Category: منتخب غزلیں
-

حسرتؔ موہانی . لائقِ حزبِ اَولِیا، نہ ہُوا وہ جو …
حسرتؔ موہانی . لائقِ حزبِ اَولِیا، نہ ہُوا وہ جو بے خوفِ ماسوا، نہ ہُوا اُس جفاکار سے خُدا کی پناہ! جو تِرا بندۂ وفا نہ ہُوا سخت ہے عِشق میں، مقامِ رضا ہم سے بھی ،طے یہ مرحَلہ نہ ہُوا عِشق بازی وہ کیا کرے گا، جسے! خندۂ زخم، دِل کُشا نہ ہُوا جاں…
-

اسداللہ خاں غالبؔ . درد منّت کشِ دَوا نہ ہُوا میں …
اسداللہ خاں غالبؔ . درد منّت کشِ دَوا نہ ہُوا میں نہ اچّھا ہُوا ، بُرا نہ ہُوا جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو اِک تماشا ہُوا ، گِلہ نہ ہُوا ہم کہاں قِسمت آزمانے جائیں تُو ہی جب، خنجر آزما نہ ہُوا کتنے شِیریں ہیں تیرے لب، کہ رقیب! گالِیاں کھا کے، بے مزہ…
-

حسرتؔ موہانی پَیروِ عِشقِ رہنُما نہ ہُوا زاہِدِ خ…
حسرتؔ موہانی پَیروِ عِشقِ رہنُما نہ ہُوا زاہِدِ خُشک، باخُدا نہ ہُوا کون لاتا تِرے عتاب کی تاب خیر گُزری، کہ سامنا نہ ہُوا عِشق یا حُسن، کون غالب ہے؟ آج تک اِس کا فیصلہ نہ ہُوا خلشِ خارِ عِشق مِٹ نہ سکی چارۂ جانِ مُبتلا، نہ ہُوا حُسنِ بے مہر نے یہ کُچھ نہ…
-

میر تقی میرؔ سینہ دَشنوں سے چاک تا نہ ہُوا دِل جو…
میر تقی میرؔ سینہ دَشنوں سے چاک تا نہ ہُوا دِل جو عُقدہ تھا سخت، وا نہ ہُوا سب گئے ہوش و صبر و تاب و تواں! دِل سے اِک داغ ہی، جُدا نہ ہُوا ظلم و جور و جفا، سِتم، بیداد عِشق میں تیرے، ہم پہ کیا نہ ہُوا ہم تو ناکام ہی جہاں…
-

حسرتؔ موہانی . تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہُوا ہم سے پ…
حسرتؔ موہانی . تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہُوا ہم سے پِھر بھی تِرا گِلہ نہ ہُوا ایسے بِگڑےکہ، پِھر جفا بھی نہ کی دُشمنی کا بھی حق ادا نہ ہُوا جانِ عاشِق، نثارِ دوست ہُوئی! شادئیِ مرگ کا بہانہ ہُوا کٹ گئی احتیاطِ عِشق میں عُمر ہم سے اِظہارِ مُدّعا، نہ ہُوا تیرے…
-

روپ اپنا یہ بدلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا : امبرین عاشیؔ
روپ اپنا یہ بدلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا زخم اشکوں میں بھی ڈھلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا ناگ بن کر مری بینائی نگل جائیں گے خواب آنکھوں میں جو پلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا عشق ہے کیا یہ مجھے کس لئے سمجھاتے ہو جسم و جاں آگ میں جلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا لفظ میٹھے…
-

عدیمؔ ہاشمی . زندگی، پاؤں نہ دَھر جانبِ انجام ابھی…
عدیمؔ ہاشمی . زندگی، پاؤں نہ دَھر جانبِ انجام ابھی میرے ذمّے ہیں ادُھورے سے کئی کام ابھی ابھی تازہ ہے بہت، گھاؤ بِچھڑ جانے کا گھیر لیتی ہے، تِری یاد سَرِشام ابھی اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے تیرے بِیمار کو آیا نہیں آرام ابھی رات آئی ہے تو کیا، تُم تو نہیں…
-

حجابؔ عباسی ۔ میں اکثر سوچتی ہُوں! زندگی کو کون ل…
حجابؔ عباسی ۔ میں اکثر سوچتی ہُوں! زندگی کو کون لکھے گا؟ نہ میں لکھّوں، تو پھر اِس بے بسی کو کون لکھے گا بہت مصرُوف ہیں اہلِ جہاں ہرزہ سرائی میں! اب آشوبِ سُخن میں ،بے حسی کو کون لکھے گا کئی صدیاں گُزارِیں منزِلوں کے کھوج میں پِھرتے تو پھر میرے سِوا ،…
-

شفیق خلشؔ ۔ چھوٹی تنظیمِ محبّت کو اِدارہ کرکے دِل …
شفیق خلشؔ ۔ چھوٹی تنظیمِ محبّت کو اِدارہ کرکے دِل رہے ذات پہ کچھ کم نہ اِجارہ کرکے کردِیا نقش سرِ دِیدہ و دِل حاجت نے پِھر سے اِک صُورتِ زیبا کو نظارہ کرکے بعد از مرگِ محبّت یہ تسلّی کیسی؟ جینا کب دِل کو میسّرہو دوبارہ کرکے کُھل کے کہنے کے سِوا، کیا رہے…
-
