Category: منتخب غزلیں
-
ہر رات تیری یاد کو سینے سے نکالا جیسے کسی مورت کو دفینے سے نکالا اک خواہشِ …
ہر رات تیری یاد کو سینے سے نکالا جیسے کسی مورت کو دفینے سے نکالا اک خواہشِ ناکام کو اس کو چۂ دل سے بدلے تیرے تیور تو قرینے سے نکالا پاؤں تری دہلیز پے رکھنے کے سزاوار تونے جنہیں تکریم کے زینے سے نکالا سکہ نہیں چلتا تری سرکار میں ورنہ کیا…
-

کہا ہے دِل کی تسلّی کو بارہا خود سے ہم اُن کو بُھو…
کہا ہے دِل کی تسلّی کو بارہا خود سے ہم اُن کو بُھول چُکے ہیں، مگر کہاں بالکل شفیق خلشؔ
-

بیٹھے تِرے خیال میں تصویر بن گئے خوابوں میں قید رہ…
بیٹھے تِرے خیال میں تصویر بن گئے خوابوں میں قید رہنے کی تعبیر بن گئے ہم نے تمھارے ساتھ گُزارے تھے جو کبھی لمحے وہی تو پاؤں کی زنجیر بن گئے شفیق خلشؔ
-

( غیــر مطبــوعــہ ) بُتِ خود سَر منانے کو مجھے خ…
( غیــر مطبــوعــہ ) بُتِ خود سَر منانے کو مجھے خود آ گیا ہے سَــمُندر سے پہـاڑوں کی طرف دریا بہا ہے سَراشکِ غم کو مِژگاں پر حقارت سے نہ دیکھو فصـــیلِ شب پہ یہ اُمّیـــــــــــــد کا جـــلتا دیا ہے لچک دونوں طرف موقف میں کچھ باقی نہیں ہے مگر دیکھـــــو ‘ بســـــاطِ گُفت گُو…
-

بہل ہی جائیں گے ایّام ہجرتوں کے خلشؔ خیال و خواب، …
بہل ہی جائیں گے ایّام ہجرتوں کے خلشؔ خیال و خواب، اُسی حُسنِ بے مثال کے رکھ شفیق خلشؔ
-

فیض احمد فیضؔ تیری صُورت جو، دِل نشیں کی ہے! آش…
فیض احمد فیضؔ تیری صُورت جو، دِل نشیں کی ہے! آشنا ، شکل ہر حَسِیں کی ہے حُسن سے دِل لگا کے، ہستی کی! ہر گھڑی ہم نے آتشِیں کی ہے صُبح ِگُل ہو، کہ شامِ میخانہ مدح ، اُس رُوئے نازنِیں کی ہے شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں ہم نے، توبہ ابھی نہیں…
-

فِراقؔ گھورکھپُوری کُچھ مُضطرب سی عِشق کی دُنیا ہ…
فِراقؔ گھورکھپُوری کُچھ مُضطرب سی عِشق کی دُنیا ہے آج تک جیسے کہ، حُسن کو نہیں دیکھا ہے آج تک بس اِک جَھلک دِکھا کے جسے، تُو گُزر گیا وہ چشمِ شوق، محوِ تماشا ہے آج تک یُوں تو اُداس غمکدۂ عِشق ہے، مگر اِس گھر میں اِک چراغ سا جلتا ہے آج تک جس…
-

یہ جو قول و قرار ہے ، کیا ہے شک ہے یا اعتبار ہے، ک…
یہ جو قول و قرار ہے ، کیا ہے شک ہے یا اعتبار ہے، کیا ہے؟ یہ جو اٹھتا ہے دل میں رہ رہ کر ابر ہے یا غبار ہے، کیا ہے؟ زیرِ لب اک جھلک تبسم کی برق ہے یا شرار ہے، کیا ہے؟ کوئی دل کا مقام سمجھاؤ گھر ہے یا رہ گزار…
-

شیریار بتاؤں کِس طرح احباب کو آنکھیں جو ایسی ہیں …
شیریار بتاؤں کِس طرح احباب کو آنکھیں جو ایسی ہیں کہ کل پلکوں سے ٹُوٹی نیند کی کرچیں سمیٹی ہیں سفر مَیں نے سمندر کا کِیا کاغذ کی کشتی میں تماشائی نِگاہیں اِس لیے بیزار اِتنی ہیں خُدا میرے! عطا کرمجھ کو گویائی، کہ کہہ پاؤں زمِیں پر رات دِن جو باتیں ہوتی مَیں نے…
-

شہریار جہاں میں ہونے کو اے دوست! یُوں تو سب ہوگا …
شہریار جہاں میں ہونے کو اے دوست! یُوں تو سب ہوگا تِرے لبوں پہ مِرے لب ہوں، ایسا کب ہوگا اِسی اُمید پہ کب سے دھڑک رہا ہے دِل تِرے حضُور کسی روز یہ طلب ہوگا مکاں تو ہوں گے، مکینوں سے سب مگر خالی یہاں بھی دیکھو تماشا یہ ایک شب ہوگا کوئی نہیں…