( غیــر مطبــوعــہ )
اک ذرا پہلے
طلسمی سے پہاڑوں پر کہیں اندھی گھپاؤں میں
جہاں منظر اندھیرے تھے جہاں پر خامشی کا سخت پہرہ تھا
جہاں جلتی زمینوں پر بہت گہرا، سیہ دُخّان ٹھہرا تھا
جہاں جھیلوں کے نیلے سرد پانی میں ابھی خلیات کی تخلیق باقی تھی
جہاں یخ بستہ دیواروں پہ اب تک زندگی کے نقش مدھم تھے
ابھی تو کوزہ گر نے چاک کو گردش میں لانا تھا
ابھی تو خال و خد تجسیم ہونے میں زمانے تھے
ابھی تو آسمان والے نے اپنے سب صحیفوں کو زمیں کے نام لکھنا تھا
ابھی تو مہرو مہ تخلیق ہونے تھے،
ستارے مسکرانے تھے
مگر اک دن بہت مہکے ہوئے چھتنار باغوں میں
روپہلی دھوپ اوڑھے نیلگوں جھیلوں کے دامن میں
انگوروں کی گھنی بیلوں کے سائےاور سنہری روشنی کے سنگ
سب روحوں کا میلہ تھا
اسی میلے میں ان دونوں نے اک دوجے کو پہلی بار دیکھا تھا
وہیں سیماب جسموں میں سلگتا سا کوئی احساس جاگا تھا
مگراس وصلِ تازہ کا محاصل، اوّلیں لمحہ ہی
روحوں میں محبت کی نمو سے اک ذرا پہلے کا لمحہ تھا
وہ لمحہ دائرہ در دائرہ صدیوں پہ پھیلا تھا
سو فرقت تو مقدر تھی،رگوں کو چیرتا احساس تو بے نام رہنا تھا
کہ میلے میں ملن کا اوّلیں لمحہ ہی
روحوں میں محبت کی نمو سے اک ذرا پہلے کا لمحہ تھا
( شـــاہیـنؔ کاظِــمـی )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔