فِراقٓ گورکھپُوری یوں نئی زندگی نظر آئی وقت کے د…
فِراقٓ گورکھپُوری
یوں نئی زندگی نظر آئی
وقت کے دِل کی چوٹ بھر آئی
حُسنِ قاتِل کا ہے کہاں تک اثر!
موت کی شکل بھی نِکھر آئی
اِس طرح آج کوئی یاد آیا
جیسے اپنی مجھے خبر آئی
عاشقوں کو خوشی سے کیا، لیکن
یہ بَلا بھی اُنھیں کے سر آئی
اے خَدوخالِ زیست ! میری نِگاہ
ان خطوں میں بھی رنگ بھر آئی
ذرّے ذرّے میں بارہا، اے دوست!
تیری تصوِیر سی، اُتر آئی
میں نے توڑا دَم اِس طرح، کہ فِراقٓ
موت کو زندگی نظر آئی
فراقٓ گورکھپُوری