Category: منتخب غزلیں
-

-

کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں دل کی تپش…
کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں دل کی تپش کو کیا کروں، سوزِ جگر کو کیا کروں غیر ہے گرچہ ہمنشیں، بزم میں ہے تو وہ حسیں پھر مجھے لے چلا وہیں، ذوقِ نظر کو کیا کروں شورشِ عاشقی کہاں، اور مری سادگی کہاں حُسن کو تیرے کیا کہوں، اپنی نظر کو…
-

حامد مدنی وہی داغِ لالہ کی بات ہے، کہ بَنامِ حُسن…
حامد مدنی وہی داغِ لالہ کی بات ہے، کہ بَنامِ حُسن اُدھر گئی کوئی کیا کہے، کہ کہاں کہاں، تِرے خالِ رُخ کی خبر گئی کوئی ہاتھ دشنۂ جاں ستاں، کوئی ہاتھ مرہَمِ پرنیاں یہ تو ہاتھ ہاتھ کی بات ہے، کوئی وقت پا کے سنور گئی وہی ایک سُود و زیاں کا غم جو…
-

دیکھا ہی نہیں خوابِ دِلآراز سے آگے سوچا ہی نہیں، ہ…
دیکھا ہی نہیں خوابِ دِلآراز سے آگے سوچا ہی نہیں، ہم نے غمِ یار سے آگے ہے مسکنِ خُوباں، کہ کوئی عالَمِ ہُو ہے؟ موجُود ہے کیا سایۂ دِیوار سے آگے اِک حرفِ تاَسّف ہی تھا انجامِ مُسلسل افسوس تھا آغاز کے اِقرار سے آگے آتا ہی نہیں یاد، جو ہے یاد سے پیچھے! کچھ…
-

شہر یار تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کِس سے ملاتی ہے …
شہر یار تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کِس سے ملاتی ہے ہمیں زندگی، دیکھیے کیا رنگ دِکھاتی ہے ہمیں مرکزِ دِیدہ و دِل تیرا تصوّر تھا کبھی آج اِس بات پہ کتنی ہنسی آتی ہے ہمیں پھر کَہِیں خواب و حَقِیقت کا تصادم ہوگا پھر کوئی منزلِ بے نام بُلاتی ہے ہمیں دِل میں…
-

علامہ اقبال اثر کرے نہ کرے، سُن تو لے مِری فریاد …
علامہ اقبال اثر کرے نہ کرے، سُن تو لے مِری فریاد نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد یہ مُشتِ خاک، یہ صرصر، یہ وُسعَتِ افلاک کَرَم ہے یا کہ سِتَم تیری لذَّتِ ایجاد ٹھہر سکا نہ ہَوائے چَمن میں خیمۂ گُل یہی ہے فصلِ بہاری، یہی ہے بادِ مُراد قصُوروارِ غَرِیب الدیار ہُوں،…
-

فِراقٓ گورکھپُوری یوں نئی زندگی نظر آئی وقت کے د…
فِراقٓ گورکھپُوری یوں نئی زندگی نظر آئی وقت کے دِل کی چوٹ بھر آئی حُسنِ قاتِل کا ہے کہاں تک اثر! موت کی شکل بھی نِکھر آئی اِس طرح آج کوئی یاد آیا جیسے اپنی مجھے خبر آئی عاشقوں کو خوشی سے کیا، لیکن یہ بَلا بھی اُنھیں کے سر آئی اے خَدوخالِ زیست !…
-

فراقٓ گورکھپُوری یہ نرم نرم ہَوا، جِھلمِلا رہے ہ…
فراقٓ گورکھپُوری یہ نرم نرم ہَوا، جِھلمِلا رہے ہیں چراغ تِرے خیال کی خوشبُو سے بس رہے ہیں دماغ دِلوں کو تیرے تبسّم کی یاد یُوں آئی کہ جگمگا اُٹَھیں جس طرح مندروں میں چراغ جَھلکتی ہے کھنچی شمشِیر میں نئی دنیا حیات و موت کے مِلتے نہیں ہیں آج دماغ حریفِ سینۂ مجرُوح و…
-

داغٓ دہلوی غضب کِیا، تِرےے وعدے پہ اعتبار کیا تم…
داغٓ دہلوی غضب کِیا، تِرےے وعدے پہ اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیا کسی طرح، جو نہ اُس بُت نے اعتبار کیا مِری وَفا نے، مجھے خُوب شرمسار کیا ہنسا ہنسا کے شبِ وصل اشکبار کیا تسلّیاں مجھے دے دے کے بیقرار کیا یہ کِس نے جلوہ ہمارے سَرِ مزار کیا کہ دل…
-

ادٓا جعفری جو چراغ سارے بُجھا چُکے، اُنھیں اِنتِظ…
ادٓا جعفری جو چراغ سارے بُجھا چُکے، اُنھیں اِنتِظار کہاں رہا یہ سُکوں کا دَورِ شدِید ہے، کوئی بے قرار کہاں رہا جو دُعا کو ہاتھ اُٹھائے بھی، تو مُراد یاد نہ آ سکی کسی کارواں کا جو ذکر تھا، وہ پَسِ غُبار کہاں رہا یہ طلُوعِ روزِ ملال ہے،سو گِلہ بھی کِس سے کریں…