Category: منتخب غزلیں
-

ادٓا جعفری جو چراغ سارے بُجھا چُکے، اُنھیں اِنتِظ…
ادٓا جعفری جو چراغ سارے بُجھا چُکے، اُنھیں اِنتِظار کہاں رہا یہ سُکوں کا دَورِ شدِید ہے، کوئی بے قرار کہاں رہا جو دُعا کو ہاتھ اُٹھائے بھی، تو مُراد یاد نہ آ سکی کسی کارواں کا جو ذکر تھا، وہ پَسِ غُبار کہاں رہا یہ طلُوعِ روزِ ملال ہے،سو گِلہ بھی کِس سے کریں…
-

ملک زادہ منظٓور احمد ترکِ محبّت اپنی خطا ہو،ایسا …
ملک زادہ منظٓور احمد ترکِ محبّت اپنی خطا ہو،ایسا بھی ہوسکتا ہے وہ، اب بھی پابندِ وَفا ہو،ایسا بھی ہوسکتا ہے دروازے پر آہٹ سُن کر، اُس کی طرف کیوں دھیان گیا آنے والی، صِرف ہَوا ہو ایسا بھی ہوسکتا ہے حال پریشاں سُن کر میرا، آنکھ میں اُس کی آنسُوں ہیں میں نے اُس…
-

فیضٓ صاحب ہم پر تمھاری چاہ کا اِلزام ہی تو ہے دُش…
فیضٓ صاحب ہم پر تمھاری چاہ کا اِلزام ہی تو ہے دُشنام تو نہیں ہے یہ اِکرام ہی تو ہے کرتے ہیں جس پہ طعن، کوئی جُرم تو نہیں شوقِ فضُول و اُلفتِ ناکام ہی تو ہے دِل مُدّعی کے حرفِ ملامت سے شاد ہے اے جان جاں! یہ حرف تِرا نام ہی تو ہے…
-

فراقٓ گورکھپُوری رُکی رُکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی…
فراقٓ گورکھپُوری رُکی رُکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی وہ پَو پھٹی، وہ نئی زندگی نظر آئی یہ موڑ وہ ہے کہ پرچھائیاں بھی ساتھ نہ دیں مسافروں سے کہو اُس کی رہ گزر آئی اگرچہ راہ تھی صُبحِ بہار سی، لیکن پہنچ کے منزِلِ جاناں پہ آنکھ بھر آئی کہیں زمان و مکاں…
-

فراقٓ گورکھپُوری کوئی پیغامِ محبّت لبِ اعجاز تو د…
فراقٓ گورکھپُوری کوئی پیغامِ محبّت لبِ اعجاز تو دے موت کی آنکھ بھی کُھل جائے گی آواز تو دے مقصدِعشق ہم آہنگئِ جُزوکُل ہے درد ہی درد سہی، دل بُوئے دمساز تو ہے چشمِ مخمُور کے عُنوانِ نظر کُچھ تو کُھلیں دلِ رنجُور، دھڑکنے کا کُچھ انداز تو دے اِک ذرا، ہو نشۂ حُسن میں…
-

سدھرشن فاخر پتھر کے خدا، پتھر کے صنم، پتھر کے ہی …
سدھرشن فاخر پتھر کے خدا، پتھر کے صنم، پتھر کے ہی انساں پائے ہیں تم شہرِ محبت کہتے ہو ہم جان بچا کر آئے ہیں بت خانہ سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے ہم لوگ وہیں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں ہم سوچ رہے ہیں مدت سے…
-

شہریار جب بھی ملتی ہےمجھے اجنبی لگتی کیوں ہے زندگ…
شہریار جب بھی ملتی ہےمجھے اجنبی لگتی کیوں ہے زندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہے دُھوپ کے قہر کا ڈر ہے ، تو دیارِ شب سے! سربرہنہ کوئی پرچھائیں نکلتی کیوں ہے مُجھ کو اپنا نہ کہا، اِس کا گِلا تُجھ سے نہیں اِس کا شکوہ ہے کہ، بیگانہ سمجھتی کیوں ہے تُجھ سے…
-

علامہ اقبال ظاہر کی آنکھ سے، نہ تماشا کرے کوئی ہ…
علامہ اقبال ظاہر کی آنکھ سے، نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا، تو دیدۂ دل وا کرے کوئی منصُور کو ہُوا لَبِ گویا پیامِ موت اب کیا، کسی کے عِشق کا دعویٰ کرے کوئی ہو دِید کا جو شوق، تو آنکھوں کو بند کر ہے دیکھنا یہی، کہ نہ دیکھا کرے کوئی میں اِنتہائے عِشق…
-

اقبال لاہوری یہ شالامار میں اِک برگِ زرد کہتا تھ…
اقبال لاہوری یہ شالامار میں اِک برگِ زرد کہتا تھا گیا وہ موسمِ گُل جِس کا رازدار ہُوں میں نہ پائمال کریں مُجھ کو زائرانِ چمن اُنھیں کی شاخِ نشیمن کی یادگار ہُوں میں ذرا سے پتّے نے بیتاب کردِیا دِل کو چمن میں آکے سراپا غَمِ بہار ہُوں میں خزاں میں، مُجھ کو رُلاتی…
-

حسرت ؔموہانی یاس کا دِل پہ کُچھ اثر نہ ہُوا قصۂ ش…
حسرت ؔموہانی یاس کا دِل پہ کُچھ اثر نہ ہُوا قصۂ شوق، مُختصر نہ ہُوا حُسن کو عِشق سے مُفر نہ ہُوا لاکھ چاہا ! کہ ہو، مگر نہ ہُوا عاشقی اُس کی معتبر نہ ہُوئی! جو، تِرا بندۂ نظر نہ ہُوا کُچھ ٹِھکانا ہے اِس تغافل کا آپ کا جَور بھی، خبر نہ ہُوا…