکھتا ہوں خدا…