Category: منتخب غزلیں
-

سرُورؔ بارہ بنکوی ۔ "ہم تو شاعر ہیں، ہم سچ نہیں بو…
سرُورؔ بارہ بنکوی ۔ "ہم تو شاعر ہیں، ہم سچ نہیں بولتے” جانِ جاں! سچ پہ کیوں اِتنا اِصرار ہے سچ کی عظمت سے کب ہم کو اِنکار ہے ہم بھی، شاعر ہیں آخر اُسی قوم کے! جس کا ہر فرد بِکنے پہ تیار ہے ہم ہیں لفظوں کے تاجِر، یہ بازار ہے سچ تو…
-

شفیق خلشؔ ۔ کارِ ہستی ہنوز سیکھتے ہیں ہم نہیں وہ …
شفیق خلشؔ ۔ کارِ ہستی ہنوز سیکھتے ہیں ہم نہیں وہ کہ غوز سیکھتے ہیں کم ہُنر، وہ نہ روز سیکھتے ہیں! گُر مصائب کے، دوز سیکھتے ہیں کب کتابوں سے عِلم وہ حاصِل ! جو رویّوں سے روز سیکھتے ہیں مرثیہ کیا کہیں گے وہ ،کہ ابھی قبل کہنے کو، سوز سیکھتے ہیں ہو…
-

داغؔ دہلوی جس وقت آئے ہوش میں کُچھ بے خودی سے ہم ک…
داغؔ دہلوی جس وقت آئے ہوش میں کُچھ بے خودی سے ہم کرتے رہے خیال میں باتیں اُسی سے ہم ناچار تم ہو دِل سے ، تو مجبُور جی سے ہم رکھتے ہو تم کسی سے محبّت، کسی سے ہم پُوچھے نہ کوئی ہم کو، نہ بولیں کسی سے ہم کُنجِ لَحد میں جاتے ہیں،…
-

خواجہ حیدر علی آتشؔ ۔ دَہن پر ہیں اُن کے گُماں کیس…
خواجہ حیدر علی آتشؔ ۔ دَہن پر ہیں اُن کے گُماں کیسے کیسے کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے زمینِ چمن گُل کِھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے تُمھارے شَہِیدوں میں داخِل ہُوئے ہیں گُل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے بہار آئی ہے، نشّہ میں جُھومتے ہیں مُرِیدانِ پِیرِ مغاں…
-

داغ دہلوی ۔ خاطر سے یا لحاظ سے، مَیں مان تو گیا ج…
داغ دہلوی ۔ خاطر سے یا لحاظ سے، مَیں مان تو گیا جُھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا دِل لے کے مُفت کہتے ہیں، کُچھ کام کا نہیں اُلٹی شِکایتیں ہُوئیں احسان تو گیا ڈرتا ہُوں دیکھ کر دلِ بے آرزُو کو مَیں سُنسان گھر یہ کیوں نہ ہو، مہمان تو گیا کیا…
-

داغؔ دہلوی ۔ جلوے مِری نِگاہ میں کون و مکاں کے ہیں…
داغؔ دہلوی ۔ جلوے مِری نِگاہ میں کون و مکاں کے ہیں مُجھ سے کہاں چُھپیں گے وہ، ایسے کہاں کے ہیں کُھلتے نہیں ہیں راز جو سوزِ نہاں کے ہیں کیا پُھوٹنے کے واسطے چھالے زباں کے ہیں کرتے ہیں قتل وہ طَلَبِ مغفِرت کے بعد جو تھے دُعا کے ہاتھ وہی اِمتحاں کے…
-

داغؔ دہلوی ۔ اِس نہیں کا کوئی عِلاج نہیں روز کہتے…
داغؔ دہلوی ۔ اِس نہیں کا کوئی عِلاج نہیں روز کہتے ہیں آپ، آج نہیں کل جو تھا، آج وہ مِزاج نہیں اس تَلَوُّن کا کُچھ عِلاج نہیں آئنہ دیکھتے ہی اِترائے پھر یہ کیا ہے، اگر مِزاج نہیں لے کے دِل رکھ لو کام آئے گا گو ابھی تم کو احتیاج نہیں ہو سکیں…
-

فراقؔ گورکھپُوری ۔ نگہِ ناز سے، وہ نغمہ سُنا آج م…
فراقؔ گورکھپُوری ۔ نگہِ ناز سے، وہ نغمہ سُنا آج مجھے ! نہ رہے شورشِ عالَم کا پتہ آج مجھے سَربَسر سازِ مُحبت ہے میرا رنگِ سُکوت شوخئیِ چشمِ سیہ، چھیڑ ذرا آج مجھے اِس طرح بزمِ طرب کو بھی نہیں چمکاتے درد کی طرح نہ محفِل سے اُٹھا آج مجھے قُرب و دُوری کے…
-

فِراقؔ گورکھپُوری ۔ خود کو کھویا بھی کہاں، عِشق کو…
فِراقؔ گورکھپُوری ۔ خود کو کھویا بھی کہاں، عِشق کو پایا بھی کہاں کرسکے اہلِ وَفا تیری تمنّا بھی کہاں شادی وغم سے بہت دُور ہے اب مستیِ عِشق آج پُہنچی ہے تِری رنجشِ بے جا بھی کہاں یُوں توکوئی نظر آتا ہی نہیں تیرے سِوا نگہۂ شوق نے ، لیکن تُجھے دیکھا بھی کہاں…
-

روشؔ صدیقی ، چَلا ہے لے کے مُجھے ذوقِ جُستجُو میرا…
روشؔ صدیقی ، چَلا ہے لے کے مُجھے ذوقِ جُستجُو میرا اب اِنتظار کر اے جانِ آرزُو میرا میں بن سکا نہ تِرا، یہ بَجا سہی لیکن ! کِسی کو کیوں یہ گُماں ہو، نہیں ہے تُو میرا ہَوائے دشت بہت دُور لے گئی اکثر نہیں اسیرِ چَمن ذوقِ رنگ و بُو میرا شِکستِ دِل…