Category: منتخب غزلیں
-

شفیق خلش چھوڑا نہیں ہے وقت نے کرنے کو میرے کچھ ب…
شفیق خلش چھوڑا نہیں ہے وقت نے کرنے کو میرے کچھ باقی بھی اب رہا نہیں ڈرنے کو میرے کچھ مٹّی کا جسم سُوکھ کے پتّھر کا ہو گیا آنکھوں میں نم ہے اور نہ کرنے کو میرے کچھ اِک جُنبشِ حیات کو ترسا ہُوا ہُوں میں آہیں بھی اب رہیں نہیں بھرنے کو میرے…
-

غیر مطبوعہ وہ ہم سے عشق کا اظہار کر کے گیا ہے روح…
غیر مطبوعہ وہ ہم سے عشق کا اظہار کر کے گیا ہے روح کو سرشار کر کے اُتارا ہے اْسے رُوے زمیں پر خدا نے حسن کا شہ کار کر کے لڑکپن ہی سے ہم نے تختِ دل پر بٹھایا ہے اسے سرکار کر کے میں اکثر سوچتا رہتا ہوں ‘ اُس کو خدا سے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) اک ذرا پہلے طلسمی سے پہاڑوں…
( غیــر مطبــوعــہ ) اک ذرا پہلے طلسمی سے پہاڑوں پر کہیں اندھی گھپاؤں میں جہاں منظر اندھیرے تھے جہاں پر خامشی کا سخت پہرہ تھا جہاں جلتی زمینوں پر بہت گہرا، سیہ دُخّان ٹھہرا تھا جہاں جھیلوں کے نیلے سرد پانی میں ابھی خلیات کی تخلیق باقی تھی جہاں یخ بستہ دیواروں پہ اب…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) گماں سے بر سرِ پیکار ، ماجرا…
( غیــر مطبــوعــہ ) گماں سے بر سرِ پیکار ، ماجرا کیاہے ؟ ارے یقیں کے پرستار! ماجرا کیا ہے ؟ کرے گی پَل کو جدا پل سے، روز کو شب سے عجب ھے وقت کی تلوار، ماجرا کیا ہے ؟ لگا کےنعرہِ مستانہ کوئی کہتا ہے یہاں نہ دَر ہے ‘ نہ دیوار ۔۔…
-

احمد ندیمؔ قاسمی تیری گفتار میں تو پیار کے تیور ک…
احمد ندیمؔ قاسمی تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے کبھی جھانکا تِری آنکھوں میں، تو ہم ہی ہم تھے لمس کے دم سے بصارت بھی، بصیرت بھی ملی چُھو کے دیکھا تو جو پتّھر تھے نرے ریشم تھے تیری یادیں کبھی ہنستی تھیں، کبھی روتی تھیں میرے گھر کے یہی ہیرے تھے،…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) خُدا کو لوگوں کے نزدیک لانا …
( غیــر مطبــوعــہ ) خُدا کو لوگوں کے نزدیک لانا چاہتا تھا مَیں اپنے گاؤں میں مسجد بنانا چاہتا تھا کچھ اِس لئے بھی مِری خُود کشی ضروری تھی مَیں ایک عُمر کے جھگڑے مٹانا چاہتا تھا وہی ہُوا کہ وہ آنکھیں گَنوا کے بیٹھ گیا جو خواب دیکھنا اُور مسکرانا چاہتا تھا کسی مزار…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) کچھ دن سے اُٹھ رہی ہے دل و ش…
( غیــر مطبــوعــہ ) کچھ دن سے اُٹھ رہی ہے دل و شہرِ جاں سے خاک جب ہم ہرے بھرے ہیں تو آئئی کہاں سے خاک پھر بھی یہ دل دھڑک اٹھا اُس کی پکار پر گو ‘ اُس پہ لا کے ڈالی تھی سارے جہاں سے خاک چہرہ اٹا ہے دھول سے’ خالی ہیں…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) تری آنکھیں سمُندر ہیں تری …
( غیــر مطبــوعــہ ) تری آنکھیں سمُندر ہیں تری پہلی نظر سے زندگی آغاز ہوتی ہے تری آنکھیں عبادت گاہ سی روشن تری آنکھیں پرندوں سے بھری جھیلیں تری آنکھیں بڑی ساحر نہ جانے کن زمانوں سے پلٹتی ہیں ستارے، ان سے اپنا راستہ دریافت کرتے ہیں زمیں آداب کہتی ہے تری آنکھیں مری آنکھوں…
-

( غیــر مطــبوعــہ ) ذرا سا شائبہ ہُوں جس کا رُو …
( غیــر مطــبوعــہ ) ذرا سا شائبہ ہُوں جس کا رُو جھلکتا ہے کبھو جھلکتا نہیں ہے ‘ کبھُو جھلکتا ہے جو حل بھی ہوں تو بجھارت کے ٹکڑے پورے نہ ہوں دراڑ سے کوئی اَسرارِ مُو جھلکتا ہے سپرد کر کے بھی آواز بچ رہے میری فناے کُل میں بھی تکرارِ ہُو جھلکتا ہے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) حاصلِ گردشِ افلاک سمَجھتا ہے…
( غیــر مطبــوعــہ ) حاصلِ گردشِ افلاک سمَجھتا ہے مجھے میں تو حیراں ہوں کہ تو خاک سمَجھتا ہے مجھے شام ہوتے ہی سماتا ہے بدن میں آ کر میرا سایہ مِری خوراک سمَجھتا ہے مجھے جانے کس درد کی وہ مجھ کو دوا جانتا ہے جانے کس زہر کا تریاق سمَجھتا ہے مجھے مجھ…