Category: منتخب غزلیں
-

اُمیؔد فاضلی ۔ ہَوا چلی تھی کُچھ ایسی، بِکھر گئے ہ…
اُمیؔد فاضلی ۔ ہَوا چلی تھی کُچھ ایسی، بِکھر گئے ہوتے رَگوں میں خُون نہ ہوتا تو مر گئے ہوتے یہ سرد رات، یہ آوارگی، یہ نیند کا بَوجھ ہم اپنے شہر میں ہوتے، تو گھر گئے ہوتے نئے شعوُر کو جِن کا شِکار ہونا تھا وہ حادثے بھی ہَمَیں پر گُزر گئے ہوتے ہمی…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) ابھی سے کیوں ابھی سے کیوں ا…
( غیــر مطبــوعــہ ) ابھی سے کیوں ابھی سے کیوں ابھی تو وصل کا سانچا کھلا تھا موم پگھلا تھا ابھی خالی جگہوں میں آنے والی زندگی کی شکل ابھری تھی ابھی رشتے کے رسّوں سے سروں کو باندھنا تھا پھر ہوا کے راستے رکھ کر ابلتی کھولتی امّید بھرنی تھی انا کے خول سے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) وہ ہجرت تو گوارا کر رہے ہیں…
( غیــر مطبــوعــہ ) وہ ہجرت تو گوارا کر رہے ہیں مگر خود سے کنارہ کر رہے ہیں جنھیں اپنی مَحبّت پر یقیں تھا وہ لوگ اب استخارہ کر رہے ہیں سنی جاتی ہے اب ان کی یہاں پر وہی سب کو اشارہ کر رہے ہیں مقدّر میں سفر لکّھا ہے شاید وہ جگنو کو…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) کسی پاتال کے جَل سے نہا کر ‘…
( غیــر مطبــوعــہ ) کسی پاتال کے جَل سے نہا کر ‘ مَیں نکل آیا پہاڑی کے عقب سے جگمگا کر ‘ مَیں نکل آیا مَیں عکس ِ لمحــۂ نم ساز تھا ‘ کب تک کِھلا رہتا پلک بھر آئنے میں لہلہا کر ‘ مَیں نکل آیا سر و سامان ِ خواہش کی وہاں کس…
-

مقصُودِ دِل بیاں اُنھیں آنکھوں سے ہو خلشؔ اچھّے …
مقصُودِ دِل بیاں اُنھیں آنکھوں سے ہو خلشؔ اچھّے ذرا لگوگے نہ کہتے زباں سے تم شفیق خلش
-

محبُوب خِزاں حال ایسا نہیں کہ تُم سے کہیں ایک جھ…
محبُوب خِزاں حال ایسا نہیں کہ تُم سے کہیں ایک جھگڑا نہیں کہ تُم سے کہیں زیرِ لب آہ بھی محال ہُوئی درد اِتنا نہیں کہ تُم سے کہیں تُم زُلیخا نہیں کہ ہم سے کہو ہم مَسِیحا نہیں کہ تُم سے کہیں سب سمجھتے ہیں، اور سب چُپ ہیں کوئی کہتا نہیں کہ تُم…
-

احمد فرازؔ سنگ دِل ہے وہ تو کیوں اُس کا گلہ میں ن…
احمد فرازؔ سنگ دِل ہے وہ تو کیوں اُس کا گلہ میں نے کِیا جب کے خود پتّھر کو بُت، بُت کو خُدا میں نے کِیا کیسے نامانُوس لفظوں کی کہانی تھا وہ شخص اُس کو کتنی مُشکِلوں سے ترجُمہ میں نے کِیا وہ مِری پہلی محبّت، وہ مِری پہلی شِکست پِھر تو پَیمانِ وَفا…
-

ثمریاب ثمرؔ ادب ہی اُٹھ گیا جب زندگی سے ملے گا ک…
ثمریاب ثمرؔ ادب ہی اُٹھ گیا جب زندگی سے ملے گا کیا بَھلا پھر شاعری سے انا نے سب کو اندھا کردِیا ہے کوئی ملتا نہیں ہے عاجزی سے یہ کیا ماحول ہے شہرِ وَفا کا! نہیں ہے مُطمئن کوئی کسی سے کوئی دریا اُٹھائے پِھر رہا ہے کوئی جاں ہار بیٹھا تشنگی سے کسی…
-

عرفانؔ صدیقی خرابہ، ایک دِن بَن جائے گھر، ایسا نہ…
عرفانؔ صدیقی خرابہ، ایک دِن بَن جائے گھر، ایسا نہیں ہوگا اچانک جی اُٹھیں وہ بام و در، ایسا نہیں ہوگا وہ سب، اِک بُجھنے والے شُعلۂ جاں کا تماشا تھا دوبارہ ہو وہی رقصِ شَرر، ایسا نہیں ہوگا وہ ساری بَستیاں، وہ سارے چہرے، خاک سے نِکلیں یہ دُنیا، پِھر سے ہو زیر و…
-

ذوالفقار نقویؔ خاک سے خاک مِلاؤں تو مِلاؤں کیسے و…
ذوالفقار نقویؔ خاک سے خاک مِلاؤں تو مِلاؤں کیسے وحشتِ دشت اُٹھاؤں تو اُٹھاؤں کیسے کوئی جادہ ہے نہ منزِل، نہ نشانی کوئی بے خبر پاؤں بڑھاؤں تو بڑھاؤں کیسے خاک میں میری، دہکتے ہُوئے انگاروں کو سرد آہوں سے بُجھاؤں تو بُجھاؤں کیسے آبیاری کے لئے کوئی میسّر ہے بھی دشت میں پیڑ لگاؤں…