Category: منتخب غزلیں
-

شفیق خلشؔ دِل میں میرے نہ جھانکتی تھی کوئی تھا س…
شفیق خلشؔ دِل میں میرے نہ جھانکتی تھی کوئی تھا سبب کچھ، کہ جھانپتی تھی کوئی خواہشِ دِل جو بھانپتی تھی کوئی ڈر سے لغزِش کے کانپتی تھی کوئی دِل کی ہر بات پر مجھے اکثر تیز لہجے میں ڈانٹتی تھی کوئی لمبی چُٹیا کا شوق تھا اِتنا بال ہر روز ناپتی تھی کوئی یاد…
-

شفیق خلشؔ دِل کی کہہ د ُوں مجال بھی تو نہیں اس پہ…
شفیق خلشؔ دِل کی کہہ د ُوں مجال بھی تو نہیں اس پہ حاصل کمال بھی تو نہیں جس سے دِل اُس کا رام ہوجائے ہم میں ایسا کمال بھی تو نہیں خاطرِ ماہ و سال ہو کیونکر کوئی پُرسانِ حال بھی تو نہیں جس سے سجتے تھے خواب آنکھوں میں اب وہ دِل کا…
-

لُطف و سجود ہوچکا کیف کہاں نماز میں ہو گئی گُم نِگ…
لُطف و سجود ہوچکا کیف کہاں نماز میں ہو گئی گُم نِگاہِ شوق جلوہِ کعبہ ساز میں راہِ حرم سے بیخودی کھینچ ہی لائی سُوئے دیر لے تو چلی تھی بےدِلی دام گہہِ نیاز میں پِھر وہی قلبِ عِشق میں ذوقِ کلیم جاگ اُٹھا کوند رہی ہیں بِجلیاں چشمِ نظارہ باز میں دِل پہ برس…
-

فراقؔ گورکھپُوری عِشق فُسردہ ہی رہا ،غم نے جَلا …
فراقؔ گورکھپُوری عِشق فُسردہ ہی رہا ،غم نے جَلا دِیا تو کیا سوزِ جِگر بڑھا تو کیا، دِل سے دھُواں اُٹھا تو کیا پھر بھی تو شبنمی ہے آنکھ، پھر بھی تو ہَونٹ خُشک ہیں زخمِ جِگر ہنسا تو کیا ، غُنچۂ دِل کِھلا تو کیا پھر بھی تو اہلِ غم تِرے، رازِ سکوں نہ…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) جاتا بھی کہـاں جســــم کے پی…
( غیــر مطبــوعــہ ) جاتا بھی کہـاں جســــم کے پیکر سے نکل کر منظر میں ہی موجود ہوں’ منظر سے نکل کر ممکن ہے’ میں آدھا بھی نہ پہنچوں کہ وہاں تک جانا ہے مجھے ۔۔ اُس کے برابر سے نکل کر ســاحــل نے کئی بار یہ دیکھا ہے کہ لہـریں پانی میں اُترتی ہیں…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) کیا اپنے کُل کو جُــزوِ تمــ…
( غیــر مطبــوعــہ ) کیا اپنے کُل کو جُــزوِ تمــاشــا کریں گے آپ یا دُور ہی سے ہونے کو دیکھا کریں گے آپ اپنی تلاش ۔۔۔۔ اپنی طلب۔۔۔۔۔ اپنی جُست جُـــو یہ بھی نہیں کریں گے تو پھر کیا کریں گے آپ ہونے سے اپنی جان چُھڑائیں گے کس طرح کیا خود سے جینے مرنے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) دھند جیسے مدّھم سا، نرم سا…
( غیــر مطبــوعــہ ) دھند جیسے مدّھم سا، نرم سا احساس جیسے جنگل میں مُشک پھیل گئی دھند چاروں طرف سے چھائی ہے ایسا گہرا لطیف سنّاٹا سانس لینا سنائی دیتا ہے کُہر ایسا کہ اپنا ہاتھ بھی اب غور پر ہی دکھائی دیتا ہے ایک ایسا عجیب سا جادو جیسے ٹھنڈک لپٹ کے سوئی…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) دھند جیسے مدّھم سا، نرم سا…
( غیــر مطبــوعــہ ) دھند جیسے مدّھم سا، نرم سا احساس جیسے جنگل میں مُشک پھیل گئی دھند چاروں طرف سے چھائی ہے ایسا گہرا لطیف سنّاٹا سانس لینا سنائی دیتا ہے کُہر ایسا کہ اپنا ہاتھ بھی اب غور پر ہی دکھائی دیتا ہے ایک ایسا عجیب سا جادو جیسے ٹھنڈک لپٹ کے سوئی…
-

حُسن بانو ! حُسن بانو ! ازل سے کڑے ،نت نئے ضابط…
حُسن بانو ! حُسن بانو ! ازل سے کڑے ،نت نئے ضابطوں میں مِراجسم سی کر، مِرا حُسن ہی تو مجھے ساتویں آسما ں سے زمیں پر گراتا رہا خواب گاہوں میں لا کر سُلاتا رہا یہ کاکُل کے بَل…… میری سانسوں کے پھندے ہیں میں جن کی سولی چڑھی ہوں مِرے نقرئی ہونٹ کی…
-

دیکھا ہی نہیں خوابِ دِلآراز سے آگے سوچا ہی نہیں، ہ…
دیکھا ہی نہیں خوابِ دِلآراز سے آگے سوچا ہی نہیں، ہم نے غمِ یار سے آگے ہے مسکنِ خُوباں، کہ کوئی عالَمِ ہُو ہے؟ موجُود ہے کیا سایۂ دِیوار سے آگے اِک حرفِ تاَسّف ہی تھا انجامِ مُسلسل افسوس تھا آغاز کے اِقرار سے آگے آتا ہی نہیں یاد، جو ہے یاد سے پیچھے! کچھ…