( غیــر مطبــوعــہ )
تیر سب کا ابھی تک کمانوں میں ہے !
کشمکش ایک سی خانہ دانوں میں ہے
ہم سے کیا پوچھتے ہو ہماری کہ اب
اپنی پہچان دونوں جہانوں میں ہے
بے زمینی کے اندھے بھنور میں پھنسی
زندگی ۔۔ آج بھی بے مکانوں میں ہے
کس زمیں زاد کے دل سے نکلا ہوں مَیں
ایک حرف ِ شکن آسمانوں میں ہے
اک یقیں سارے وہم و مگاں سے پرے
ایک اُلجھن مگر ساربانوں میں ہے
حوصلہ ہے تو دریا کے اُس پار چل
کچھ ہَوا بھی ابھی بادبانوں میں ہے
( خــالِـدؔ جمـــال )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔