غیر مطبوعہ
وہ ہم سے عشق کا اظہار کر کے
گیا ہے روح کو سرشار کر کے
اُتارا ہے اْسے رُوے زمیں پر
خدا نے حسن کا شہ کار کر کے
لڑکپن ہی سے ہم نے تختِ دل پر
بٹھایا ہے اسے سرکار کر کے
میں اکثر سوچتا رہتا ہوں ‘ اُس کو
خدا سے مانگ لوں اَصرار کر کے
میں کب سے آ کے ساحل پر کھڑا ہوں
چلے بھی آؤ دریا پار کر کے
نہ جانے کس گلی میں کھو گیا وہ
ہماری زندگی دشوار کر کے
وہ خود بھی پھر کہاں سویا سکوں سے
خمارؔ ! آنکھوں کو شب بے دار کر کے
( سلیماں خُمار )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔