Category: منتخب غزلیں
-

پروین شاکر جُستجُو کھوئے ہُوؤں کی، عُمر بھر کرتے…
پروین شاکر جُستجُو کھوئے ہُوؤں کی، عُمر بھر کرتے رہے چاند کے ہمراہ ہم، ہر شب سفر کرتے رہے راستوں کا عِلم تھا ہم کو، نہ سمتوں کی خبر! شِہرِ نامعلُوم کی چاہت مگر کرتے رہے ہم نے خود سے بھی چھپایا، اور سارے شہر کو تیرے جانے کی خبر دِیوار و دَر کرتے رہے…
-

پروین شاکر ٹُوٹی ہے میری نیند، مگر تُم کو اِس سے …
پروین شاکر ٹُوٹی ہے میری نیند، مگر تُم کو اِس سے کیا ! بجتے رہیں ہَواؤں سے در، تُم کو اِس سے کیا تم موج موج مثلِ صَبا گُھومتے رہو کٹ جائیں میری سوچ کے پر، تُم کو اِس سے کیا اوروں کا ہاتھ تھامو، اُنھیں راستہ دِکھاؤ میں بُھول جاؤں اپنا ہی گھر، تُم…
-

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے ~ پ…
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے ~ پروین شاکر
-

آنے میں سدا دیر لگاتے ہی رہے تم جاتے رہے ہم جان سے آتے ہی رہے تم امام بخش ناس…
آنے میں سدا دیر لگاتے ہی رہے تم جاتے رہے ہم جان سے آتے ہی رہے تم امام بخش ناسخ
-

شہریار وحشتِ دِل تھی کہاں کم، کہ بڑھانے آئے کِس ل…
شہریار وحشتِ دِل تھی کہاں کم، کہ بڑھانے آئے کِس لئے یاد ہَمَیں بِیتے زمانے آئے دشت خالی ہُوئے، زنجِیر ہُوئے دِیوانے تھی خطا اِتنی کہ، کیوں خاک اُڑانے آئے کیا عجب رسم ہے، دستُور بھی کیا خُوب ہے یہ ! آگ بھڑکائے کوئی، کوئی بُجھانے آئے وقت کی کیا بات ہے یہ بھی، کہ…
-
خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم ख़ामोश ज़िं…
خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم ख़ामोश ज़िंदगी जो बसर कर रहे हैं हम गहरे समुंदरों में सफ़र कर रहे हैं हम ~Rais Amrohvi رئیس امروہی
-

شفیق خلشٓ جی کو کچھ شہر میں بَھلا نہ لگا جا کے ا…
شفیق خلشٓ جی کو کچھ شہر میں بَھلا نہ لگا جا کے احباب میں ذرا نہ لگا درگُزر اِس سے، دِل ذرا نہ لگا کم نہیں، اب کی کُچھ ڈرانہ لگا کچھ اُمیدیں تھیں جس سے وابستہ ! قد سے وہ بھی ذرا بڑا نہ لگا تھے ہم مجبوریوں سے پا بستہ بولیے دِل کی…
-

شفیق خلشٓ جی کو کچھ شہر میں بَھلا نہ لگا جا کے ا…
شفیق خلشٓ جی کو کچھ شہر میں بَھلا نہ لگا جا کے احباب میں ذرا نہ لگا درگُزر اِس سے، دِل ذرا نہ لگا کم نہیں، اب کی کُچھ ڈرانہ لگا کچھ اُمیدیں تھیں جس سے وابستہ ! قد سے وہ بھی ذرا بڑا نہ لگا تھے ہم مجبوریوں سے پا بستہ بولیے دِل کی…
-
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں वही फिर मुझे याद आन…
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں वही फिर मुझे याद आने लगे हैं जिन्हें भूलने में ज़माने लगे हैं ~Khumar Barabankavi خمار بارہ بنکوی
-
