Category: منتخب غزلیں
-

عدیم ہاشمی کی وفات Nov 05, 2001 اردو کے ممتاز شاع…
عدیم ہاشمی کی وفات Nov 05, 2001 اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار عدیم ہاشمی کی تاریخ پیدائش یکم اگست1946ء ہے۔ عدیم ہاشمی کا اصل نام فصیح الدین تھا اور وہ بھارت کے شہر ڈلہوزی میں پیدا ہوئے تھے۔ عدیم ہاشمی کا شمار اردو کے جدید شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کے متعدد…
-

-

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا عدیم ہاشمی …
کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا عدیم ہاشمی کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا مجھے گھر کاغذی پھولوں سے مہکانا نہیں آتا میں جو کچھ ہوں وہی کچھ ہوں جو ظاہر ہے وہ باطن ہے مجھے جھوٹے در و دیوار چمکانا نہیں آتا میں دریا ہوں مگر بہتا ہوں…
-

کچھ تو مجھے محبوب ترا غم بھی بہت ہے فضل احمد کریم …
کچھ تو مجھے محبوب ترا غم بھی بہت ہے فضل احمد کریم فضلی کچھ تو مجھے محبوب ترا غم بھی بہت ہے کچھ تیری توجہ کی نظر کم بھی بہت ہے اشکوں سے بھی کھلتا ہے وہ دل جو ہے گرفتہ کلیوں کے لیے قطرۂ شبنم بھی بہت ہے ہم خود ہی نہیں چاہتے صیاد…
-

یونہی افزائشِ وحشت کےجو ساماں ہوں گے دل کے سب زخم …
یونہی افزائشِ وحشت کےجو ساماں ہوں گے دل کے سب زخم بھی ہم شکلِ گریباں ہوں گے وجہِ مایوسئ عاشق ہے تغافل ان کا نہ کبھی قتل کریں گے، نہ پشیماں ہوں گے دل سلامت ہے تو صدموں کی کمی کیا ہم کو بے شک ان سے تو بہت جان کے خواہاں ہوں گے منتشر…
-

جاوید نامہ سے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔ ما ترا جوئ…
جاوید نامہ سے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔ ما ترا جوئیم و تو از دیدہ دور نے غلط، ما کور و تو اندر حضور ہم تجھے ڈھونڈ رہے ہیں اور تو آنکھوں سے دور ہے، نہیں نہیں یہ غلط ہے، ہم اندھے ہیں تو تُو سامنے ہے۔ یا کشا ایں پردہء اسرار را یا بگیر…
-

بالِ جبریل عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم …
بالِ جبریل عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوز دمبدم نثر: یہ جذبہ عشق ہی ہے جس کے سبب زندگی میں جوش و خروش پیدا ہوتا ہے اور قوت عمل برقرار رہتی ہے حالانکہ انسان تو محض مٹی کا پُتلا ہےجبکہ جذبہ عشق نے اس مٹی…
-

صد شعر اقبال- فارسی شارح- صوفی غلام مصطفی تبسم (00…
صد شعر اقبال- فارسی شارح- صوفی غلام مصطفی تبسم (001) بے تو از خواب عدم چشم کشودن نتواں بے تو بودن نتواں، با تو نبودن نتواں ( یہ شعر پیام مشرق کی ایک غزل سے لیا گیا ہے۔) اقبال کا یہ شعر عجیب کیفیتوں کا حامل ہے۔ بظاہر بڑا سادہ لیکن پیچیدہ ہے۔ اقبال نے…
-
اس دل کی مصیبت کون سنے جو غم کے مقابل آ جائے کس نے…
اس دل کی مصیبت کون سنے جو غم کے مقابل آ جائے کس نے یہ کہا تھا تنکے سے وہ بجلی سے ٹکرا جائے دنیا کی بہاروں سے آنکھیں یوں پھیر لیں جانے والوں نے جیسے کوئی لمبے قصے کو پڑھتے پڑھتے اکتا جائے آغاز- محبت ہے اور دل یوں ہاتھ سے نکلا جاتا ہے…
-

کرنا ہے اب سفر مجھے تازہ ہوا کے ساتھ گفت و شنید جا…
کرنا ہے اب سفر مجھے تازہ ہوا کے ساتھ گفت و شنید جاری ہےمیری خدا کے ساتھ ممکن ہے آسمان کے سینے کو چیر دیں کچھ سسکیاں روانہ ہو ئی ہیں دعا کے ساتھ اب اس سے بڑھ کے عاجزی کی کیا مثال دوں دفنا دیا ہے زعم کو اندھی انا کے ساتھ اک بوجھ…