داغؔ دہلوی ۔ اِس نہیں کا کوئی عِلاج نہیں روز کہتے…


داغؔ دہلوی
۔
اِس نہیں کا کوئی عِلاج نہیں
روز کہتے ہیں آپ، آج نہیں

کل جو تھا، آج وہ مِزاج نہیں
اس تَلَوُّن کا کُچھ عِلاج نہیں

آئنہ دیکھتے ہی اِترائے
پھر یہ کیا ہے، اگر مِزاج نہیں

لے کے دِل رکھ لو کام آئے گا
گو ابھی تم کو احتیاج نہیں

ہو سکیں ہم مِزاج داں کیونکر !
ہم کو مِلتا تِرا مزاج نہیں

چُپ لگی لعل جاں فِزا کو تِرے
اِس مَسِیحا کا کُچھ عِلاج نہیں

دلِ بے مُدَّعا خُدا نے دِیا
اب کسی شے کی احتیاج نہیں

کھوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹھہرا
درہمِ داغ کا رِواج نہیں

بے نیازی کی شان کہتی ہے!
بندگی کی، کُچھ احتیاج نہیں

دِل لگی کیجیے رَقِیبوں سے
اِس طرح کا مِرا مِزاج نہیں

عِشق ہے پادشاہِ عالَم گِیر
گرچہ، ظاہر میں تخت و تاج نہیں

دردِ فُرقت کی، گو دَوا ہے وصال
اِس کے قابِل بھی، ہر مِزاج نہیں

یاس نے کیا بُجھا دِیا دِل کو
کہ تڑپ کیسی، اِختلاج نہیں

ہم تو سِیرت پَسند عاشِق ہیں !
خُوب رُو کیا، جو خوش مِزاج نہیں

حُور سے پُوچھتا ہُوں جنّت میں
اِس جگہ، کیا بُتوں کا راج نہیں ؟

صبر بھی دِل کو داغؔ دے لیں گے
ابھی کُچھ اِس کی احتیاج نہیں

داغؔ دہلوی