Category: منتخب غزلیں
-

اثرؔ لکھنوی بُھولے افسانے وَفا کے یاد دِلواتے ہُ…
اثرؔ لکھنوی بُھولے افسانے وَفا کے یاد دِلواتے ہُوئے تم تو، آئے اور دِل کی آگ بھڑکاتے ہُوئے موجِ مَے بَل کھا گئی، گُل کو جمَائی آ گئی زُلف کو دیکھا جو اُس عارض پہ لہراتے ہُوئے بے مروّت یاد کر لے، اب تو مُدّت ہو گئی ! تیری باتوں سے دِلِ مُضطر کو بہلاتے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) جو تو نہیں ہے تو غم نہیں ہے،…
( غیــر مطبــوعــہ ) جو تو نہیں ہے تو غم نہیں ہے، یہ کم نہیں ہے ہماری آنکھوں میں نم نہیں ہے، یہ کم نہیں ہے روایتِ مے کشی بدل دی نظر سے اُس نے ہے قند ساغر میں سم نہیں ہے ،یہ کم نہیں ہے کھلایا صحرا میں صورتِ گل جسے صبا نے حضورِ…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) تیر سب کا ابھی تک کمانوں میں…
( غیــر مطبــوعــہ ) تیر سب کا ابھی تک کمانوں میں ہے ! کشمکش ایک سی خانہ دانوں میں ہے ہم سے کیا پوچھتے ہو ہماری کہ اب اپنی پہچان دونوں جہانوں میں ہے بے زمینی کے اندھے بھنور میں پھنسی زندگی ۔۔ آج بھی بے مکانوں میں ہے کس زمیں زاد کے دل سے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) تیر سب کا ابھی تک کمانوں میں…
( غیــر مطبــوعــہ ) تیر سب کا ابھی تک کمانوں میں ہے ! کشمکش ایک سی خانہ دانوں میں ہے ہم سے کیا پوچھتے ہو ہماری کہ اب اپنی پہچان دونوں جہانوں میں ہے بے زمینی کے اندھے بھنور میں پھنسی زندگی ۔۔ آج بھی بے مکانوں میں ہے کس زمیں زاد کے دل سے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) ثروتؔ زہرہ کی نذر …… …
( غیــر مطبــوعــہ ) ثروتؔ زہرہ کی نذر …… اپنی جیون کتھا ہے عجب ، چھوڑئیے موج در موج گرداب ہیں یہ مسائل ذدہ خواب ہیں سو انھیں ، ایسے عالم میں تو ” دیکھنا جرم ہے “ تم بھی اُلجھن میں ہو ٹھہرو …! میری نہیں اپنی سولی چڑھو ویسے بھی تو یہاں رسم…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) مَیں یونہی دیکھتا ہوں عـالم …
( غیــر مطبــوعــہ ) مَیں یونہی دیکھتا ہوں عـالم بالا کی طرف جیسے افلاک مِرے نقشِ کفِ پا کی طرف آرزوے غــــــــمِ نایـاب بہت ہـے مجھ کـو دیکھتا بھی نہیں مَیں ‘ رنجِ مہیا کی طرف یوں بھی ممکن ہے کہ اک لمحۂ بے زاری میں تُو مِری سَــمت جُھکے اَور میں دُنیا کی طرف…
-

دل کو اے سروِ رَواں تاب و تَواں دیتی جا نَفَسِ تاز…
دل کو اے سروِ رَواں تاب و تَواں دیتی جا نَفَسِ تازۂ و احساسِ جواں دیتی جا جوشّ ملیح آبادی
-

( غیــر مطبــوعــہ ) باندھ کر گُھنرُو ۔۔ کبھی وہ …
( غیــر مطبــوعــہ ) باندھ کر گُھنرُو ۔۔ کبھی وہ کِیا کرتا تھا دھمال ! ہم نے اِس واسطے ہر گیت میں لکّھا ہے ‘ دھمال ” لعل شہ باز قلندر کی گلی کا مَنگتا جب کوئی بات لکھے ‘ بات میں لکھتا ہے ” دھمال ” مَنّتیں مان کے جس شخص کو ۔۔ ماں…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) اے کاش وہ تن پوشــی کو …
( غیــر مطبــوعــہ ) اے کاش وہ تن پوشــی کو افلاک سے نکلے جب روح مِری ‘خاک کی پوشاک سے نکلے برسے جو سرِ شام کبھی ابرِ تخیُّـل خوشبُو کی طرح تُو گلِ ادراک سے نکلے ہے باعثِ تشــویشِ جہاں یہ بھی کہ صیّاد ! نخچیر مجھ ایسا ترے فتراک سے نکلے جاتا ہے فغــاں…
-

غیرمطبوعہ عشق ہے یہ ۔۔ مِری جاں !ختم نہیں ہوتا ہے…
غیرمطبوعہ عشق ہے یہ ۔۔ مِری جاں !ختم نہیں ہوتا ہے آگـــــــ بجھ جــائے دھواؑں ختم نہیں ہوتا ہے ہوں مکیں خطّـۂ ســرســبز کا لیکن دل سے اک خــــــــــرابے کا نشاں ختم نہیں ہوتا ہے ختــــــــم ہوجاتی ہے یہ عمر جہاں بانی میں لیکن احســــــــــــاسِ زیاں ختم نہیں ہوتا ہے ســـــبز کردیتا ہے ہر بار…