Category: منتخب غزلیں
-

شفیق خلشؔ ۔ کُچھ مُداوائے غمِ ہجر بھی کرتے جاؤ جُھ…
شفیق خلشؔ ۔ کُچھ مُداوائے غمِ ہجر بھی کرتے جاؤ جُھوٹے وعدوں سے پڑے زخم تو بھرتے جاؤ کُچھ تو دامن میں خوشی جینےکی بھرتے جاؤ اِک مُلاقات ہی دہلیز پہ دھرتے جاؤ جب بھی کوشِش ہو تمھیں دِل سے مِٹانے کی کوئی بن کے لازم تم مزِید اور اُبھرتے جاؤ ہے یہ سب سارا،…
-

سلام ۔ لہو لہو ہے زبانِ قلم بیاں کے لیے یہ گُل چُن…
سلام ۔ لہو لہو ہے زبانِ قلم بیاں کے لیے یہ گُل چُنے ہیں شہیدوں کی داستاں کے لیے کھڑے ہیں شاہ کمر بستہ اِمتحاں کے لیے پِھر ایسی رات کب آئے گی آسماں کے لیے دِیا بُجھا کے یہ کہتے تھے ساتھیوں سے حُسینؑ جو چاہو، ڈھونڈ لو رستا کوئی اماں کے کیے کہا…
-

ڈاکٹر بشیر بدرؔ ہونٹوں پہ محبّت کے فسانے نہیں آت…
ڈاکٹر بشیر بدرؔ ہونٹوں پہ محبّت کے فسانے نہیں آتے ساحِل پہ سمندر کے خزانے نہیں آتے پلکیں بھی چَمک اُٹھتی ہیں سونے میں ہماری آنکھوں کو، ابھی خواب چُھپانے نہیں آتے دِل اُجڑی ہُوئی ایک سرائے کی طرح ہے اب لوگ یہاں رات جگانے نہیں آتے یارو! نئے موسم نے یہ احسان کیے ہیں…
-

شہریار اِس حصارِ روز و شب سے، دوستو نِکلو ذرا دیک…
شہریار اِس حصارِ روز و شب سے، دوستو نِکلو ذرا دیکھ لی دُنیا بہت، اب خود کو بھی دیکھو ذرا جس طرف بھی جائیے، تنہائیوں کی گرد ہے شہرِ دِل میں یک بہ یک کیا ہو گیا، سوچو ذرا سائے پِھر سائے ہیں، ڈھل جائیں گے یہ سورج کے ساتھ ! یہ حقیقت تلخ ہے،…
-

قمرؔ جلالوی شاید کُچھ آگے آگئے کُوئے بُتاں سے ہم ا…
قمرؔ جلالوی شاید کُچھ آگے آگئے کُوئے بُتاں سے ہم اب یاد کر رہے ہیں کہ، بھٹکے کہاں سے ہم؟ . نِکلے تھے جانے کیسی گھڑی گُلسِتاں سے ہم ایسے چُھٹے، کہ پھر نہ مِلے آشیاں سے ہم . رُودادِ حُسن و عِشق سُنائیں کہاں سے ہم شرمائیں گے حضُور، کہیں گے جہاں سے ہم…
-

قمرؔ جَلالوی بنتا نہیں ہے حُسن سِتمگر شباب میں ہو…
قمرؔ جَلالوی بنتا نہیں ہے حُسن سِتمگر شباب میں ہوتے ہیں اِبتدا ہی سے کانٹے گُلاب میں جلوے ہُوئے نہ جذب رُخِ بے نقاب میں! کرنیں سِمَٹ کے آ نہ سَکِیں آفتاب میں بچپن میں یہ سوال، قیامت کب آئے گی؟ بندہ نواز آپ کے عہدِ شباب میں صیّاد! آج میرے نَشیمن کی خیر ہو…
-

فِراق گورکھپوُری سزائے حُسن پَرستی بَجا، بَجا بھی…
فِراق گورکھپوُری سزائے حُسن پَرستی بَجا، بَجا بھی نہیں کہ جُرمِ عِشقِ بُتاں ہے بُرا، بُرا بھی نہیں کِسی کو کیا نہ مِلا زندگی میں، وائے نصیب! ہمارے ہاتھ بس اِک دِل رہا، رہا بھی نہیں لِیے دِیے بھی ہیں ہم لوگ، کھوئے کھوئے بھی کہ ہوشِ غم زدگاں ہے بَجا، بَجا بھی نہیں ارے…
-

شفیق خلشؔ ایک اِک کرکے، سبھی لوگ بدلتے جائیں اپنے…
شفیق خلشؔ ایک اِک کرکے، سبھی لوگ بدلتے جائیں اپنے اطوارسے ہی، دِل سے نکلتے جائیں راحتِ دِید کی حاجت میں اُچھلتے جائیں اُن کے کُوچے میں انا اپنی کُچلتے جائیں دمِ آیات سے، ہم کُچھ نہ سنبھلتے جائیں بلکہ انفاسِ مسیحائی سے جلتے جائیں بے سروپا، کہ کوئی عِشق کی منزِل ہی نہیں خود…
-

اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اور کہتا ہوں کچھ اور منہ سے نکل جائے ہے کچھ اور…
اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اور کہتا ہوں کچھ اور منہ سے نکل جائے ہے کچھ اور ~ جرات قلندر بخش
-

سرُورؔ بارہ بنکوی ۔ "ہم تو شاعر ہیں، ہم سچ نہیں بو…
سرُورؔ بارہ بنکوی ۔ "ہم تو شاعر ہیں، ہم سچ نہیں بولتے” جانِ جاں! سچ پہ کیوں اِتنا اِصرار ہے سچ کی عظمت سے کب ہم کو اِنکار ہے ہم بھی، شاعر ہیں آخر اُسی قوم کے! جس کا ہر فرد بِکنے پہ تیار ہے ہم ہیں لفظوں کے تاجِر، یہ بازار ہے سچ تو…