Category: منتخب غزلیں
-

شفیق خلشؔ ۔ تقابُل کسی کا ہو کیا نازبُو سے نہیں اِ…
شفیق خلشؔ ۔ تقابُل کسی کا ہو کیا نازبُو سے نہیں اِک مشابہ مری خُوبرُو سے کہاں باز آئے ہم اِک آرزو سے ! نکھرتے مہکتے ترے رنگ و بُو سے ہُوا کچھ نہ حاصل تری جستجو سے رہے پیرہن تر ہم اپنے لہو سے اِطاعت، بغاوت میں ڈھل جائے اکثر نتیجہ نہ حاصل ہو…
-

تم ہنستے ہو تم ہماری دنیا کو دیکھتے ہو اور ہنستے…
تم ہنستے ہو تم ہماری دنیا کو دیکھتے ہو اور ہنستے ہو … تمھارے چہرے پر آسودگی ہے اور سیرابی… بہت دنوں بعد ایک اجلا دن نکلا ہے اس دن کے عین وسط میں تم .. سر کو پیچھے کی جانب پھینکتے ہو اور ہنستے ہو تم ہنسی سے .. کچھ زیادہ ہنستے ہو سب…
-

( غیـــر مطبــوعــہ ) ٭ آج آ بیٹھا ہوں ماضی کے مز…
( غیـــر مطبــوعــہ ) ٭ آج آ بیٹھا ہوں ماضی کے مزاروں کے قریب اَور کچھ دیر ٹھہَـر جانے کو جی چاہتا ہے پھر سے سبزے پہ اُتر آئی ہے اَپریل کی دُھوپ اَور اِس دُھوپ میں سَســتانے کو جی چاہتا ہے بازُوؤں میں مِرے پھر مَچھلیاں جی اُٹّھی ہیں جیسے ممکِن ہو ‘ تجھے…
-

-

آج مرزا غالب کی سالگرہ ہے۔ مرزا اسداللہ بیگ خان 27 دسمبر 1797 کو آگرہ میں پیدا ہ…
آج مرزا غالب کی سالگرہ ہے۔ مرزا اسداللہ بیگ خان 27 دسمبر 1797 کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔
-
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں…
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں – مرزا غالب
-
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار …
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے یہ پری چہرہ…
-
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا ترے …
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا کوئی میرے دل…
-
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
-

( غیــر مطبــوعــہ ) ڈھلانی تیز رفتاری میں دخل ان…
( غیــر مطبــوعــہ ) ڈھلانی تیز رفتاری میں دخل انداز مت ہو کسی بپھرے ہوئے سیلاب کا آغاز مت ہو محبّت اختتامی اَنترے پر آ نہ جائے کسی جنگی ترانے کا بھڑکتا ساز مت ہو کھنڈر ہوتی ہوئی دنیا میں تیرا گیت گونجے نیا آ غاز بن جا ، آخری آواز مت ہو یہاں اتنے…